رسائی کے لنکس

یہ اشتہار ایک مسلمان امام اور عیسائی پادری کے درمیان دل کو چھو لینے والا دوستی کے رشتے کو ظاہر کرتا ہے جو ایمیزون کا پرائم ایپ استعمال کرتے ہوئے ایک دوسرے کے لیے سرپرائز تحفہ خریدتے ہیں۔

کرسمس تہوار ایک ایسا وقت ہے جب بین الاقوامی معروف برانڈز اور کمپنیوں کی طرف سےخاص کرسمس کے لیے نئے ٹی وی اشتہارات جاری کیے جاتے ہیں لیکن اس سال ایمیزون( آن لائن مصنوعات فروفت کرنے والی کمپنی) کے نئے اشتہار نے بازی مار لی ہے، جو یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ ہمیں تہوار کے موقع پر ایک دوسرے کا زیادہ خیال رکھنا چاہیئے۔

اس بات سے قطع نظر کہ اشتہار میں کاروباری پہلو نمایاں ہے لیکن ایمیزون کے اس نئے اشتہار نے دلوں کو چھوا ہے، جس کا سادہ سا پیغام یہ ہے کہ مذہبی اختلافات کے باوجود تمام لوگ ایک دوسرے کے دوست ہو سکتے ہیں۔

ایمیزون نے بلیک فرائیڈے اور کرسمس کی خریداری سے قبل امریکہ، برطانیہ اور جرمنی میں ایک نیا ٹی وی اشتہار جاری کیا ہے جس میں ایک امام اور پادری کو تحائف کا تبادلہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

کمپنی کی طرف سے ایک ایسے وقت میں بین المذہب دوستی کا پیغام دیا گیا ہے جب برطانیہ میں بریگزٹ اور امریکہ میں حالیہ صدراتی الیکشن کے بعد نفرت پر مبنی واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

آن لائن خوردہ فروش کمپنی ایمیزون کے مطابق اشتہار میں پادری کے کردار میں نظر آنے والے شخص لندن کے ایک چرچ کے پادری ہیں جبکہ امام کا کردار ایک مسلم اسکول کے پرنسپل نے نبھایا ہے۔

یہ اشتہار ایک مسلمان امام اور عیسائی پادری کے درمیان دل کو چھو لینے والا دوستی کے رشتے کو ظاہر کرتا ہے جو ایمیزون کا پرائم ایپ استعمال کرتے ہوئے ایک دوسرے کے لیے سرپرائز تحفہ خریدتے ہیں۔

نئے اشتہار کی کہانی امام اور پادری کی چائے کی ایک ملاقات سے شروع ہوتی ہے اور ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف عقائد سے تعلق رکھنے والے دو پرانے دوستوں کے درمیان طویل عرصے بعد ملاقات ہوئی ہے لیکن اب دونوں کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ جوانی کی طرح پھرتیلے نہیں رہے ہیں۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں کو اس بات کا احساس بھی ہوتا ہے کہ اب ان کا دوست گھٹنے کے درد سے اٹھنے بیٹھنے میں پریشانی محسوس کرتا ہے۔

دوست کو الودع کہنے کے بعد پادری امام کی زندگی میں آرام لانے اور اس کے کام کو آسان بنانے کے لیے کچھ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے لیکن پادری کو یہ علم نہیں ہوتا ہے کہ گھر سے نکلتے ہی امام کے دل میں بھی اپنے دوست کی مدد کا خیال آیا ہے۔

ادھر پادری ایمیزون پر اپنے دوست کے لیے ایک تحفے کا آرڈر کرتا ہے اور دوسری طرف امام بھی اپنے دوست کے لیے ایک تحفہ پسند کرتا ہے۔

اگلے دن دونوں کو ایمیزون کا باکس ملتا ہے اور دونوں کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر جاتی ہے کیونکہ انھوں نے ایک دوسرے کے لیے ایک ہی تحفہ یعنی گھٹنوں کے لیے آرام دہ پیڈ خریدا تھا۔

آخر میں دونوں کو اپنی اپنی عبادت گاہوں میں عبادت کرتے ہوئے د کھایا گیا ہے اور وہ اپنے دوست کے ایک چھوٹے سے تحفے کی بدولت زمین پر گھٹنے ٹیکنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔

ایمیزون کی اس کوشش کو میڈیا اور سماجی روابط کے صارفین کی طرف سے سراہا گیا ہے جس میں تہوار کے موقع پر ایک دوسرے کے چہرے پر خوشیاں بکھیرنے اور امن لانے کی بات کی گئی ہے۔

اس اشتہار کے حوالے سے امام علامہ جنید نے وائس آف امریکہ سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایمیزون نے رواداری کا پیغام دیا ہے جس کی آج ہمیں سب سے زیادہ ضرورت اور میں ذاتی طور پر اس کوشش کی تعریف کرتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ اس اشتہار کا کوئی منفی پہلو نہیں ہےجس پر تنقید کی جائے۔

دارلحکومت لندن میں پاکستانی کمیونٹی کے سب سے بڑے ضلع والتھم فاریسٹ کی مسجد غوثیہ کے امام علامہ جنید نے کہا کہ اسلام احترام انسانیت کا سبق دیتا ہے اور ایک ایسا مذہب انسانوں کے ساتھ برا سلوک کرنے کی اجازت کیسے دے سکتا ہے لہذا ہر وہ عمل جس سے لوگوں کی دل میں محبت اور قربت پیدا ہو وہ اسلام کی تعلیمات کے عین مطابق ہے.

اور ہمارے نزدیک کرسمس کے موقع پر اپنے ہمسائیے اور دوستوں کو پھول یا کارڈ اور تحائف کی صورت میں مبارکباد دینے میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بریگزٹ کے بعد برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف عدم رواداری کی ایک لہر پیدا ہوئی ہے اور مسلمان خود کو الگ تھلگ محسوس کر رہے ہیں اور ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک ایسا ماحول بنانے کی کوشش کی جائے جہاں کم ازکم اچھے لوگوں کی سوچ کو منفی نا ہونے دیا جائے اس سلسلے میں رواداری کی ایک عمدہ مثال ہر سال ہمارے میلاد شریف میں دیکھی جاتی ہےجس میں مقامی رکن پارلیمان ،کونسلرز ،پولیس افسران سمیت علاقے کے چرچ کے پادری حضرات اور دیگر مذہبی برداریوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو مسجد میں آنے کی دعوت دی جاتی ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG