رسائی کے لنکس

انسانی دماغ پھلوں کی مکھی کے دماغ سے گہری مشابہت رکھتا ہے


پھلوں کی مکھی

پھلوں کی مکھی

فلوریڈا کے علاقے جیوپیٹر میں قائم سکرپس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سائنس دان اس بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ انسانی ذہن میں یاداشت کا عمل کس طرح انجام پاتا ہے۔ اس لیبارٹری میں کسی چمپنزی، یا کتے یا کسی چوہے پر تجربات نہیں کیے جارہے، جوایسے جانور ہیں جو چیزوں کو یاد رکھ سکتے ہیں ، بلکہ وہاں پھلوں پر منڈلانے والی عام مکھیوں پر تجربات کیے جارہے ہیں۔

ادارے کے ایک ماہر ران ڈیویس کہتے ہیں کہ یہ مکھیاں نسبتاً سادہ ہوتی ہیں۔ انسانی دماغ پر تحقیق کے سلسلے میں ان مکھیوں کے دماغوں پرتجربات اس لیے موزوں دکھائی دیتے ہیں کہ ان کے دماغوں میں لگ بھگ ایک لاکھ اعصاب(نیوران) ہوتے ہیں۔ جب کہ ایک انسانی دماغ میں ان اعصاب کی تعداد لگ بھگ ایک کھرب ہوتی ہے۔انسانی دماغ میں اعصاب کی اتنی کثیر تعداد کے باعث ان کو پرکھنا اور سمجھنا بہت دشوار ہے۔اس کے مقابلے میں ان مکھیوں کا دماغ بہت سادہ ہے۔

سکرپس فلوریڈا میں قائم ڈیپارٹمنٹ آف نیوروسائنس کے چیئرمین ڈیویس نے ایک تجربے میں پھلوں پر منڈلانے والی مکھیوں کو بجلی کے ایک جھٹکے سے منسلک ایک بو یاد کرناسکھائی۔

وہ کہتے ہیں کہ مکھیوں نے یہ سیکھ لیا کہ یہ بوبری ہے کیونکہ انہیں اس بوکی موجودگی میں ایک ناخوشگوار اور تکلیف دہ تجربے سے گذرنا پڑاتھا۔

اس کے بعد یہ جاننے کے لیے کہ ان مکھیوں کو وہ بو کتنی زیادہ یاد ہے، انہیں ایک اور تجربے سے گذارا گیا۔ ڈیویس کہتے ہیں کہ 90 فی صد مکھیوں نے اس بو کو یاد رکھا اور بجلی کے جھٹکے سے خود کو بچایا۔

ماہرین پھلوں پر منڈلانے والی مکھی کے دماغ کو ہٹا کر، ایسی حالت میں کہ وہ بدستور کا م کررہا ہے ایک مائیکر اسکوپ میں رکھ کر اس کا جائزہ لےسکتے ہیں۔ وہ ان مختلف امور انجام دینے والے اعصاب کو الگ کر سکتے ہیں اور انہیں متحرک کر کے یہ جائزہ لے سکتے ہیں کہ وہ کس طرح دوسرے اعصابوں کو سگنل بھیجتے ہیں ۔

ماہرین نے پھلوں کی ان عام مکھیوں کو مخصوص بو یاد رکھنےکی تربیت دینے اور یہ جان لینے کے بعد کہ ان کے دماغ کے مختلف اعصاب کیا کیا امور انجام دیتے ہیں،ان اعصاب کا جائزہ لیا جو بجلی کے شاک سے منسلک بو کو یاد نہیں رکھتے تاکہ اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے کہ پیغام بھیجنے کے عمل میں جینز کا کیا عمل دخل ہوتاہے ۔

ڈیویس کہتے ہیں کہ پھلوں کی ان مکھیوں کے دماغ میں انسان جیسے ہی جین ہوتے ہیں ،بس صرف ان کی تعداد انسانوں کے جینز سے کم ہوتی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ ان مکھیوں پر تجربات کے نتائج کو انسانوں پر منطبق کرنا آسان ہے۔

ڈیویس کہتے ہیں کہ اگر ہم ان مکھیوں میں کسی ایسے جین کا سراغ لگالیں جو یاداشت جیسے کسی عمل کے لیے اہم ہوتو ہم اس جین کی مدد سے چوہوں یاانسانوں میں اسی طرح کے کسی جین کا پتا لگاسکتے ہیں۔ کیونکہ ان میں بہت زیادہ مماثلت ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں چاہے آپ مانیں یا نہ مانیں لیکن حقیقت یہ ہے ہم پھلوں کی مکھی سے بہت زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔

پھلوں کی مکھیوں کی زندگی کادورانیہ ، لیبارٹری میں تجربات کے لیے استعمال کیے جانے والے دوسرے جانوروں مثلاً چوہوں،یا بندروں کی نسبت بہت چھوٹا ہوتا ہے۔چونکہ ان مکھیوں میں افرائش کا عمل ہر دو ہفتے کے بعد ہوتا ہے اور ایک سال میں مکھیوں کی کئی نسلوں پر تحقیق کی جاسکتی ہے۔ اس لیے ان پر ماہرین اپنا جینیاتی مطالعہ بڑی تیزی سے کرسکتے ہیں۔اور کیونکہ یہ مکھیاں بہت چھوٹے سائز کی ہوتی ہیں اس لیے ہزاروں مکھیوں کو بڑی آسانی سے اور بہت کم خرچ پلاسٹک کے جاروں میں رکھا جاسکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم اعصابی بیماریوں کی بہت سی قسموں مثلاً الزائمر، پارکنسن ،اور نفسیاتی بیماریوں مثلاً شیزو فرینیا، بائے پولر کا مرض ، اے ڈی ایچ ڈی، آٹزم وغیرہ ، تو ان سب بیماریوں میں ایک مشترک چیز یہ ہے کہ یہ عمومی طورپر سیکھنے کے عمل کی خرابیوں سے منسلک ہیں۔ اور اعصابی اور نفسیاتی بیماریوں میں سے زیادہ تر میں حافظے کی خرابی کا عمل دخل ہوتا ہے۔

ڈیویس اور ان کی ٹیم کوتوقع ہے کہ ان کی تحقیق کے نتیجے میں کوئی ایسی دوا تیار ہوسکے گی جو دماغ کو سیکھنے اور یاداشت سے منسلک بیماریوں سے مقابلے میں مدد دے سکے گی۔وہ کہتے ہیں کہ جب ہم یہ بنیادی مسئلہ حل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے کہ سیکھنے کا عمل کس طرح انجام پاتا ہےتو ہمارے ہاتھ میں ان بیماریوں کے علاج کی کلید آجائے گی۔

XS
SM
MD
LG