رسائی کے لنکس

نتائج سے ظاہر ہوا کہ اسٹینفورڈ یونیورسٹی سب سے زیادہ نوبل فاتحین کے ساتھ تعلیمی اداروں کی فہرست میں سب سے اوپر ہے، جبکہ نوبل انعام جیتنے والے ماہرین کی قومیت کی بنیاد پر بھی امریکی فاتحین ٹاپ 10 پوزیشن پر غالب ہیں۔

دنیا کا معتبر ترین سمجھا جانے والا ایواڈ 'نوبل انعام' ہر سال ادب، معاشیات، امن، طب، طبیعات، کیمیا کے شعبے میں اہم ترین دریافت، تحقیق یا غیر معمولی ایجاد کرنے والے ماہرین کو دیا جاتا ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اکیسویں صدی کے آغاز سے اب تک سب سے زیادہ نوبل انعامات کس ملک کے محققین نےحاصل کیے ہیں؟

اسی تناظر میں شائع ہونے والی ایک مطالعے میں تجزیہ کاروں نے دیکھا کہ اس صدی میں سب سے زیادہ نوبل انعام جیتنے والی شخصیات کا تعلق دنیا کی کونسی یونیورسٹیوں سے ہے۔

نتائج سے ظاہر ہوا کہ 'اسٹینفورڈ یونیورسٹی' سب سے زیادہ نوبل فاتحین کے ساتھ تعلیمی اداروں کی فہرست میں سب سے اوپر ہے، جبکہ نوبل انعام جیتنے والے ماہرین کی قومیت کی بنیاد پر بھی امریکی فاتحین ٹاپ 10 پوزیشن پر غالب ہیں۔

'ٹائمز ہائر ایجوکیشن' نے نوبل انعام کے فاتحین کے حوالے سے بین الاقوامی یونیورسٹیوں کی ایک رینکنگ جاری کی ہے، اس فہرست نے 2000ء سے 2014ء تک نوبل انعام جیتنے والے ماہرین کا احاطہ کیا ہے اور تعلیمی ادارے سے منسلک نوبل فاتحین کی تعداد کی بنیاد پر ہر یونیورسٹی کو ایک اسکور دیا ہے۔

رپورٹ سے انکشاف ہوا کہ برطانوی یونیورسٹیاں اس فہرست میں ٹاپ ٹین میں جگہ بنانے میں ناکام رہی ہیں، جبکہ اس فہرست میں عالمی معیار کی ایشیائی یونیورسٹیوں کی غیر موجودگی بھی قابل ذکر ہے۔

ہائر ایجوکیشن کی فہرست میں امریکی یونیورسٹیاں ٹاپ 10 میں سے آٹھ پوزیشن پر ہیں، ان کے علاوہ ' اسرائیلی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی' اور 'جرمنی میکس پلانک سوسائٹی' نے بالترتیب 8ویں اور 10ویں پوزیشن حاصل کی۔

نامور 'ہارورڈ یونیورسٹی' اس فہرست میں پہلی دس یونیورسٹیوں میں شامل نہیں ہے، اور گیارہویں نمبر پر ہے۔

اسی طرح کیمبرج یونیورسٹی بھی پچھلے چودہ برسوں میں صرف ایک نوبل انعام یافتہ محقق کے ساتھ فہرست میں شامل نہیں ہے، جبکہ آکسفورڈ یونورسٹی اس صدی میں ایک بھی نوبل پرائز کا فاتح پیدا نہیں کر سکی۔

امریکی نا صرف قومیت کی بنیاد پر فہرست میں سب سے اوپر ہیں، بلکہ ہر انعام کے لیے موجود فاتحین کی تعداد کے حوالے سے بھی امریکی یونیورسٹیوں نے بھاری اسکور حاصل کیا۔

امریکی سائنس دانوں نے 71 نوبل انعامات جیتے ہیں، جبکہ مشترکہ طور پر نوبل انعام جیتنے والے کل فاتحین کی تعداد 146 ہے۔

امریکی تاریخ میں 2006ء کو ایک سنہرا سال بتایا گیا ہے، جس میں اس صدی کے آغاز کے بعد پہلی بار تمام نوبل انعام یافتہ شخصیات کا تعلق ایک ہی ملک سے تھا اور وہ اسی ملک کے تعلیمی اداروں کے ساتھ منسلک تھے۔

برطانوی تعلیمی ادارے اگرچہ درجہ بندی کی فہرست میں ٹاپ ٹین میں شامل نہیں ہیں لیکن قومیت کی بنیاد سب سے زیادہ نوبل انعام جیتنے میں برطانوی نژاد ماہرین کا دنیا میں دوسرا نمبر ہے، اور مجموعی طور پر برطانوی اداروں نے چودہ برسوں میں اب تک 12 نوبل انعامات جیتے ہیں۔

آسٹریلیا نے موجودہ صدی میں اب تک ایک سے زائد نوبل انعامات جیتے ہیں جس کے محققین نے اپنے تمام ایوارڈز ایک ہی شعبے فزیولوجی اور میڈیسن میں حاصل کیے ہیں۔

نوبل انعام کے بانی الفریڈ نوبل تھے، وہ سویڈن میں پیدا ہوئے لیکن انھوں نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ روس میں گزارا، وہ ڈائنا مائٹ کے موجد تھے اور دوسری کئی ایجادات کا سہرا بھی ان کے سر جاتا ہے۔ انھوں نے مرتے وقت یہ وصیت کی تھی کہ ان کی دولت کو ہر سال ایسے افراد میں انعام کے طور پر تقسیم کیا جائے جنھوں نے سائنس اور ادب اور امن کے میدان میں غیر معمولی کارنامہ انجام دیا ہو۔

نوبل انعام کے تقسیم کی تقریب پہلی بار 10 دسمبر 1901ء میں منعقد ہوئی، اور آج بھی اسی تاریخ پر تقریب کا اہتمام کیا جاتا ہے، اب تک نوبل انعام جیتنے والے محققین کی مجموعی تعداد 998 ہے جن میں نوبل انعام یافتہ خواتین کی کل تعداد 46 ہے۔

انعام جیتنے والوں کی اوسط عمر59 سال ہے جن میں سب سے معمر ترین نوبل انعام یافتہ کی عمر 90 برس ہے اور سب سے کم عمر ترین نوبل انعام جیتنے والی 17 سالہ ملالہ یوسفزئی ہیں جن کا تعلق پاکستان سے ہے۔

XS
SM
MD
LG