رسائی کے لنکس

امریکی امداد کاترقیاتی مقاصد پر استعمال یقینی بنایا جائے: ہلری کلنٹن



امریکہ دنیا کے کئی ممالک کو اپنے مسائل سے نمٹنے کے لیے امداد دیتا ہے۔ امریکی وزیر ِ خارجہ ہلری کلنٹن کا کہنا ہے کہ اوباما انتظامیہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ جس کو امداد فراہم کی جائے ، اس کا استعمال وہاں کے ترقیاتی کاموں پر ہو۔

امریکی وزیر ِ خارجہ ہلری کلنٹن غیر ملکی امداد کے حوالے سے اکثر گفتگو کرتی رہی ہیں مگریہ پہلا موقعہ تھا کہ ان کی تقریر کا واحد موضوع ہی غیر ملکی امداد تھی ۔انہوں نے پیٹرسن انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اکنامکس میں خطاب کرتے ہوئے ترقیاتی کاموں کوامریکہ کے امدادی منصوبوں میں بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت تک دنیا سے دہشت گردی یا تشدد پسندانہ خیالات کا خاتمہ نہیں کر سکتے جب تک کہ دنیا میں لاکھوں کی تعداد میں افراد بے روزگار و مایوس ہوں اور انہیں ترقی کے مواقع میسر نہ ہوں۔ ہم ایک مستحکم معیشت قائم نہیں کر سکتے جب تک لاکھوں کارکن اور ان کے خاندانوں کو اس سے فائدہ نہیں پہنچ رہا ، اور وہ جدید ٹیکنالوجی تک رسائی سے محروم ہیں۔

اوباما انتظامیہ نے پہلے ہی دیگر ملکوں کو دی جانے والی غیر فوجی امداد کو2012 تک پچاس ارب ڈالرزسالانہ تک بڑھانے کا عندیہ دیا ہے۔مگر امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ عالمی ترقی کے لئے کام کرنے والے امریکی ادارے کو دنیا کا سب سے بہترین ترقیاتی ادارہ بنایا جائے گا۔امریکی وزیر ِ خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی امدادی اداروں کو امداد کے درست استعمال کو یقینی بنانے پر بھی زور دینا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ یمن جیسے دہشت گردی کا سامنا کرتے ملک یا پھر ہیٹی جیسے خوراک کی قلت کے شکار ممالک میں معاملات درست کرنے میں وقت درکار ہے مگر ان کے لیے کچھ نہ کرنا زیادہ نقصان کا باعث بنے گا۔ ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ ایک ملک میں کام کرنے کا طریقہ دوسرے ملک میں کارگر ثابت نہیں ہو سکے گا۔ لہذا ہماری توجہ ہر ملک کے مسائل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پالیسی بنانے پر ہونی چاہیئے۔

ہلری کلنٹن نے صدر بش کے زمانے میں شروع کیے جانے والے دو اداروں کو بھی خراج ِ تحسین پیش کیا۔ میلینیئم چیلنج کارپوریشن کا مقصد ان ممالک کو مالی امداد فراہم کرنا ہے جو حکومت چلانے کے لیےٹھوس حکمت ِ عملی بناتے ہیں اور پپفیر نامی تنظیم جس نے ایڈز کے خاتمے کے لیے بہت سے ممالک بالخصوص افریقہ میں مفت ادویات تقسیم کیں۔ انکا یہ بھی کہنا تھا کہ اس ضمن میں خواتین کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

امریکی وزیر خارجہ ن کہا کہ خواتین کے لیے کام کرنا امریکہ کے مفاد میں ہی نہیں بلکہ میری ذاتی دلچسپی کا معاملہ ہے جس پر میں پچھلی چار دہائیوں سے کام کر رہی ہوں۔ مگر خواتین کے ضمن میں، میں الفاظ کی بجائے عمل پر یقین رکھتی ہوں۔ میں یقینی بناوں گی کہ ہماری حکومت اور خارجہ پالیسی خواتین کی ترقی کی حمایت کرے اور ان کے حقوق کے معاملے میں دیرپا اور بامعنی نتائج حاصل کرنے کی کوشش کرے۔

ہلری کلنٹن کا کہنا ہے کہ وہ امریکی امدادی کوششوں کو سیاسی وجوہات کے بجائے سفارتکاری اور فوجی آپریشنز سے منسلک کرنے کی کوشش کر رہی ہیں ۔ انکا کہنا تھا کہ ترقیاتی، دفاعی اور سفارتی معاملات کو مل جل کر آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG