رسائی کے لنکس

سرکاری بیان کے مطابق سفیر جلیل عباس جیلانی نے پاکستان اور امریکہ کے دفاعی مشاورتی گروپ کے اجلاس میں ہونے والی پیش رفت سے متعلق وزیراعظم کو آگاہ کیا۔

امریکہ میں پاکستان کے سفیر جلیل عباس جیلانی نے پیر کو اسلام آباد میں وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات سے متعلق اُمور پر بات چیت کی گئی۔

ایک مختصر سرکاری بیان کے مطابق سفیر جلیل عباس جیلانی نے پاکستان اور امریکہ کے دفاعی مشاورتی گروپ کے اجلاس میں ہونے والی پیش رفت سے متعلق وزیراعظم کو آگاہ کیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے پاکستان اور امریکہ کے دفاعی مشاورتی گروپ کا اجلاس واشنگٹن میں ہوا تھا۔

اس اجلاس میں پاکستانی وفد کی سربراہی سیکرٹری دفاع لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) محمد عالم خٹک نے کی جبکہ امریکی وفد کی قیادت انڈر سیکرٹری برائے دفاع کرسٹین وارمتھ نے کی تھی۔

ایک مشترکہ اعلامیے کے مطابق دونوں ملکوں نے دفاع کے شعبے میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا تھا۔

تجزیہ کار اے زیڈ ہلالی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ دونوں ملک تعلقات میں بہتری کے خواہاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں مگر بہت سے معاملات میں پاکستان امریکہ پر زیادہ انحصار کرتا ہے، خصوصاً مالی معاونت کے شعبے میں۔

’’پانچ چھ ایسے شعبے ہیں جن میں پاکستان امریکہ پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ پاکستان کبھی نہیں چاہتا کہ تعلقات میں اتار چڑھاؤ آئے اور وہ مدوجزر کا شکار ہوں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں پاکستان کے کردار پر امریکہ کی جانب سے عدم اطمینان کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات تناؤ کا شکار رہے مگر پاکستان کی کوشش ہے کہ امریکہ کی طرف سے فوجی اور فنی تعاون میں کوئی رکاوٹ نہ آئے اور امریکہ ہماری ضروریات پوری کرے خصوصا انسداد دہشت گردی سے متعلق کارروائیوں میں۔

واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی طرف سے کیے گئے اخراجات کی ادائیگی اتحادی اعانتی فنڈ کے ذریعے کی جاتی ہے۔

گرشتہ ہفتے ہونے والے اجلاس میں سلامتی کے شعبے میں تعاون، خاص طور پر اتحادی اعانتی فنڈ اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام کے لیے کی جانے والی کارروائیوں پر بھی بات چیت کی گئی۔

XS
SM
MD
LG