رسائی کے لنکس

معذور امریکی بچے کو کامیاب پیوندکاری سے نئے ہاتھ مل گئے


نئے ہاتھ حاصل کرنے والا بچہ زائن ہاروی پریس کانفرنس کے دوران مسکرا رہا ہے۔

نئے ہاتھ حاصل کرنے والا بچہ زائن ہاروی پریس کانفرنس کے دوران مسکرا رہا ہے۔

چالیس ڈاکٹروں پر مشتمل ایک ٹیم نے سٹیل پلیٹوں اور پیچوں کی مدد سے زائن کی ہڈیوں، رگوں اور شریانوں کو نئے ہاتھوں سے جوڑا۔ جب خون عطیہ کیے گئے ہاتھوں میں گردش کرنا شروع ہو گیا تو پھر ڈاکٹروں نے پٹھوں اور اعصاب کو آپس میں جوڑا۔

امریکہ کے ایک اسپتال نے اعلان کیا ہے کہ آٹھ سالہ زائن ہاروی کامیاب پیوندکاری کے ذریعے دو ہاتھ حاصل کرنے والا دنیا کا کم عمر ترین مریض بن گیا ہے۔

فلاڈیلفیا کے بچوں کے اسپتال میں سرجنوں نے اس ماہ زائن ہاروی کا انتہائی پیچیدہ اور دس گھنٹے طویل آپریشن کیا۔ تاہم اس کا اعلان اسی ہفتے کیا گیا ہے۔

چالیس ڈاکٹروں پر مشتمل ایک ٹیم نے سٹیل پلیٹوں اور پیچوں کی مدد سے زائن کی ہڈیوں، رگوں اور شریانوں کو نئے ہاتھوں سے جوڑا۔ جب خون عطیہ کیے گئے ہاتھوں میں گردش کرنا شروع ہو گیا تو پھر ڈاکٹروں نے پٹھوں اور اعصاب کو آپس میں جوڑا۔

ہاتھ عطیہ کرنے والے خاندان نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا۔

اس سے قبل زائن ہاروی کے دونوں ہاتھ اور پیر انفیکشن کے باعث کاٹنا پڑے تھے اور انہیں نیا گردہ بھی لگانا پڑا تھا۔ انہوں نے بغیر ہاتھوں کے کھانا، لکھنا اور وڈیو گیمز کھیلنا بھی سیکھ لیا تھا۔ چلنے پھرنے کے لیے وہ مصنوعی ٹانگیں استعمال کرتے ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زائن چند ہفتے تک صحتیابی کے لیے اسپتال میں گزاریں گے، جس کے بعد انہیں بالٹیمور کے قریب اپنے گھر واپس بھیج دیا جائے گا۔

حالیہ برسوں میں امریکہ میں کئی افراد کے دونوں ہاتھوں اور دونوں بازوؤں کی پیوندکاری کی جا چکی ہے۔

ہاتھ یا پاؤں کسی حادثے کے نتیجے میں جسم سے علیحدہ ہو جائے تو اسے چند گھنٹوں کے اندر دوبارہ جسم سے جوڑا جا سکتا ہے۔ اسی طرح وفات پانے والے کسی شخص کے ہاتھوں، پیروں اور جسم کے دیگر اعضا مثلاً گردوں، جگر، آنکھیں، دل وغیرہ فوری طور پر کسی زندہ انسان کو لگائے جا سکتے ہیں جس کے یہ اعضا ناکارہ یا بیمار ہو چکے ہوں۔ تاہم ایسا چند گھنٹوں کے اندر کرنا ضروری ہے کیونکہ دیر ہونے کی صورت میں اعضا قابل استعمال نہیں رہتے۔

XS
SM
MD
LG