رسائی کے لنکس

صومالی ہوٹل پر الشباب کا حملہ، سلامتی کونسل کی مذمت


فائل

فائل

سکیورٹی کونسل کے اراکین نے صومالیہ میں امن و استحکام کے لئے اپنی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے، کہا کہ ’اس طرح کے حملے امن کے لئے ہمارے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے‘

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اتوار کو صومالی مسلح گروہ کی جانب سے میدگوری ہوٹل حملے کی سخت مذمت کی ہے، جس میں ہوٹل کے مالک، ایک ملٹری کمانڈر اور ایک قانون ساز سمیت کم ازکم 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

جوابی کارروائی میں تمام مسلح حملہ آوروں کو ہلاک کرنے پر سیکورٹی کونسل نے صومالی فوج کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’دہشت گردی اپنی تمام صورتوں میں عالمی امن کے لئے سنگین خطرہ ہے‘۔

سیکوریٹی کونسل کے اراکین نے صومالیہ میں امن و استحکام کے لئے اپنی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اس طرح کے حملے امن کے لئے ہمارے اس عزم کو کمزور نہیں کر سکتے‘۔

حکام کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے اتوار کی صبح صحافی ہوٹل کے استقبالیہ پر کار بم کا دھماکہ کیا جس کے بعد مسلح بندوق برداروں نے حملہ کردیا۔ یہ ہوٹل اعلی سرکاری حکام اور تجارتی شخصیات میں کافی مقبول ہے۔

صومالی سیکورٹی کے وزیر، عبدلرازق عمر محمد نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ حملہ آور برونڈی فوج کے یونیفارم میں تھے، جبکہ برونڈی وہ ملک ہے جو افریقی یونین مشن میں شامل ہے اور اس کے فوجی صومالیہ میں امن مشن میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

محمد کے بقول، ’کار میں سوار ایک حملہ آور نے ہوٹل کے سامنے والے گیٹ کو نشانہ بنایا، جس کے فوری بعد، الشباب کے پانچ دیگر مسلح باغی ہاتھوں میں اے کے 47 اور ہنڈگرنیڈ لے کر آگے بڑھے‘۔

بقول اُن کے، ’ان کا مقصد ہوٹل میں مقیم لوگوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانا تھا جن میں زیادہ تر سرکاری حکام، اراکین پارلیمنٹ اور وزراء شامل تھے، اور بدقسمتی سے صومالی سیکورٹی فورسز اس وقت انھیں فوری روکنے میں ناکام رہیں۔‘

ہوٹل کے باہر 20 منٹ کے وقفے سے ہونے والے دوسرے دھماکے بعد سکیورٹی فورسز کو مسلح افراد سے ہوٹل خالی کرانے میں کافی وقت لگا۔ کسی بھی حملہ آور کی شناخت نہیں ہوسکی۔ لیکن، تحقیقات جاری ہے‘۔

ہلاک شدگان میں جنرل عبدالکریم یوسف دھاگابدان ایک سابق فوجی کمانڈر تھے جنھوں نے اگست 2011ء میں موغادیشو سے الشباب کو نکال باہر کرنے میں جارحانہ کردار ادا کیا تھا۔ وہ الشباب کے کئی حملوں میں محفوظ رہے تھے۔

الشباب کے ترجمان، شیخ عبدالعزیز ابو مسعود نے اتوار کو جاری ہونے والے ایک بیان میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

حالیہ مہینوں کے دوران، الشباب نے افریقی یونین کے تین ممالک کی امن فوج کی موجودگی میں موغادیشو کا یہ دوسرا ہوٹل دھماکے سے اڑایا اور صدارتی محل کے میدان میں دھماکہ کیا۔

اس گروپ نے جنوبی صومالیہ کا بشتر علاقہ 2010ء سے اپنے کنڑول میں لیا ہوا تھا۔ لیکن، افریقی یونین اور صومالی سرکاری افواج نے انھیں ملک کے دوردراز علاقوں میں دھکیل دیا ہے۔ تاہم، مسلح گروہ اب بھی مسلسل حملے کر رہا ہے، جس میں وہ عموماً سرکاری حکام اور افریقی یونین کے فوجیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

یہ گروہ ملک پر سخت اسلامی قوانین مسلط کرنا چاہتا ہے، اورکسی بھی جرم پر مسلسل سر قلم کرنے اور سنگسار کرنے کی سزا دے رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG