رسائی کے لنکس

لمحہ بہ لمحہ: امجد صابری کی نماز جنازہ اور تدفین


بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لئے پہلے پولیس اہلکار آگے بڑھے۔ لیکن، لوگوں نے کسی کی ایک نہ سنی۔ بہ حالتِ مجبوری، رینجرز کو بلانا پڑا، جس نے لوگوں کو انتہائی مشکل اور زبردستی ایک طرف کیا اور یوں ایک طویل جدوجہد اور تکرار کے بعد ایمبولیس سے جسد خاکی کو نکال کر قبر تک لایا گیا

ایک روز قبل نامعلوم افراد کے ہاتھوں لقمہٴ اجل بن جانے والے امجد صابری کا جنازہ جمعرات کو شہر کی حالیہ تاریخ کا ایک بڑا جلوس جنازہ ثابت ہوا۔ ان کی نماز جنازہ اور تدفین میں کئی ہزار لوگوں نے شرکت کی جس کے سبب لیاقت آباد، پاپوش نگر، ناظم آباد، گولیمار اور نصف درجن کے قریب اطرافی علاقوں میں لوگ ہی لوگ نظر آئے۔

امجد صابری کے گھر لوگوں کی آمد کا سلسلہ ان کے انتقال کی خبر کے ساتھ ہی ہوگیا تھا، جبکہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب تمام وقت لوگ جوق در جوق ان کے گھر تعزیت کی غرض سے پہنچتے رہے۔

ان کے ایک پڑوسی حفیظ الدین نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا وہ بھی رات 11 بجے تراویح کے بعد اپنے اہل خانہ کے ہمراہ امجد صابری کے گھر گئے تھے اور سحری کے وقت واپس آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی رش تھمنے میں ہی نہیں آتا تھا۔

جمعرات کی صبح ہوتے ہی لوگوں کی آمد کا سلسلہ مزید زور پکڑ گیا۔ اگرچہ نماز جنازہ کے لئے دوپہر ایک بجے کا وقت مقرر کیا گیا تھا۔ لیکن، لوگ صبح سویرے ہی پہنچنا شروع ہوگئے یہاں تک کہ تمام انتظامات دھرے کے دھرے رہ گئے۔

صبح کے 11 بجے شاہراہ فیصل کے ایک کونے پر واقع چھیپا سرد خانے میں رکھا امجد صابری کا جسد خاکی ایمبولیس میں اہل خانہ کے دیدار کی غرض سے لیاقت آباد چار نمبر کے لئے روانہ ہوا ۔ سرد خانہ کے گرد اس وقت بھی لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ تاہم، جیسا ہی یہ جنازہ ان کے گھر کے قریب پہنچا رش اس قدر بڑھ گیا کہ ایمبولیسز کا چلنا تو دور کی بات ہے کھسکنا بھی مشکل ہوگیا۔

تا حد نگاہ اہل خانہ، قریبی عزیزو اقارب، احباب، فینز، پڑوسی، فنکار، کھلاڑی، سیاسی رہنما اور عام شہریوں کی شکل میں لوگ ہی لوگ امڈ ہوئے تھے۔ ایسے میں شدید گرمی اور حبس سے برا حال تھا لوگ پسینے میں تر بتر تھے۔ آگے آگے چلتی ایمبولینسز جو سیکنڈز کا سفر گھنٹوں میں طے کر رہی تھیں، لوگ تھے کہ ایمبولیسز کو گھیرے کھڑے تھے۔

ہر شخص کی کوشش تھی کہ کسی طرح وہ امجد صابری کا آخری دیدار کرسکیں۔ لوگوں کی سہولت کے لئے ان کا چہرہ کھلا رکھا گیا تھا۔ لیکن، اس کے باوجود ہزار ہا لوگوں کی انہیں آخری بار دیکھنے کی خواہش پوری نہ ہوسکی۔

سرد خانے سے جسد خاکی پہلے گھر لایا گیا پھر نماز جنازہ ان کے گھر کے قریب مرکزی شاہراہ پر ارم بیکری کے سامنے ادا کی گئی۔امامت درگاہ پاک پتن شریف کے گدی نشین مولانا احمد دیوان مسعود نے پڑھائی۔

