رسائی کے لنکس

امریکی خواتین کی جدوجہد: ووٹ کا حق1920ء میں حاصل ہوا

  • اینا وارڈ

امریکی خواتین کی جدوجہد: ووٹ کا حق1920ء میں حاصل ہوا

امریکی خواتین کی جدوجہد: ووٹ کا حق1920ء میں حاصل ہوا

اس سال امریکی آئین میں انیسویں ترمیم کی منظوری کے 90 سال پورے ہوگئے ہیں ، جس کے ذریعے یہاں کی خواتین کو ووٹ کا حق ملا تھا ۔ امریکی خواتین نے ووٹ کا حق سب سے پہلے 1920ءکے صدارتی انتخاب میں استعمال کیا تھا ۔ یہ حق حاصل کرنے کے لیے انہیں طویل عرصے تک ان تھک جدوجہد کرنی پڑی تھی۔

امریکی ایوان کی پہلی خاتون سپیکر نینسی پیلوسی ، وزیر خارجہ ہلری کلنٹن جو 2008ء میں ڈیمو کریٹک پارٹی کی صدارتی نامزدگی جیتنے سے رہ گئیں تھی ، اور سارہ پیلن ،جو اسی سال ری پبلکن پارٹی کی طرف سے نائب صدر کے عہدے کی امیدوار بن کر امریکی سیاست میں اتریں ۔ ان تینوں کی موجودگی امریکی سیاست میں خواتین کی حقوق کی طویل جدو جہد کی کامیابی کی علامت ہے۔

مگر ان کامیابیوں کی بنیاد ایک صدی پہلے اس وقت رکھی گئی تھی ، جب امریکی خواتین نے ووٹ ڈالنے کے بنیادی جمہوری حق کا مطالبہ کیا ۔ اس تحریک کا آغاز لوکریشیا موٹ اور ایلزبتھ کیڈی سٹینٹن کی قیادت میں 1848ء میں ہوا ، جب خواتین کے ایک گروہ نے قانون میں اپنے لئے مردوں کے برابر حقوق کا مطالبہ کیا ۔ سوزن سکین لین واشنگٹن کے ایک ادارے ویمنز ریسرچ اینڈ ایجو کیشن انسٹی ٹیوٹ کی سربراہ ہیں ۔

وہ کہتی ہیں کہ درمیانی عمر کی یہ خواتین متوسط اور اعلی متوسط طبقے سے تعلق رکھتی تھیں ۔ کالج یا ہائی سکول کی تعلیم یافتہ تھیں ۔ ان کے مالی حالات اچھے تھے اور وہ جانتی تھیں کہ بیلٹ بکس تک پہنچے بغیر ان کی زندگی ان کے اختیار میں نہیں ہو سکتی ۔

خواتین کی یہ تحریک امریکی سول وار کے آغاز پردم توڑ گئی ۔ مگر پچاس سال بعد ایک خاتون وکیل ایلس پال نے یہ جدو جہد دوبارہ شروع کی ۔ 1913ءمیں امریکی صدر ووڈرو ولسن کی حلف برداری سے ایک دن پہلے ایلس پال نے امریکی عوام کی توجہ حاصل کرنے کے لئے واشنگٹن کے پینسلوانیا ایونیو پر اپنی ہم خیال خواتین کے ساتھ ایک پریڈ کی ۔

سویل بیل مونٹ میوزئم کی الزبیتھ کرم کہتی ہیں کہ اس وقت تک کسی نے کبھی اتنے مختلف رنگ و نسل کی ، اتنے مختلف طبقات کی خواتین کواپنے حقوق کے لئے اتنا سرگرم نہیں دیکھا تھا ۔یہ کوشش اتنی کامیاب تھی کہ خواتین نے اپنا ووٹ کا مطالبہ نہ صرف وفاقی آئین میں ترمیم کے لئے پیش کیا بلکہ ریاستی قوانین میں ترمیم کے لئے بھی تاکہ انہیں ہر جگہ ووٹ کا حق ملے ۔

خواتین کے ووٹ کے حق کی جدو جہد کو ذرائع ابلاغ کی توجہ تو ملی مگر زیادہ عوامی حمایت نہیں ۔ لہذا 1917ء میں ان خواتین نے وائٹ ہاوس کے سامنے دھرنا دینا شروع کر دیا، جو اس وقت کے لحاظ سے بڑی ہی عجیب بات تھی ۔ کئی خواتین گرفتار ہوئیں ، کئی ایک کو جیل جانا پڑا ۔ تب کہیں جا کر ان کے مطالبے کو عوامی حمایت حاصل ہوئی۔ 1918ء میں امریکی آئین کی مجوزہ انیسویں ترمیم کانگریس تک پہنچی جسے 18 اگست 1920 ء کو امریکی ریاستوں نے بھی منظور کر لیا ، اور یوں امریکی خواتین کو پہلی بار ووٹ کا حق حاصل ہوا ۔

جینی فر لالیس واشنگٹن کی امریکن یونیورسٹی کے ویمن ان پالیسٹکس انسٹی ٹیوٹ سے منسلک ہیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ گزشتہ سو سال میں خواتین کے حقوق کی جدو جہد کا سب سے بڑا سنگ میل تھا ، جس سے انہیں مکمل شہری حقوق حاصل ہوئے ۔ خواتین کی ذمہ داریاں اور فرائض تو اس سے پہلے اور بعد میں بھی وہی رہے، مگر ووٹ کا حق ملنے کے بعد انہیں بھی معاشرے کا برابر کا حصہ سمجھا گیا، جس کا ووٹ حاصل کرنا سیاسی امیدواروٕ ں کی ضرورت تھا ۔

بعد میں اسی جدو جہد نے امریکی خواتین کے لئے شادی اور طلاق کا حق ، جائیداد میں حصے اور مردوں کے برابر اجرت کے مطالبات آگے بڑھائے جن میں سے کئی ایک ابھی پورے ہونا باقی ہیں ۔ 1982ء میں امریکی آئین میں برابری کے حقوق کی ترمیم نا منظور ہو گئی تھی، مگر امریکی خواتین اپنے ووٹ کا حق مسلسل استعمال کر رہی ہیں ۔ امریکہ میں حالیہ چند برسوں کے انتخابی نتائج سے ظاہر ہے کہ یہاں خواتین مردوں سے زیادہ ووٹ کا استعمال کر رہی ہیں مگر ان سے بالکل مختلف انداز سے ۔

سوزن سکین لین کہتی ہیں کہ 2008ء کےصدارتی انتخاب کے ووٹروں میں خواتین کی تعداد مردوں سے 80 لاکھ زیادہ تھی ۔ خواتین زیادہ تر خاندانی بہبود ، تعلیم اور صحت سے متعلق معاملات کو اہمیت دیتی ہیں جبکہ مرد عالمی امور ، ملکی معیشت اور دفاعی معاملات کی بنا پر اپنا ووٹ استعمال کرتے ہیں ۔

اب جبکہ امریکی خواتین کو ووٹ کا حق حاصل کئے نودہائیاں پوری ہو چکی ہیں ، مبصرین کے مطابق اب بھی کافی کام باقی ہے ۔ اب تک صرف 17 فیصد خواتین امریکی سینیٹ اور ایوان نمائندگان تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہیں ۔ لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ نینسی پیلوسی ، ہلری کلنٹن اور سارا پیلن امریکی سیاست میں خواتین کے لئے نئی راہیں ہموار ضرور کررہی ہیں ، اور بہت ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں امریکی سیاست کی تاریخ میں خواتین کے لئے کامیابیوں کے نئے باب درج ہوں ۔

XS
SM
MD
LG