رسائی کے لنکس

عرب دنیا کی سیاسی تبدیلیاں امریکی مسلمانوں کے مفاد میں ہیں: امام فیصل عبدالرؤف


عرب دنیا کی سیاسی تبدیلیاں امریکی مسلمانوں کے مفاد میں ہیں: امام فیصل عبدالرؤف

عرب دنیا کی سیاسی تبدیلیاں امریکی مسلمانوں کے مفاد میں ہیں: امام فیصل عبدالرؤف

امام فیصل عبدالرؤف نیویارک میں گراونڈ زیرو کے قریب متنازع اسلامک سینٹر کے حوالے سے امریکی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ امام فیصل امریکہ میں بین المذاہب کوششوں کے سلسلے میں بھی اپنی پہچان رکھتے ہیں۔ وائس آف امریکہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ عرب دنیا میں آنے والے انقلاب سے امریکی مسلمانوں کو فائدہ ہو گا۔ اور امریکی مسلمانوں کے حوالے سے امریکی ایوان نمائندگا ن میں ہونے والی سماعتیں امریکہ اور مسلم دنیا کے تعلقات کے حوالے سے نئی سمت کا تعین کریں گی۔

ایوان نمائندگان کی سماعتوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان سماعتوں نے ایک اہم مسئلے کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے کہ آنے والے وقت میں امریکہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں کے ساتھ کیسے تعلقات رکھے گا۔ مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ دنیا میں تبدیلی کی خواہشات جنم لے رہی ہیں۔ انسانیت اپنے تمام رنگوں کے ساتھ ایک ہونے کی تک و دو میں ہے۔ پچھلے سال نیو یارک میں اسلامک سینٹر کی تعمیر پر اٹھنے والا تنازعہ اور اس پر رد عمل ہو یا تیونس مصر ، لیبیا، بحرین اور اومان جیسے ممالک میں تبدیلی کی لہر کا خیر مقدم۔ یہی وہ اجتماعی رواداری کی سوچ کی مثال ہے جو امریکہ کو ممتاز کرتی ہے۔

ان کا کہناتھا کہ میرے غیر مسلم دوستوں کا کہنا ہےکہ کسی بھی مذہب کو ٹارگٹ کرنا غلط ہے۔ ، ہر مسلمان کو دہشت گرد کے طور پر دیکھنا بھی غلط ہے۔ یہ امریکی اقدار کے خلاف ہے۔ اور پیٹر کنگ کی ان سماعتوں نے لوگوں میں ایک غلط نظریے کو جنم دینے کی کوشش کی ہے۔ اس مظاہرے کا خیال مقامی یہودی رہنما مارک شنئیر کو آیا تھا۔ جن کے ساتھ ہم مسجدوں اور یہودی عبادت گاہوں میں رابطے کا کام کررہے ہیں۔ میرے خیال سے یہ سماعتیں امریکہ میں اسلام اور مسلمانوں کی موجودگی اور اس معاشرے میں ان کی حیثیت ایک امریکی مسلمان کے طور پر واضح کریں گی۔ ہم مسلمان دہشت گردی کی مخالفت کرتے ہیں۔ اور تمام مسلمانوں کو شک کی نظر سے دیکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

امام فیصل گراونڈ زیرو کے مقام پر مجوزہ اسلامک سینٹر کی تعمیر کے حوالے سے بھی تنقید کا نشانہ بنے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تنازع مکمل طور پر سیاسی نوعیت کا تھا۔

اسلامک سینٹر کی موجودہ صورت حال کے بارے میں ان کا کہناہے کہ ہمارا خواب زندہ ہے اور ہم اسے بہترین طریقے سے حقیقت میں ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کا مشورہ ہے کہ ہم اس سینٹر کو ایک مختلف اور بڑی جگہ پر منتقل کر دیں۔ جہاں تمام مذاہب کو لوگوں کو ساتھ لے کر چلا جا سکے۔

تنازع کے پس منظر کے بارے میں ان کا کہناتھا کہ میرے خیال سے یہ تنازعات قطعی طور پر سیاسی نوعیت کے تھے۔ کچھ لوگوں نے اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ۔ مڈٹرم الیکشن کے باعث ایسا ہوا۔ لوگوں نے تو صدر اوباما کے مسلمان ہونے کے دعوے بھی کیے اور اسلامو فوبیا کا پتہ استعمال کیا گیا ۔ جبکہ نیو یارک کے میئر بلوم برگ نے بھی کہا کہ یہ ہلچل نومبر 3 کے بعد ختم ہو جائے گی۔ اور ایسا ہی ہوا۔

عرب ممالک کے اپنے دورے کے دوران وہاں تبدیلیوں کی لہر کے بارے میں اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے بحرین میں دیکھا کہ کچھ فرقوں کے لوگ خوش نہیں تھے ۔ مصر میں بھی نوجوانوں میں ایک بہتر مستقبل کی امنگ تھی ۔

ان تبدیلیوں کے بارے میں ان کا کہناتھا جو تبدیلی ہم نے مصر میں دیکھی اس میں مختلف مذاہب کے لوگ مل کر آگے آئے۔ تحریر سکوائر میں مسلمانوں نے قرآن اور عیسائیوں نے صلیب اٹھا کر مل کر احتجاج کیا۔ سب لوگوں کی مانگ آزادی تھی۔ اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ مسلمان ملکوں میں بھی لوگ جمہوریت چاہتے ہیں۔ اور جب مسلمان ملکوں میں جمہوریت پروان چڑھے گی تو القائدہ کے خطرات کم ہوں گے۔کیونکہ القاعدہ انھیں حکومتوں کے عوام کو استعمال کرتی رہی ہے جو اپنے لوگوں کی ضروریات پوری نہیں کر سکے۔ تو ان ملکوں میں جمہوریت آنے سے باقی دنیا کے لوگ مسلمانوں کو جمہوریت پسند اور اجتماعی رواداری کے احساس کے ساتھ دیکھیں گے۔ اور یہاں بسنے والے مسلمانوں کے لیے یہ بہت فائدہ مند ہوگا۔ کیونکہ جو کوششیں ہم یہاں کر رہے ہیں وہ مسلمان دنیا میں بھی دکھ رہی ہیں۔ امریکی مسلمان ، امریکہ اور مسلمان دنیا کے درمیان ایک مکالمہ ساز کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ یہاں بسنے والے مسلمانوں کے دوست ، رشتہ دار ان ملکوں میں موجود ہیں۔ اور وہ ان سے رابطے میں ہیں۔ تو امریکی آزادی حق رائے کی اقدار ان ملکوں تک بھی پہنچ پائیں گی۔

XS
SM
MD
LG