رسائی کے لنکس

انتخابات کی تاریخ میں توسیع کی جائے: الطاف حسین

  • کراچی

دوسری طرف، اُنھوں نے ریٹرنگ افسران کی جانب سے امیدواروں سے کیے گئے سوالات پر بھی سخت تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ جانچ پڑتال کے دوران تمسخرانہ سوالات سے امیدواروں کی تذلیل ہو رہی ہے

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما الطاف حسین نے کہا ہے کہ 15000 کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال ایک ہفتے میں ناممکن ہے، بہتر ہے کہ الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ میں 15 دن سے ایک ماہ کی توسیع کر دے۔

پاکستان میں آئندہ انتخابات کیلئے 11 مئی کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

الطاف حسین کا یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے پہلے انہوں کاغذات نامزدگی کی تاریخ میں بھی توسیع کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے کاغذات نامزدگی کے وقت میں دو دن کی توسیع کر دی گئی تھی۔

الطاف حسین کے بقول، الیکشن کی تاریخ آگے بڑھا نے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

جمعہ کو 90 پر لندن سے ٹیلی فونک پریس کانفرنس کے دوران الطاف حسین نے ریٹرنگ افسران کی جانب سے امیدواروں سے کیے گئے سوالات پر بھی سخت تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ جانچ پڑتال کے دوران تمسخرانہ سوالات سے امیدواروں کی تذلیل ہو رہی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ امیدواروں کے سوالات کسی صورت بھی آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ (صادق اور امین) ہونے کے ضامن نہیں۔

الطاف حسین نے مثال دی کہ بعض ریٹرننگ افسران امیدواروں سے سوالات کرتے ہیں کہ آپ کی کتنی بیویاں ہیں، آپ کو لڑکے پسند ہیں یا لڑکیاں، ایک خاتون کی عمر پر اعتراض کیا گیا کہ آپ تو 35 سال کی نہیں لگتیں، پورا چہرہ دکھائیں، ایک اور خاتون امیدوار کے شوہر سے کہا گیا کہ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کی بیگم اسمبلی میں آنے کے بعد گھر کے کام کاج نہیں کر سکیں گی۔

ایم کیو ایم کے قائد نے یہ بھی کہا کہ امیدواروں سے دعائے قنوت اور نماز جنازہ کا طریقہ بھی پوچھا جا رہا ہے۔

انہوں نے چیف الیکشن کمشنر سے کہا کہ وہ ٹی وی پر آ کر ایسا متفقہ نماز جنازہ پڑنے کا طریقہ بتادیں جو تمام مسالک کیلئے قابل قبول ہو۔

انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کو تجویز دی کہ تمام جماعتوں سے ایک، ایک ایسا رکن منتخب کیا جائے جسے مذہبی معاملات پر دسترس حاصل ہو اور ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے جو ریٹرننگ افسران سے مذہبی سوالات کریں اور جو افسر سوالات کا جواب نہ دے سکے اسے اس کے عہدے سے ہٹا دیا جائے۔

ایم کیو ایم کے قائد نے سپریم کورٹ اور آئندہ آنے والی پارلیمنٹ سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ نظریہ پاکستان کی مشترکہ وضاحت کی جائے۔ گزشتہ روز ایک کالم نویس کے کاغذات نامزدگی اس لئے مسترد کر دیئے گئے کہ انہوں نے نظریہ پاکستان سے متعلق اپنے کالم میں کچھ سوالات اٹھائے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر کسی کو سوالات کرنے کا حق ہے اور کسی کو اس بنا پر انتخابات سے باہر نہیں کیا جا سکتا۔

الطاف حسین نے سپریم کورٹ سے بھی اپیل کی کہ دہری شہریت میں جن لوگوں نے رضا کارانہ طور پر استعفیٰ دے دیا تھا انہیں دوبارہ قانونی پیچیدگیوں میں نہ الجھایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک پاکستانی، ملک کا اثاثہ ہیں اور ان کا ملکی ترقی میں اہم کردار ہے۔ انہیں حق رائے دہی کا اختیار ہونا چاہیے۔

انہوں نے ایک بار پھر کراچی میں حد بندیوں کو متحدہ کا مینڈیٹ کچلنے کی سازش قرار دیتے ہوئے اسے غیرآئینی قرار دیا اور کہا کہ کراچی میں اس عمل سے احساس محرومی پیدا ہو گا، کوئی بھی اپنے ملک سے علیحدگی نہیں چاہتا لیکن ایسے اقدامات بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG