رسائی کے لنکس

یمن کو القاعدہ سے بچانے کے لیے کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں


یمن کو القاعدہ سے بچانے کے لیے کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں

یمن کو القاعدہ سے بچانے کے لیے کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں


افغانستان پر لندن کانفرنس کے ذریعے طالبان کو القاعدہ سے الگ کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے، جس کے بارے میں مبصرین کا خیال ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کراب بھی امریکہ پر حملے کرسکتی ہے۔ کرسمس کے موقع پر ایک امریکی طیارے کو بم سے اڑانے کی ناکام کوشش کے بعد اس خطرے میں اضافہ ہوا ہے کہ اپنے اندرونی مسائل کی بنا پر یمن القاعدہ کا نیا محفوظ ٹھکانہ بن سکتا ہے۔اس خطرے سے نمٹنے کے لیے امریکہ، نیٹو اورعرب دنیا کو کیا اقدامات کرنے چاہیں۔

یمن میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں بہت سی رکاوٹیں حائل ہیں۔ جن میں ملک میں خانہ جنگی ایک کمزور حکومت، بد ترین معاشی صورتِ حال اور روزگار کی عدم دستیابی شامل ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک کی 42 فیصد آبادی کی یومیہ آمدنی دو امریکی ڈالرز سے بھی کم ہے،یمن میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 30 فیصد ہے۔ اور اس کی 65فیصد آبادی 25 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔

یو ایس اے آئی ڈی کے ایک سابق رکن اور تجزیہ کار گریگوری جانسن کہتے ہیں۔ کہ یہ تمام وجوہات القاعدہ جیسی تنظیموں کو وہاں جگہ بنانے کا موقع دیتی ہیں۔

ان کاکہناہے کہ وہ اپنا ایجنڈا پھیلانے کے لیے ایسا طریقہ اختیار کرتے ہیں، جو ملک کی نوجوان آبادی کو ان کی طرف مائل کرتا ہے۔ وہ خود کو ایسے شخص کے طور پر پیش کرتے ہیں جو ان کے مذہب کی حفاظت کر رہا ہے۔ایسے لوگ ایک انجان حکومت کے مقابلے میں جوچاہے یمنی ہو یا امریکی، عام آبادی میں اپنی پہچان رکھتے ہیں۔ تو جب ہم یمن میں القاعدہ کے مستقبل کی بات کرتے ہیں تو یہ القاعدہ کے لیے مکمل طور پر ایسی جگہ ہے جہاں وہ اپنے نظریات کو پروان چڑھا سکتی ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ یمن میں درپیش مسائل پر نہ صرف وہاں کی حکومت بلکہ امریکہ میں پالیسی سازوں اور یورپی ممالک کو بھی فوری توجہ دینی ہو گی۔ یمن میں یہ مشکلات کئی برسوں سے موجود تھیں مگر صورتِ حال زیادہ خراب تب ہوئی جب یمن میں موجود انتہا پسند تنظیموں کے غیر ملکی تنظیموں سے رابطے ہوئے۔

بروس ریڈل کا تعلق سابان سینٹر فار مڈل ایسٹ پالیسی سے ہے۔وہ کہتے ہیں کہ یمن میں قانون کی حکمرانی کے مسائل تاریخی طور پر موجود رہے ہیں۔ وہاں کی مرکزی حکومتیں کمزور رہی ہیں۔ ہم ایک رات میں یہ سب نہیں بدل سکتے۔جو دستیاب ہے ،ہمیں اُس کے ساتھ کام کرنا ہے ۔یمنی حکومت میں صدر علی عبدلالله صالح ہمارے ساتھ ہیں۔ ہمارے پاس ایک پارٹنر ہے جو کہتا ہے کہ وہ اب ہمارے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں۔تاکہ یہ یقینی بنایا جائے کہ جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کو شکست دی جائے اور یہ وہ ساتھی ہے جس کے ساتھ ہمیں کام کرنا ہو گا۔

مسلم دنیا میں امریکہ کی کمزور ساکھ یمن کے مسائل کے جلد حل میں ایک رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہے ۔ بروس ریڈل کہتے ہیں کہ امریکہ کو بہت احتیاط سے چلنا ہو گا۔ان کا کہنا ہے کہ ایک کام جو ہمیں ہر گز نہیں کرنا چاہیےوہ ہے وہاں فوج بھیجنا۔ یمن کی مشکلات کے لیے میڈ ان امریکہ حل نہیں ہے۔ امریکی لڑاکا فوجوں کو یمن میں ڈالنا تباہ کن ثابت ہو گا۔ہمیں یمنی حکومت کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کی غلطیاں اور کمزوریاں پہچان کر مدد کی جائے۔ ہم انٹیلی جنس سپورٹ دے سکتے ہیں، فوجی سامان دے سکتے ہیں، ہم معاشی مدد فراہم کر سکتے ہیں، ہم دوسرے ملکوں کو شامل کر سکتے ہیں کہ وہ معاشی مدد دیں مگر ہمیں اپنے فوجی وہاں نہیں اتارنے چاہییں۔

القاعدہ صرف یمن کا ہی نہیں بلکہ باقی عرب دنیا کا بھی مسئلہ ہے۔ اس صورت میں عرب ممالک کی طرف سے دی جانے والی امداد یورپ اور امریکہ کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ اور اس سے گلف کوآپریشن کونسل یعنی جی سی سی کے بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

گریگوری جانس کہتے ہیں کہ اگر جی سی سی میں یمنی محنت کشوں کے لیے لیبر مارکٹس پھر سے کھولی جائیں تو یمنی باہر کے ملکوں میں کام کرنے کے لیے جائیں گے۔ جب یمنیوں کو روزگار مل جائے گا تو اس سے غربت اور بے روزگاری کی شرح کو نیچے لایا جا سکے گا۔

ماہرین کا کہناہے کہ یمن میں القاعدہ یا اس کے اتحادیوں کی موجودگی سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہیے کہ یمن القاعدہ کے خلاف نیا میدان جنگ ہے۔ ان کے مطابق القاعدہ کے خطرناک ترین جنگجو آج بھی پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں موجود ہیں۔

XS
SM
MD
LG