رسائی کے لنکس

صدر براک اوباما نے آنجہانی صدر کے اعزاز میں امریکہ بھر میں قومی پرچم سر نگوں رکھنے کی ہدایت کی تھی۔ مسٹر کینیڈی کو اپنی مدتِ صدارت کے تیسرے برس میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا

امریکہ میں جمعے کے روز صدر جان ایف کینیڈی کے قتل کی 50 ویں برسی منائی گئی، جس موقعہ پر احتراماً چند لمحوں کی خاموشی اور یادگاری تقریبات منعقد کی گئیں۔

صدر براک اوباما نے آنجہانی صدر کے اعزاز میں امریکہ بھر میں قومی پرچم سر نگوں رکھنے کی ہدایت کی تھی۔ مسٹر کینیڈی کو اپنی مدتِ صدارت کے تیسرے برس میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں کلیساؤں میں گھنٹیاں بھی بجائی گئیں۔ یہ وہی جنوب مغربی شہر ہے جہاں صدر کینیڈی کو قتل کیا گیا۔

اُن مقامات پر چند لمحوں کی خاموشی اختیار کی گئی، جو مسٹر کینیڈی کی زندگی میں اہمیت رکھتے تھے۔ پولٹزر انعام یافتہ مورخ ڈیوڈ مک کلا مسٹر کینیڈی کی تقاریر میں سے اقتباسات پڑھ کر سنائیں۔

’سی بی ایس‘ ٹیلی ویژن نیٹ ورک نے صدر کینیڈی کی ہلاکت کے وقت نشر ہونے والی خبروں کو انٹرنیٹ پر پیش کیا۔

مسٹر اوباما نے اپنے اس پیش رو کو ’عوام کا غیر معمولی خدمت گار‘ قرار دیا ہے۔ مسٹر اوباما نے آرلنگٹن نیشنل سیمٹری میں صدر کینیڈی کی قبر پر بدھ کو پھول کی چادر بھی چڑھائی تھی۔
مسٹر کینیڈی کی مدت صدارت کو تقریباً 1000دِن ہی گزرے تھے، کہ 46برس کی عمر میں بغیر چھت والی گاڑی میں سفر کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اس واقعہ نے دنیا کو حیران کر دیا اور مسٹر کینیڈی کے مخالفین بشمول سوویت یونین کے رہنما نیکیتا کروسچاوو نے اس پر رنج و غم کا اظہار کیا۔

زیادہ تر امریکی اُس ہفتے کے آخری دنوں میں اشکبار رہے، جب کہ صدر کی اہلیہ جیکیلین اور اُن کے دو بچوں نے عوام الناس کے سامنے اپنے غم کا اظہار کیا۔

صدر کے قاتل لی ہاروے اوسولڈ کو مسٹر کینیڈی کی ہلاکت کے دو روز بعد پولیس کی حراست میں گولی مار دی گئی اور یہ منظر ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر ہوا۔ اس قتل کے محرکات شاید کبھی منظر عام پر نا آ سکیں۔ اوسولڈ امریکی میرئن کا سابق اہلکار تھا جو 1959ء میں سوویت یونین چلا گیا اور 1962ء میں دوبارہ امریکہ آیا۔
XS
SM
MD
LG