رسائی کے لنکس

امریکی تمام مسلمانوں کا ملک میں داخلہ بند نہیں کرنا چاہتے: سروے


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

بدھ کو جاری ہونے والے جائزے میں معلوم ہوا کہ جائزے میں شریک 51 فیصد افراد شامی پناہ گزینوں کو امریکہ میں داخل نہیں ہونے دینا چاہتے جبکہ 43 فیصد افراد اس پالیسی کی حمایت کرتے ہیں۔

ایک نئے جائزے کے مطابق امریکیوں کی اکثریت شامی پناہ گزینوں کا امریکہ میں داخلہ بند کرنا چاہتی ہے مگر اکثر لوگ رپبلیکن صدارتی نامزدگی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی اس تجویز سے اتفاق نہیں کرتے کہ مسلمانوں کا امریکہ میں داخلہ بند کر دینا چاہیئے۔

بدھ کو کوینی پیک یونیورسٹی کی طرف سے جاری ہونے والے ایک جائزے میں معلوم ہوا کہ جائزے میں شریک 51 فیصد افراد شامی پناہ گزینوں کو امریکہ میں داخل نہیں ہونے دینا چاہتے جبکہ 43 فیصد افراد اس پالیسی کی حمایت کرتے ہیں۔ اوباما انتظامیہ اگلے ایک سال کے دوران کم از کم 10,000 شامی پناہ گزینوں کو امریکہ میں پناہ دینے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

تاہم دو تہائی افراد نے ٹرمپ کی اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا کہ تمام مسلمانوں کا امریکہ میں داخلہ بند کر دیا جائے۔ ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے 79 فیصد افراد نے کہا کہ وہ اس تجویز کی مخالفت کرتے ہیں جبکہ رپبلیکن پارٹی کے 51 فیصد اور کسی پارٹی سے تعلق نہ رکھنے والے 67 فیصد افراد نے کہا کہ وہ اس تجویز کی مخالفت کرتے ہیں۔

کوینی پیک یونیورسٹی میں جائزے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ٹم میلوئے نے کہا کہ ’’امریکی ووٹر شامی پناہ گزینوں اور عمومی طور پر مسلمانوں کے درمیان تفریق کرتے ہیں۔‘‘

جائزے میں شریک 52 فیصد امریکی ووٹروں نے عراق اور شام میں داعش سے جنگ کے لیے زمینی فوج بھیجنے کی حمایت کی جبکہ 40 فیصد نے اس تجویز کی مخالفت کی۔

جائزے میں شریک 27 فیصد افراد نے کہا کہ امریکہ کو شدت پسندوں کے خلاف جنگ کی قیادت کرنی چاہیئے جبکہ 66 فیصد کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اتحاد کا حصہ ہونا چاہیئے مگر اس کی قیادت نہیں کرنی چاہیئے۔

داخلی امور پر اکثر شرکا نے کہا کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ’’بہت فکر مند‘‘ یا ’’کچھ فکرمند‘‘ ہیں جبکہ 69 فیصد نے کہا کہ وہ چاہیں گے کہ اگلا صدر عالمی حدت سے نمٹنے کی پالیسیوں کی حمایت کرے۔

امریکہ کے اسلحے کے قانون پر امریکیوں کی رائے یکساں طور پر منقسم تھی۔ اگرچہ 55 فیصد افراد نے کہا کہ امریکہ میں اسلحہ خریدنا بہت آسان ہے، 50 فیصد افراد نے اسلحے کے سخت قوانین کی مخالفت کی جبکہ 47 نے ان کی حمایت کی۔

کوینی پیک یونیورسٹی کے جائزے میں 16 سے 20 دسمبر کے درمیان 1,140 افراد کی رائے جاننے کے لیے ان سے سوالات پوچھے گئے۔

XS
SM
MD
LG