رسائی کے لنکس

وسطی لندن سے ملحقہ علاقے وائٹ چیپل کی ایڈلر اسٹریٹ پر واقع اس چھوٹے سے باغ کو نوجوان 'التاب علی' کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔

لندن کا قدیم تاریخی پس منظر دنیا بھرکےسیاحوں کے لیے ہمیشہ سے دلچسپی کا باعث رہا ہے۔

سیاحت کا شوق رکھنے والے ناصرف لندن کےتاریخی مقامات، وسیع و عریض شاہی باغات ، قدیم اور جدید طرز تعمیر کی شاہکارعمارتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں بلکہ انھیں شہر کی متنوع تہذیب و ثقافت کو بھی قریب سےدیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

اگرچہ لندن میں بسنے والی تمام قوموں کی ثقافتیں علاقوں، لسانی گروہوں اور عقائد کی بنیاد پر جدا جدا نظر آتی ہے لیکن لندن کی آغوش میں کچھ اس طرح سمائی ہوئی ہیں کہ لندن کی پہچان کا حصہ معلوم ہوتی ہیں۔

ایسے ہی مقامات میں لندن کے ایک تاریخی باغ کے مرکزی دروازے پر لگا وہ سائن بورڈ ہے جو راہگیروں خصوصاً سیاحوں کے تجسس میں اضافہ کر تا ہے۔



وسطی لندن سے ملحقہ علاقے 'وائٹ چیپل' کی ایڈلر اسٹریٹ پر واقع ایک چھوٹے سے باغ کو نوجوان 'التاب علی' کے نام سے منسوب کیا گیا ہے ۔


التاب علی پارک کے بارے میں حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق اسی جگہ پر 4 مئی 1978 کو ایک 25 سالہ بنگلہ دیشی نوجوان' التاب علی' کو نوجوانوں کے ایک گروپ نے نسل پرستی کی بنیاد پر حملے کا نشانہ بنایا تھا ۔

التاب علی ایک فیکٹری میں ملازمت کرتا تھا اور مقامی انتخابات سے ایک روز قبل رات میں جب التاب علی واپس گھر جا رہا تھا تو راستے میں اسے تین نوجوانوں نے گھیر لیا اور چاقو سے پے در پے وار کر کے قتل کر دیا تھا ۔

کہا جاتا ہے کہ یہ وہ دور تھا جب مشرقی لندن میں دائیں بازو کی انتہا پسندانہ رجحان پایا جاتا تھا، خاص طور پر وائٹ چیپل جسے لندن میں، بنگلہ دیشی تارکین وطن کا مسکن سمجھا جاتا ہے سخت کشیدگی پائی جاتی تھی لیکن التاب علی کے قتل پر ہزاروں مقامی لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور نسلی تشدد کے خلاف باقاعدہ ایک تحریک چلائی جس کے نتیجے میں انتہا پسند جماعت نشنل فرنٹ کو وائٹ چیپل سے جانا پڑا اور بنگالی کمیونٹی کو پھر سے اس علاقےمیں اپنی شناخت برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔


تاریخی حوالے سے التاب علی پارک کا پس منظرسترہویں صدی میں 'سینٹ میری میٹ فیلن کلیسا 'سے جا ملتا ہے آج جس جگہ پر پارک واقع ہے یہ زمین کئی صدیوں پہلےاسی کلیسا کی ملکیت تھی جس کے نام کی مناسبت سےعلاقےکووائٹ چیپل کا نام دیا گیا تھا۔

دوسری جنگ عظیم میں لندن پر جب بھاری بمباری ہوئی تو کلیسا کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی جسے بعد میں منہدم کر دیا گیا لیکن تاریخی کلیسا کےمرکزی دروازے کے پتھر، پانی کا چشمہ اور گزرگاہوں کو محفوظ کر لیا گیا تھا جو آج بھی یہاں موجود ہیں۔

گذشتہ برس التاب علی پارک کی ازسرنو تزئین و آرائش کرنے کے بعد اسے 12 مارچ ء 2012 کو پھر سے عوام کے لیےکھول دیا گیا ہے ۔

پارک کے مرکزی دروازے پر التاب علی اوردیگر نسلی تشدد کا نشانہ بننے والوں کی یادگار کے طور پر ایک گنبد تعمیر کیا گیا ہے جو بنگالی طرز تعمیر سے ہم آہنگ ہے ساتھ ہی دروازے کےدونوں کناروں پرموجود بڑے بڑے پتھرعہد پارینہ کی یاد تازہ کرتے ہیں مجموعی طور پر یہ دروازہ بنگالی ثقافت اوربرطانوی ثقافت کے ملاپ کو ظاہر کرتا ہے۔

پارک کی آرائش میں سنگ مر مر کے بینچز ، پرانے درختوں کے بڑے بڑے سوکھے تنے اور قدیم عمارتوں کے پتھروں کو جگہ جگہ اس ترتیب سے رکھا گیا ہے کہ یہ پارک قدیم اور جدید عہد کا ملاپ معلوم ہوتا ہے ۔

پارک کی گزرگاہیں وہی صدیوں پرانی ہیں جنھیں ازسرنو بحال کیا گیا ہے البتہ دیودار کے درختوں کے ساتھ سر سبز گھاس ہے۔

پارک کی تاریخی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس بات کا بھی خاص خیال کھا گیا ہے کہ مقامی آبادی اپنے بچوں کے ساتھ یہاں شامیں گزارے، اسی مقصد سے یہاں بچوں کے لیے ماربل کا ایک کیرم بورڈ بھی نصب کیا گیا ہے ۔

پارک میں موجود ایک علاقہ مکین ارشاد علی نے وی او اے سے گفتگو میں بتایا کہ ،التاب علی پارک میں ہر سال ’التاب‘ کی برسی کے روز خصوصی دعائیہ تقریب منعقد کی جاتی ہے جبکہ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت بھی پارک کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ لندن کا التاب علی پارک نا صرف بنگالی کمیونٹی بلکہ دیگر اقلیتی قوموں کے تحفظ کی بھی علامت تصور کیا جاتا ہے ۔
XS
SM
MD
LG