رسائی کے لنکس

امریکی امداد کی بندش ایک جوا ہو گی، تجزیہ کار

  • گیری تھامس

امریکی امداد کی بندش ایک جوا ہو گی، تجزیہ کار

امریکی امداد کی بندش ایک جوا ہو گی، تجزیہ کار

اوباما انتظامیہ نے کہا ہے کہ کہ وہ پاکستان کی کروڑوں ڈالر کی فوجی امداد اور اس کے فوجی اخراجات کی ادائیگی معطل کر دے گی۔ عام خیال یہی ہے کہ اس اقدام کا اصل مقصد یہ ہے کہ پاکستان کی حکومت کے رویے کے بارے میں اعلیٰ سطح پر امریکی حکومت کی نا پسندیدگی کا اظہار کیا جائے ۔ لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم اتحادی کے خلاف یہ ایک ایسا اقدام بھی ہے جس کے خطرناک نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں۔

دوستانہ حکومتوں کے درمیان اختلافات کو عام طور سے کھلے عام سامنے نہیں لایا جاتا اور عام لوگوں کو ان کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب صلح صفائی ہو جاتی ہے۔لہٰذا اوباما انتظامیہ کا یہ فیصلہ کہ اسلام آباد کے ساتھ سفارتی نا راضگی کے اظہار کے طور پر تقریباً 80 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد روک لی جائے ، خاصی غیر معمولی بات ہے ۔

امریکی محکمۂ خارجہ میں پالیسی سازی کے سابق عہدے دار، Daniel Markey جو آجکل کونسل آن فارن ریلیشنز سے وابستہ ہیں، کہتے ہیں کہ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات خرابی کی طرف مائل ہیں ۔ ان کے الفاظ ہیں:

“یہ یقیناً اس بات کی علامت ہے کہ تعلقات تیزی سے خراب ہو رہے ہیں، اور میرے خیال میں واشنگٹن کی طرف سے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ لیکن یہ دباؤ اتنا زیادہ نہیں ہے کہ واقعی کوئی تعمیری تبدیلی آ سکے ۔ یہ تو غصے کا اظہار معلوم ہوتا ہے جس سے تعلقات اور زیادہ نیچے کی طرف جا سکتے ہیں۔”

گذشتہ سال پاکستان کے لیے کل امریکی امداد ساڑھے چار ارب ڈالر تھی جس میں سے نصف فوج کو ملی۔ Daniel Markey کہتے ہیں کہ انتظامیہ نے شاید اندازہ لگا لیا تھا کہ کانگریس کی طرف سے جہاں پاکستان کی امداد کم کرنے کی تحریک زور پکڑ رہی ہے، کوئی اقدام کیا جانے والا ہے ۔ ان کے الفاظ ہیں:

“کانگریس میں یہ احساس موجود ہے کہ پاکستان کا طرزعمل مثبت نہیں ہے۔ لہٰذا اس احساس کے پیش نظر کہ اگر انتظامیہ نے امداد میں کمی نہ کی تو امریکی کانگریس ایسا ہی اقدام کرے گی، اوباما انتظامیہ نے پیسے کی ادائیگی ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستانیوں کا خیال ہے کہ اس میں کچھ پیسہ وہ ہے جو وہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں پہلے ہی خرچ کر چکے ہیں اور یہ پیسہ انہیں مل جانا چاہیئے۔”

لیکن یو ایس آرمی وار کالج کے پروفیسر Larry Goodson کہتے ہیں کہ اسلام آباد کی امداد روکنا ایک جوا ہے کیوں کہ افغانستان میں نیٹو اور امریکی فوجوں کے لیے بیشتر سازو سامان پاکستان کے زمینی راستوں سے ہو کر جاتا ہے ۔ ان کے الفاظ ہیں:

“اس طرح ہم نے بہت بڑا خطرہ مول لیا ہے ۔ ہماری سپلائی کی لائنیں ان کے کنٹرول میں ہیں۔ ماضی میں ہم نے واضح طور پر دیکھا ہے کہ جب وہ ہم سے نا خوش ہوئے ہیں، تو ہماری سپلائی لائنوں پر حملے ہوئے ہیں۔”

امریکہ کو شکایت ہے کہ پاکستان نے افغان سرحد کے ساتھ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنے کے لیئے کافی اقدامات نہیں کیے ہیں اور اس نے پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس سروسز سے زیادہ تعاون کا مطالبہ کیا ہے ۔ لیکن امریکی عہدے دار وں نے پرائیویٹ طور پر اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اگر پاکستان کو انٹیلی جنس کی معلومات فراہم کر دی گئیں تو یہ معلومات عسکریت پسندوں تک پہنچ جائیں گی۔پاکستان کی حکومت، اور خاص طور سے پاکستانی فوج کو اس وقت شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب انہیں اطلاع دیے بغیر، امریکہ نے ایبٹ آباد کے شہر پر چھاپہ مارا اور اسامہ بن لادن کی ہلاک کر دیا۔

حال ہی میں امریکہ کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئر مین، ایڈمرل مائک ملن نے کھلے عام حکومت پاکستان پر ایک پاکستانی صحافی کو اغوا کرنے، اذیتیں دینے، اور قتل کرنے کا الزام عائد کیا۔ اس صحافی نے انٹیلی جنس سروسز پر تنقید کی تھی۔ اسلام آباد نے اس الزام کو ناراضگی کے ساتھ مسترد کر دیا اور کہا کہ یہ بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ ہے ۔

1980 کی دہائی میں افغانستان میں سوویت روس کے خلاف مزاحمت کو منظم کرنے میں پاکستان امریکہ کا اہم اتحادی تھا لیکن سوویت فورسز کے چلے جانے کے بعد، امریکہ نے پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کی وجہ سے اس پر بعض پابندیاں عائد کر دیں۔ Larry Goodson کہتے ہیں کہ اس وجہ سے پاکستان میں آج بھی امریکہ کے خلاف ناراضگی موجود ہے ۔ ان کے الفاظ ہیں:

“پاکستان کی نظر میں امریکہ ایسا اتحادی یا شراکت دار ہے جس پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا ۔ ہم بار بار یہ کرتےہیں کہ ان سے وہ چیزیں کراتے ہیں جو وہ کرنا نہیں چاہتے، اور پھر ہم انہیں بیچ منجدھار میں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں ۔ پاکستانیوں کا امریکہ کے بارے میں یہ خیال ہے اور یہ مکمل طور سے بلا جواز نہیں ہے۔”

Goodson کہتے ہیں کہ فوجی امداد کی معطلی سے پاکستان میں جو جذبات پیدا ہوئے ہیں، ہو سکتا ہے کہ ان کے نتیجے میں بعد میں امریکہ کو پچھتانا پڑے کیوں کہ جب ہمسایہ ملک افغانستان میں سیاسی تصفیے کی بات چیت شروع ہوگی، تو توقع یہی ہے کہ پاکستان ان میں کوئی کردار ادا کرنا چاہے گا۔

XS
SM
MD
LG