رسائی کے لنکس

امریکہ میں مسلم تارکین وطن ۔۔۔ نائین الیون کے بعد


امریکہ میں مسلم تارکین وطن ۔۔۔ نائین الیون کے بعد

امریکہ میں مسلم تارکین وطن ۔۔۔ نائین الیون کے بعد

گیارہ ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کو 10 سال ہونے کو آئے ہیں ۔ ان حملوں نے جہاں پوری دنیا کے لوگوں کے رویوں اور سوچوں پر گہرا اثر ڈالا وہاں امریکی مسلمان سب سے زیادہ متاثر ہونے ہوئے اور انھیں نہ صرف اپنامعاشی مستقبل خطرے میں دکھائی دینے لگا بلکہ اپنا تشخص کا خوف بھی لاحق ہونے لگا ۔

اس صورت حال میں کچھ امریکی مسلمانوں نے یہ محسوس کیا کہ ٕ انہیں اپنا اور اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے یہاں کے سیاسی نظام کا حصہ بننا ہوگا اور اپنی آواز پالیسی سازی کے ایوانوں تک پہنچانی ہوگی۔ اس لیے کچھ امریکی مسلمانوں نے اس مشکل وقت میں اپنے آپ کو منظم کیا اور امریکی سیاسی نظام کا حصہ بننے کے لیے کوششیں تیز کردیں تاکہ اعلی ٰامریکی ایوانوں میں مسلمانوں کی نمائندگی کی جاسکے۔
امریکہ میں مسلم تارکین وطن ۔۔۔ نائین الیون کے بعد

امریکہ میں مسلم تارکین وطن ۔۔۔ نائین الیون کے بعد

امریکی ریاست مشی گن کا شمار ایسی امریکی ریاستوں میں ہوتا ہے جہاں مسلمانوں کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ جن میں ایک بڑی تعدا د پاکستانی اور دوسرے ملکوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی بھی ہے۔ امریکہ کی اس وسط مغربی ریاست کی آبادی کی اکثریت اگرچہ سفید فام غیر مسلموں پر مشتمل ہے لیکن یہاں کچھ جنوبی ایشائی باشندے ایسے بھی ہیںٕ جنہوں نے شہری انتظامیہ کا حصہ بن کر امریکی سیاسی نظام کی سیڑھی پر اپنے قدم جمایے ہیں۔

آج ہم امریکہ کی اس ریاست کے تین مختلف شہروں میں مقامی سیاست میں نمایاں مقام حاصل کرنے والے تین جنوبی ایشیائی مسلمانوں سے ملاقات کروا رہے ہیں ۔ ان میں شہر کالامازو کے کمشنر نسیم انصاری، شہر ہیم ٹریمک کے کونسل ممبر شہاب احمد اور کینٹن شہر کے بورڈ آف ٹرسٹی سید تاج شامل ہیں۔ ان تینوں کا تعلق بالترتیب پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت سے ہے۔

مشی گن کا شہر کالامازو ، عیسائی اکثریت کا سفید فام شہر ہے، لیکن اس شہر کے لوگ پچھلے 10 برسوں سے ایک ایسے شخص کو سٹی کمشنر کے طور پر منتخب کرتے چلے آرہے ہیں جو نہ ان جیسا دکھائی دیتاہے اور نہ ہی ان کے مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔

اور یہ شخص ہیں نسیم انصاری ۔ نسیم انصاری کا تعلق پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر خیر پور سے ہے اور وہ گزشتہ 34 برس سے کالامازو میں مقیم ہیں۔

نسیم انصاری نے اس شہر میں اپنے سیاسی سفر کا آغاز 14 سال پہلے مقامی سٹی کونسل کے لیے رضاکارانہ طور پر کام کر کے کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی رضاکارانہ خدمات کو دیکھتے ہوئے مقامی لوگوں نے انھیں شہر کی سٹی کونسل کے لیے انتخابات میں حصہ لینے کا کہا۔ اگرچہ پہلی بار وہ کامیاب نہ ہو سکے لیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری ۔ 1999 میں سٹی کونسل اور پھر سال 2001 میں شہر میں کاونٹی کمشنر کے لیے منتخب ہوئے۔

نسیم انصاری اس سال پانچویں مرتبہ اس شہر کے سٹی کمشنر کے طور پر منتخب ہوئے ہیں ، اور ان کی ذمہ داری شہر کی پالیسی سازی اور مالی ضابطے ترتیب دینا ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گیارہ ستمبر 2001 کے بعد کے حالات میں انہوں نے اپنے کردار سے اس شہر کے لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی ۔ اور آج ان کی ان کوششوں کا ثمر ہے کہ یہاں وہ ایک پاکستانی اور مسلمان ہوتے ہوئے بھی مسلسل پانچویں مرتبہ کمشنر منتخب ہوئے ہیں۔ ۔

