رسائی کے لنکس

امریکہ میں آباد پاکستانی اسلام کے تشخص کو بہتر بنانے کی کوشش کررہے ہیں


امریکہ میں آباد پاکستانی اسلام کے تشخص کو بہتر بنانے کی کوشش کررہے ہیں

امریکہ میں آباد پاکستانی اسلام کے تشخص کو بہتر بنانے کی کوشش کررہے ہیں

نائین الیون کے بعد سےدنیا کے بعض میڈیا چینلز اسلام کو ایک مخصوص رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ اور جب کبھی کہیں دہشت گردی کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو اسے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اسلام سے جوڑنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ اسلام کے بارے میں پھیلائے جانے والے منفی تاثر کے مقابلے کے لیے امریکہ میں آباد مسلمان کوششیں کررہےہیں۔

گذشتہ دنوں نیویارک ٹائمز سکوائر میں ہونے والے واقعہ کے نتیجے میں پاکستانی نژاد امریکی فیصل شہزاد کی گرفتاری کے بعد سے امریکہ میں ایک مرتبہ پھر مسلمانوں اور بطور ِ خاص پاکستانیوں کے تشخص کو ٹھیس پہنچی ہے۔ 11 ستمبر 2001 ءکے بعد سے دنیا بھر کے مسلمان اور بطور ِ خاص امریکہ میں بسنے والے مسلمان یہ اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اسلام دہشت گردی کے بجائے امن اور رواداری کا درس دیتا ہے۔

مغرب کی جانب سے بھی مذہبی رواداری بڑھانے کی کوششیں ہو رہی ہیں اور گذشتہ برس مصر میں صدر اوباما کا مسلم امہ سے خطاب اہل ِ اسلام اور مغرب کے درمیان نئے رابطوں اور نئے رشتے استوار کرنے کے حوالے سے خیرسگالی کے طور پر دیکھا گیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ میں آپکی اور مصر کے لوگوں کی مہمان نوازی کے لیے ممنون ہوں اور آپ لوگوں تک امریکی عوام کا جذبہ ِ خیر سگالی پہنچانے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے مسلمانوں پر سلامتی بھیجنا چاہتا ہوں۔ السلام علیکم۔
مبصرین کے مطابق امریکہ اور اہل ِ اسلام کے درمیان تعلقات میں سرد مہری اور تلخی کی فضا ختم کرنے میں وقت لگے گا۔ وہیں دوسری جانب امریکہ میں سرگرم پاکستانی ، پاکستان کے تشخص کے ساتھ ساتھ اسلام کے صحیح پیغام کو بھی اہل ِ امریکہ پر واضح کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اسلام کے فلاح کے پیغام کو سمجھ سکیں۔

واشنگٹن کے تھنک ٹینک وڈرو ولسن میں ہونے والی ایک نشست میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی کولمبیا بکس کی ایڈیٹر مدیحہ وارث شاہ نے پاکستان کا روشن پہلو اجاگر کرنے کی کوشش کی تاکہ ٹائمز سکوائر جیسے واقعے کے بعد امریکیوں کے دلوں میں پاکستانیوں اور اسلام سے متعلق پیدا ہونے والے منفی جذبات میں کمی لائے جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر پاکستان کی 97 فیصد آبادی مسلمان ہے جبکہ اقلیتیں کم ہیں۔ پاکستان میں امدادی تنظیموں کو زیادہ تر امداد مسلمانوں سے ملتی ہےجو زکواةٰ کی شکل میں ہوتی ہے۔ لہذا اسے آپ اسلامی امداد کہہ سکتے ہیں۔
اسلام میں زکواة ایک اہم رکن ہے۔ جس کا مقصد غریبوں کی مدد کرنا ہے۔ اس کا عملی مظاہرہ ہم نے 2005 ءمیں آنے والے زلزلے اور گذشتہ برس سوات میں آپریشن کے دوران بے گھر ہونے والے افراددکی مدد کے وقت دیکھا تھا۔

ایک ایسے وقت میں جب اہل ِ مغرب اور امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف اچھے جذبات نہیں پائے جا رہے، اس قسم کی کاوشیں اسلام کے امن پسندانہ تشخص کو اجاگر کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG