رسائی کے لنکس

ذہین امریکی طالب علموں کی تقریب تقسیم انعامات

  • روزین سکربل
  • آمنہ خان

ذہین امریکی طالب علموں کی تقریب تقسیم انعامات

ذہین امریکی طالب علموں کی تقریب تقسیم انعامات

اقوام متحدہ کی تنظیم برائے اقتصادی تعاون و ترقی کے مطابق دنیا کے 34 امیر ترین ممالک میں سے امریکی سکولوں میں پڑھنے والے طالب علم درجہ بندی کے لحاظ سے مطالعے میں 14 ویں ، سائنس میں 17 ویں اور حساب میں 25ویں نمبر پر تھے۔ان اعداد و شمار کے علاوہ امریکہ میں ذہین طالب علموں کی بھی ایک کثیر تعداد موجود ہے۔ جن میں سے کچھ اسٹوڈنٹس نے حال ہی میں واشنگٹن میں ہونے والے ایک روایتی اور بہت مشہور مقابلے انٹل ٹیلنٹ سائنس ریسرچ میں حصہ لیا۔

ایک کٹھن ہفتے کے بعد انعامی تقریب ہوئی۔ تقریب میں شریک ہونے والے 40 طلبہ نے مقابلے کے ججوں اور دوسرے لوگوں سے گفتگو کی۔ وہ سائنسدانوں اور سیاست دانوں سے بھی ملے۔ اور صدر اوباما نے انہیں وہائٹ ہاؤس میں خوش آمدید کہا۔

جیتنے والے طالب علم امریکہ بھر سے اس مقابلے میں شرکت کرنے والے کل 2000 طلبہ میں شامل تھے ۔انٹل فاونڈیشن کی سربراہ وینڈی ہاکنز کے مطابق جیتنے والے طلبہ تعلیم کے مختلف شعبوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

لی سیلینا امریکی ریاست کیلیفونیا سے تعلق رکھنے والی ایک 17 سالہ چینی نژاد امریکی ہیں۔ انہوں نے جگر کے سرطان کے لیے ایک بہتر طریقہ علاج دریافت کیا ہے۔ ان کا کہناہے کہ جگر کے سرطان کے لیے بہت کم علاج ہیں۔ اسی لیے میں اس شعبے میں تحقیق کرنا چاہتی تھی۔

لی نے اپنی اس مہم کا آغاز چار سال پہلے یونیورسٹی آف کیلیفونیا کے ایک استاد کی نگرانی میں کیا ، جنہوں نے لی کو تجربہ گاہ میں کام کرنے کے طور طریقے سکھائے ۔

وہ کہتی ہیں کہ میں نے جگر میں سرطان کے خلیوں کو ختم کرنے کے ایک نئے طریقے پر تحقیق کی جس میں سرطان کے خلیوںکو نشانہ بنایا جا سکے اور مریض کے اپنے صحت مند خلیے متاثر نہ ہوں۔ اس علاج کو اور بھی موثر بنانے کےلیےمیں نے مزید تحقیق کا سہارا لیا۔

لی پانچویں نمبر پر آئیں اور انہیں 30 ہزار ڈالر رقم بطور انعام ملی۔

سکاٹ بواور10 ویں نمبر پر تھے۔ پانی اور زمین پر رہنے والےجانداروں کی عالمی سطح پر تعداد میں کمی کے اسباب میں شامل پھپھوندی کی ایک قسم پراپنی کی تحقیق کی لیے انہوں نے 20ہزار ڈالر کا انعام حاصل کیا۔

ان کا کہناتھا کہ میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ کیا کچھ قدرتی کیمیائی مادے، یا امریکہ کی ریاست ایری زونا کےپانی میں موجود مختلف کیمیائی عناصراس پھپھوندی کو بڑھنے سے روک سکتے ہیں یا نہیں۔ اورکیا ان مادوں کی مدد سے جانداروں کی اموات میں کمی واقع ہوسکتی ہے؟

بواور نے ریاست ایری زونا میں مختلف ذرائع سے حاصل کیے گئے پانی پر تحقیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس تحقیق کے نتائج کی مدد سے میں ایسے کیمائی مادوں کی فہرست بنانے میں کامیاب رہا جو اس پھپھوندی کو فروغ دیتے ہیں۔

بواوراور لی دونوں طبی تحقیق کے شعبے سے منسلک ہونا چاہتے ہیں۔

انٹل سائنس ٹیلنٹ سرچ فاؤنڈیشن کی سربراہ وینڈی ہاکنز کہتی ہیں کہ اس مقابلے میں شامل ہونے والے طالب علموں کی کامیابیاں ہائی سکول کے طلبہ کی اعلی ذہانت کا ثبوت ہیں۔

وینڈی ہاکنز کا کہناتھا کہ یہ تمام طالب علم سائنسدان ہیں۔ ان میں صلاحیت، معلومات اور دنیا کو دیکھنے کا منفرد انداز موجود ہے۔ یہ طلبہ مستقبل میں بھی ہمیں حیران کرتے رہیں گے۔

ہاکنز کے مطابق یہ قابل اور ذہین طالب علم دوسرے طلبہ کے لیے بھی اچھی مثال پیش کرتےہیں۔ اور امریکہ کے مستقبل کو ڈھالنے والی نئی نسل کی نمائندگی کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG