رسائی کے لنکس

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ چونکہ الطاف حسین نے پیر کو سپریم کورٹ سے معافی مانگ لی ہے، لہٰذا وہ اس جانب سے بے فکر ہو کر اب تمام تر توجہ اپنے ’ڈرون حملے‘ پر دیں گے

متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کی جانب سے اعلان کردہ ’سیاسی ڈرون حملے‘ میں تاخیر ہوگئی ہے۔ پیر کے روز الطاف حسین نے بذات خود اس بات کا اعلان کیا کہ ان کے سیاسی ڈرون حملے میں ایک یا 2 دن کی تاخیر ہوسکتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ڈرون حملے کیلئے مطلوبہ ہرچیز تیار ہے بس حملے کیلئے چند ایک ’پرزے درکار‘ ہیں جو امید ہے کہ آج کل میں مل جائیں گے۔

الطاف حسین نے ہفتہ 5جنوری کو بیان دیا تھا کہ وہ اگلے 72گھنٹوں میں ایک’ سیاسی ڈرون حملہ‘ کریں گے جس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہوگا، لہٰذا عوام خود کو ذہنی طور تیار کرلے۔

الطاف حسین کے اس بیان کے بعد تو گویا سیاسی ایوانوں ، سیاسی بیٹھکوں یہاں تک کہ گلی محلوں اور مساجد میں بھی سیاسی ڈرون حملے سے متعلق’ تکے ‘مارے جانے لگے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ چونکہ الطاف حسین نے پیر کو سپریم کورٹ سے معافی مانگ لی ہے، لہٰذا وہ اس جانب سے بے فکر ہو کر اب تمام تر توجہ اپنے ’ڈرون حملے‘ پر دیں گے ۔

الطاف حسین اپنی جماعت کے کارکنوں سے اس حملے کے بعد سامنے آنے والے رد عمل کے لئے بھی تیار رہنے کا حکم دے چکے ہیں۔ لیکن، یہ حملہ کس طرح کا ہوگا، اس کے بارے میں کسی کو کچھ پتا نہیں۔یہاں تک کہ ایم کیو ایم کے کنوینر فاروق ستارکا بھی یہی کہنا ہے کہ حملہ ’خوش گوار حیرت‘ ہوگا۔عوام کے ساتھ ساتھ پاکستان کا پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا بھی یہ جاننے میں دلچسپی رکھتا ہے آخر یہ ڈرون ہوگا کس نوعیت کا ؟

آج الطاف حسین کی جانب سے سپریم کورٹ میں مانگی جانے والی معافی سے یہ قیاس آرائیاں بھی دم توڑ گئی ہیں کہ یہ حملہ عدلیہ کے خلاف ہوسکتا ہے ورنہ خود ایم کیوایم کے سینیٹر طاہر حسین مشہدی کا کہنا تھا کہ یہ حملہ عدلیہ کے خلاف ہوسکتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس حملے سے عدلیہ پر کوئی حرف نہیں آتا۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے سینیٹر پرویز رشید نے ایم کیو ایم کے اس بیان کو پیپلز پارٹی کے لئے ’ویک اپ کال‘ قرار دیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم حکمراں اتحاد سے علیحدہ ہوجائے گی۔لیکن، صرف وفاق کی حد تک۔

پی پی کے سینیٹر سعید غنی اس بیان کو پراسرار بیان قرار دے رہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہےکہ ایسے موقع پر جبکہ ملک میں عام انتخابات ہونے والے ہیں ، یہ بیان ان کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ سیاسی ڈرون حملہ توہوسکتا ہے تاہم اعلیٰ عدلیہ پر الطاف حسین کوئی ڈرون حملہ نہیں کریں گے۔

عوامی نیشنل پارٹی کی رکن قومی اسمبلی بشریٰ گوہر کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہئیے کہ وہ ’غیر ملکیوں ‘کی جانب سے دیئے جانے والے اس طرح کے بیانات کے خلاف ایکشن لے۔ الطاف حسین کے پاس دہری شہریت ہے ۔ اس طرح کے بیانات ،پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہیں۔

یہ تمام بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب الطاف حسین کی جانب سے دی جانے والی 72گھنٹے کی ٹائم لمٹ منگل کوپوری ہورہی تھی۔ تاہم، اب انہوں نے اس میں ایک سے دو دنوں کی تاخیر کا اعلان کیا ہے۔
XS
SM
MD
LG