رسائی کے لنکس

بھارتی آئی ٹی کمپنی کا امریکہ میں دس ہزار روزگار پیدا کرنے کا منصوبہ


انفاسیز ایچ ون بی ویزہ پروگرام سے سب سے زیادہ حصہ حاصل کرنے والی کمپنیوں میں شامل ہے۔ پچھلے دو سال کے دوران اس نے امریکہ 15 ہزار سے زیادہ اپنے کارکن بھیجے، اگرچہ اس سال ان کی کئی ویزہ درخواستیں مسترد کر دی گئی تھیں۔

بھارت میں قائم ایک ٹیکنالوجی کمپنی انفاسیزنے منگل کے روز کہا کہ وہ امریکہ میں روزگار کے 10 ہزار نئے مواقع پیدا کرے گی۔

امریکہ کے ایچ ون بی ویزے کا سب سے زیادہ استعمال کرنے والی کمپنی انفاسیز ہی ہے۔ امریکی حکومت یہ ویزہ ان غیرملکیوں کارکنوں کو جاری کرتی ہے جو کسی شعبے میں اعلی مہارت رکھتے ہوں۔

امریکی ویزہ پروگرام کے ناقدین کاکہنا ہے کہ غیرملکی کمپنیوں کو امریکی کارکنوں کی ملازمتوں کے لیے قیمت چکانی پڑتی ہے۔ لیکن عمومی طور پر غیرملکی کمپنیاں اپنے عارضی کارکنوں کو ایک ہی نوعیت کے کام کے لیے امریکی کارکنوں کے مقابلے میں کم معاوضہ ادا کرتی ہیں ۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے' سب سے پہلے امریکہ' کے وعدے کے ایک حصے کے طور پر سرکاری اداروں کو یہ حکم دیا کہ وہ ویزہ پروگرام پر نظر ثانی کریں ۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ میں صرف انہی غیر ملکی کارکنوں کو لانا چاہتے ہیں جو سب سے اچھے ہوں۔ صدر غیرملکیوں کے پاس امریکی ملازمتیں جانے اور غیر قانونی تارکین وطن کا داخلہ روکنے کی اپنی مہم کے سلسلے میں امیگریشن قوانین میں اصلاحات بھی کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے اصلاحاتی منصوبے کے تحت ایچ ون بی ویزہ صرف ان غیرملکی کارکنوں کو دیا جائے گا جو اپنے شعبے کے ماہر ہوں اور مقابلتاً زیادہ تنخواہیں لیتے ہوں۔ ان کے اس پروگرام سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی غیر ملکی کمپنی انفاسیز ہی ہے۔

امریکی سیٹیزن اینڈ امیگریشن سروسز، جو ویزے کی درخواستوں کی چھان بین کرتی ہے، کہا ہے کہ ہر سال85 ہزار ایچ ون بی ویزے جاری کیے جاتے ہیں جن میں سے تقریباً 70 فی صد ویزے بھارت کو مل جاتے ہیں۔ اور ان میں آدھے سے زیادہ انفاسیز جیسی ٹیکنالوجی کی کمپنیاں حاصل کر لیتی ہیں۔جس کے بعد وہ اپنے کارکن امریکی کمپنیوں کو آؤٹ سورس کر دیتی ہیں۔

انفاسیز ایچ ون بی ویزہ پروگرام سے سب سے زیادہ حصہ حاصل کرنے والی کمپنیوں میں شامل ہے۔ پچھلے دو سال کے دوران اس نے امریکہ 15 ہزار سے زیادہ اپنے کارکن بھیجے، اگرچہ اس سال ان کی کئی ویزہ درخواستیں مسترد کر دی گئی تھیں۔

اس پروگرام کے تحت بیرون ملک پیدا ہونے والے کارکنوں کو اسپانسر کمپنی تین سال کے لیے ملازم رکھ سکتی ہے جس کے بعد وہ اپنے قیام میں توسیع کی درخواست سے سکتے ہیں۔

انفاسیز نےکہا ہے کہ وہ اگلے دو سال کے دوران 10 ہزار امریکی کارکن ملازم رکھیں گی، جس کے لیے وہ ٹیکنالوجی چار سینٹر کھولے گی جن میں سے پہلا مرکز ریاست انڈیانا میں قائم کیا جائے گا ۔

انفاسیز کے چیف ایکزیکٹو ویشال سیکا نے خبررساں ادارے روئیٹر ز کو بتایا کہ حقیقت یہ ہےکہ وہ مقامی ٹیلنٹ کے ساتھ اس دور کابہترین عالمی ٹیلنٹ شامل کررہے ہیں ۔ اس چیز کا قواعد اور ویزوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG