رسائی کے لنکس

امریکہ کا 238واں یوم آزادی: میلے، تقریبات، جشن


اِس موقع پر پریڈ، پکنک، آتش بازی کے مظاہرے، نمائشیں اور موسیقی کی محافل منعقد ہو رہی ہیں؛ جب کہ جمعے کی رات نیشنل مال پر آتش بازی اور محفل موسیقی کی ایک شاندار تقریب منعقد ہوگی

امریکہ بھر میں جمعے کے روز ملک کی برطانیہ سے آزادی کی 238ویں سالگرہ روایتی جوش و خروش سے منائی جا رہی ہے۔ اِس موقع پر پریڈ، پکنک، آتش بازی کے مظاہرے، نمائشیں اور موسیقی کی محافل منعقد ہو رہی ہیں۔

واشنگٹن میں منعقد ہونے والے4 جولائی کے جشن کی تقریبات میں تاریخی ڈرامے بھی پیش کیے جا رہے ہیں، جن میں ملک کی تاریخی شخصیات کے کردار کو اجاگر کیا جارہا ہے، جن میں تھومس جیفرسس، بینجامن فرینکلن اور جان ایڈمز شامل ہیں، جو اعلانِ آزادی پڑھیں گے۔

سینئر پروڈیوسر، صفیہ کاظم کی خصوصی رپورٹ سننے کے لیے آڈیو پر کلک کیجئیے:

جمعے کی رات نیشنل مال پر آتش بازی اور محفل موسیقی کی ایک شاندار تقریب منعقد ہوگی۔ تقریب میں فرینکی ویلی، پتی لابیل، مائیکل مک ڈونالڈ، دِی مَپیٹس اور نیشنل سمفنی آرکیسٹرا نمایاں ہوں گے۔

تاہم، ایسے میں جب سمندری طوفان ’آرتھر‘ کے مشرقی ساحل سے ٹکرانے کی پیش گوئی کی گئی ہے، خراب موسم لاکھوں امریکیوں کے جشن کے پروگرام میں حائل ہوسکتا ہے۔

تفنن طبع کی خاطر عرض ہے کہ اعلان آزادی 32 برس عمر کے تھومس جیفرسن نے تحریر کیا، جِن کے ہاں غلام تھے۔ وہ بعد میں امریکہ کے تیسرے صدر بنے۔

جیفرسن نے تحریر کیا: ’ہم ان حقائق کو خوب واضح کرتے ہیں کہ سارے لوگ برابر پیدا ہوتے ہیں، اُنھیں اپنے خالق کی طرف سے اُنھیں کچھ لاینفک حقوق عطا کیے گئے ہیں، جِن میں زندگی، آزادی اور خوشی کی جستجو شامل ہیں۔‘

جیفرسن ہی غلام رکھنے والے واحد شخص نہیں تھے جنھوں نے اس دستاویز پر دستخط کیے۔ اعلان آزادی پر دستخط کرنے والے ایک تہائی افراد، جن کا تعلق شمال اور جنوب سے تھا، یا تو اُن کے غلام تھے یا اُن کے ہاں غلام ہوا کرتے تھے۔ پہلے امریکی صدر، جارج واشنگٹن کے 100 سے زیادہ غلام تھے۔ ایڈمز، جو امریکہ کے دوسرے صدر اور واشنگٹن کے نائب صدر غلامی کے سخت خلاف تھے۔

یہ معاملہ تب تک حل نہ ہوسکا جب تک خانہ جنگی ختم نہ ہوئی، یعنی اعلان آزادی پر 1776ء میں دستخط ہوئے، جب کہ خانہ جنگی تقریباً 80 سال بعد ختم ہوئی۔

XS
SM
MD
LG