رسائی کے لنکس

امریکی کھلاڑیوں کو اخلاقی اقدار کی تربیت بھی دی جاتی ہے

  • کیرولین پرسیوٹی

امریکی کھلاڑیوں کو اخلاقی اقدار کی تربیت بھی دی جاتی ہے

امریکی کھلاڑیوں کو اخلاقی اقدار کی تربیت بھی دی جاتی ہے

کھلاڑیوں سے عموما اس بات کی توقع کی جاتی ہے کہ وہ نا صرف کھیل کے دوران بلکہ عام زندگی میں بھی اعلی کردار کا مظاہرہ کریں ۔ اسی لیے اگر کسی کھلاڑی کو کھیل کی بنیادی اخلاقیات کے منفی حرکت کرتے ہوئے پایا جائے تو اس پر شدید ردعمل دیکھنے کو ملتا ہے۔ جیسےحال ہی میں پاکستان میں کرکٹ کے کھلاڑیوں پر بد عنوانی یا میچ فکسنگ الزامات کے بعد ملک بھر میں کرکٹ کے شائقین نے شدید احتجاج کیا۔امریکہ میں سکول اور کالج کے کھلاڑیوں کو اس حوالے سے خصوصی تربیت دینے کا اہتمام کیا جا رہا ہے ۔

ناتانیا ذکر کی عمر نو سا ہے اور باسکٹ بال کھیلتی ہیں۔ لیکن انہیں کھیل کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت کچھ سیکھنا پڑتاہے۔ نا تانیا کے کوچ انھیں کھیل کی اخلاقی اقدار کے بارے میں بھی سمجھا تے ہیں۔

ناتانیا کی والدہ جینیٹ ذکر کہتی ہیں کہ اس عمر میں وہ سب سے زیادہ سیکھ سکتے ہیں، آپ انھیں صحیح اور غلط کے بارے میں بتا سکتے ہیں۔

کھیل کے ساتھ ساتھ کھیل کی اقدار اور اخلاقیات اس ایتھلیٹ یونین کا خاصہ ہے جسے کوچ اینڈی چلا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے کھلاڑی میدان میں اور میدان سے باہر دونوں جگہ کامیابی حاصل کریں۔

وہ کہتے ہیں کہ کھیل میں وہ ان اخلاقیات کو بھی سیکھیں گے جنھیں وہ اپنی پیشہ وارانہ زندگی میں بھی استعمال کریں گے اور صحیح فیصلے کر پائیں گے۔

لیکن بعض اوقات جب کھیل بڑا اور مہنگا ہو تو بچپن میں سیکھا گیا یہ سبق بھول جاتا ہے۔ جاپان میں ساٹھ سومو ریسلر کا سٹہ بازی میں ملوث ہونا ہو یا ٹور دی فرانس سائیکل ریس اور انڈیا میں ہونے والی کامن ویلتھ گیمز میں کھلاڑیوں کا ڈوپ ٹیسٹ میں پکڑے جانا۔ یا پھر بین الاقوامی کرکٹ میں پاکستانی کھلاڑیوں کا میچ فکسنگ کا سکینڈل ، کھیل کی اقدار گرتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔

تھامس مرے کارکردگی میں اضافہ کرنے والی ادویات کے حوالے سے لکھتے رہے ہیں۔ سکائپ کے ذریعے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کھیل میں سبقت لے جانے کی کوشش میں کھلاڑی بعض اوقات ایسی حرکتیں کر جاتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ وہ سوچتے ہیں کہ اگر انھوں نے ڈرگس نہیں لیں اور دوسرے کھلاڑی نے لے لی تو وہ آگے نکل جائیں گے۔ اگر وہ اچھے کھلاڑی بھی ہوں تو بھی ہار کا ڈر ان سے یہ کام کروا دیتا ہے۔

مرے کا کہنا ہے کہ کہیں بھی ممنوعہ ادویات کا استعمال اچھا نہیں سمجھا جاتا لیکن اب یہ بین الاقوامی کھیلوں میں یہ رجحان جا رہا ہے۔

اولمپکس کے دوران روس کے ایک ویٹ لفٹر نے یونانی کھلاڑی کا میڈل اتار کر پھینک دیا ۔ ایک امریکی کھلاڑی کو ممنوعہ ادویات کے استعمال کے بارے میں جھوٹ بولنے پر 6 تمغوں سے محروم ہونا پڑا اور 6 مہینے قید کی سزا سنائی گئی۔ میچ فکسنگ کے الزامات پر پاکستانی کرکٹرز کو تا حال بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے پر پابندی کا سامنا ہے۔

امانڈا وائسیک کھیل اور نفسیات کے مضامین پڑھاتی ہیں۔ ان کا کہنا کہ کہ کھلاڑی اپنے آپ کو کچھ سمجھنے لگتے ہیں اور رسوائی سے نہیں ڈرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس لیے کھیل کے میدان میں ان کی اخلاقی اقدار گر جا تی ہیں۔ کھیل کے دوران وہ ایسے کام کر جاتے ہیں جو وہ اپنی عام زندگی میں شاید کبھی نہ کریں۔

کوچ اینڈی کاکہنا ہے کہ نوجون کھلاڑیوں کے لیے احتیاط سکول سے ہی شروع کی جانے چاہیے۔ تاکہ وہ ایک بڑے کھلاڑی کے طور پر اخلاقی طور پر مضبوط اور کامیاب رہیں۔

XS
SM
MD
LG