ہیم ٹریمک ریاست مشی گن کا ایک بہت متنوع قصبہ ہے ۔ صرف 1.2 مربع میل کے رقبے کے اس شہر میں 56 مختلف ممالک کے لوگ رہتے ہیں۔ اور 29 مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں۔ گذشتہ کچھ عرصے سے ہیم ٹریمک ایک اور وجہ سے بھی امریکی اخبارات کی خبروں کی توجہ کا مرکز رہا ہے اور وہ ہے لاوڈ سپیکر پر گونجنے والی اذانیں، یہ واحد امریکی شہر ہے جہاں لاوڈ سپیکر پر اذان دینے کا قانون موجود ہے۔ اوریہاں اس قانون کو پیش اور منظور کرانے میں مسلمان سٹی کونسل ممبر شہاب احمد کی کوششوں کو گہرا دخل ہے۔

بنگلہ دیش کے علاقے سلہٹ سے تعلق رکھنے واے شہاب احمد 1986 میں اپنے خاندان کے ہمراہ امریکہ منتقل ہوئے ۔ ان کے بقو ل اس وقت وہ انگریزی زبان بولنا تک نہیں جانتے تھے۔ اور ان کا خاندان اس شہر میں نقل مکانی کرکے آنے والا پہلا خاندان تھا۔

شہاب احمد کہتے ہیں کہ اس وقت اس شہر کی 90 فیصد آبادی پولینڈ سے تعلق رکھنے والےرومن کیتھولک عیسائیوں اور سفید فام افرادپر مشتمل تھی۔ پھر جب اس شہر میں بنگلہ دیش کے تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہونا شروع ہوا تو انھوں نے 1997 میں اس شہر میں مسلمانوں کی نمائندگی کے لیئے مقامی سیاست میں حصہ لینے کے بارے میں سوچا۔لیکن وہ 1997 اور 1999 کے الیکشن میں ناکام ہو گئے ۔ لیکن انھوں نے ہمت نہ ہاری اور 2001 میں وہ ایک ایسے وقت میں کامیاب ہوئے جب اس کی بالکل امید نہیں تھی۔ وہ یہاں کے پہلے رنگ دار رکن ہیں۔

شہاب کے مطابق اب اس شہر کی تقریباً 40 فیصد آبادی مسلمان ہیں اور سٹی کونسل کے چھ میں سے تین رکن مسلمان ہیں ۔ شہاب احمد کہتے ہیں کہ کسی کو بارش کا پہلا قطرہ بننا پرتا ہے۔ اور ایک چیز جو مجھے اپنے تجربے سے سمجھ آئی ہے کہ اگر آپ خود کودوسروں سے مختلف سمجھیں گے تو لوگ اس کا فائدہ اٹھائیں گے۔

ان کا مسلمانوں کو پیغام ہے کہ اپنی شناخت قائم رکھیں، اور دوسروں کو بتائیں کہ آپ کون ہیں۔ آپ مسلمان ہیں اور فلاں ملک سے آئے ہیں۔ اس سے آپ کو خوف ختم ہوگا اور وہ آپ کے دوست بنا جائیں گے۔

ریاست مشی گن کا علاقہ کینٹن بھی مکمل طور پر سفید فام آبادی پر مشتمل علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ لیکن گزشتہ چند برسوں میں یہاں بھی مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ قریبی شہر ڈیئر بورن میں امریکہ کی سب سے بڑی مسجد بنائی گئی ہے اور91 ہزار کی آبادی کے اس شہر میں 7 سے آٹھ فیصد مسلمان بستے ہیں۔ اور مقامی سیاست میں بھی مسلمان نظر آنے لگے ہیں۔

سید تاج کا تعلق بھارت کی ریاست بہار سے ہے ، اور وہ کینٹن شہر کے بورڈ آف ٹرسٹیز کی نشست پر منتخب ہونے والے نہ صرف پہلے مسلمان ہیں بلکہ پہلے جنوبی ایشائی بھی۔ اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اس علاقے میں وہ صدر اوباما کی جماعت ڈیمو کریٹک پارٹی کے پہلے منتخب رکن ہیں۔
امریکہ میں مسلم تارکین وطن ۔۔۔ نائین الیون کے بعد

امریکہ میں مسلم تارکین وطن ۔۔۔ نائین الیون کے بعد

بورڈ آف ٹرسٹی شہر کی سٹی کونسل کی طرح کام کرتا ہے اور شہر کے لیے قانون سازی اور ترقیاتی منصوبوں کا لائحہ عمل تیار کرتا ہے۔ ۔ اگرچہ سید تاج پیشے کے لحاظ سے ایک ڈاکٹر ہیں اور گزشتہ 29 سال سے ایک مقامی ہسپتال سے منسلک ہیں ، لیکن ان کا کہنا ہے اس ملک کے سیاسی نظام کی شفافیت اور اس میں اعلی تعلیم یافتہ افراد کی شمولیت کے باعث انھوں نے بھی اس میدان میں قدم رکھا ۔ وہ پہلے ایسے شخص ہیں جورنگ دار ہونے کے ساتھ مسلمان بھی ہیں۔

سید تاج 2012ء میں امریکہ میں کانگریس کے انتخابات میں حصہ لینا چاہتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی کوشش ہے کہ جنوبی ایشائی باشندوں کی آئندہ نسل کے لیے امریکی نظام سیاست میں راہ ہموار کی جائے اور امریکی مسلمانوں کی نمائندگی کو صرف ریاستی ہی نہیں بلکہ ملکی سطح کی سیاست میں بھی یقینی بنائی جائے۔

XS
SM
MD
LG