بعد ازاں جنازے کو پاپوش نگر کے قبرستان کی طرف روانہ کیا گیا۔ یہ راستہ کئی کلو میٹر پر محیط تھا اور لوگ روزے سے بھی تھے جبکہ گرمی اور حبس بھی ریکارڈ توڑ تھا۔ لیکن، لوگوں کا رش تھمنے میں نہیں آ رہا تھا۔ اس دوان سینکڑوں افراد ایک دوسرے کے پیروں تلے آکر زخمی بھی ہوئے اور کئی کے پیر لہو لہان بھی ہوئے لیکن لوگوں کا جذبہ دیدنی تھا۔

’وائس آف امریکہ‘ کے نمائندوں سمیت شہر بھر کے میڈیا نمائندے بھی کوریج کے لئے لوگوں میں شامل تھے اور نہایت مشکلات حالات میں انہیں کام کرنا پڑا۔

ایک سے زائد گھنٹے کی مسافت طے کرنے کے بعد میت پاپوش نگر کے قدیم قبرستان میں لائی گئی۔ اس قبرستان میں امجد صابری کے پیر حیرت شاہ وارثی کا مزار واقع ہے اسی کے احاطے میں ان کے دادا اور والد غلام فرید صابری اور چچا مقبول احمد صابری بھی مدفن ہیں۔ والد کے پہلو میں ہی امجد صابری کی قبر تیار کی گئی تھی۔

قبرستان اور خاص کر اس احاطے میں میڈیا اور عام لوگوں کو بھی جانے کی اجازت نہیں تھی صرف قریبی رفقا ہی اندر جاسکے۔

ایمبولیس سے امجد صابری کی میت اتارنے میں نصف گھنٹے سے بھی زیادہ وقت لگا۔ انگنت افراد ایمبولیس کو گھیرے کھڑے تھے جیسے ہی دروازہ کھولا گیا لوگوں کی بھیڑ امڈ پڑی یہاں تک کہ بہت مشکل سے دروازہ دوبارہ بند کرنا پڑا۔

بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لئے پہلے پولیس اہلکار آگے بڑھے۔ لیکن، لوگوں نے کسی کی ایک نہ سنی بہ حالت مجبوری رینجرز کو بلانا پڑا جس نے لوگوں کو انتہائی مشکل اور زبردستی ایک طرف کیا اور یوں ایک طویل جدوجہد اور تکرار کے بعد ایمبولیس سے جسد خاکی کو نکال کر قبر تک لایا گیا۔

اگلے 20 منٹ میں امجد صابری کا جسد خاکی لحد میں اتارا گیا۔ لیکن، اس دوران بھی لوگ بے تاب رہے۔ بے شمار لوگ ایسے تھے جو انہیں یاد کرکے رار و قطار رہ رہے تھے۔

موت اور تدفین میں 24گھنٹے کا فرق
امجد صابری کی موت اور تدفین میں 24گھنٹے لگے جس کی وجہ یہ تھی کہ لندن سے امجد صابری کے بڑے بھائی ثروت صابری کو کراچی پہنچنا تھا، انہوں نے ہی جمعرات کی صبح سرد خانے سے امجد صابری کی میت وصول کی تھی۔

بڑے بھائی کے علاوہ امجد صابری کی ایک بہن اور چچا بھی آج صبح ہی بیرون ملک سے کراچی پہنچے تھے۔ وہ جرمنی میں رہتے ہیں لیکن جس وقت انہیں انتقال کی خبر ملی وہ لندن میں ثروت صابری کے گھر آئے ہوئے تھے اور انہی کے ساتھ ہی آج کراچی پہنچے۔

امجد صابری نے اپنے اہل خانے میں 2 بیوائیں اور 5 بچے چھوڑے ہیں جن میں دو بیٹیاں اور تین بیٹے شامل ہیں۔

کیس کی تحقیقات
قوال امجد صابری قتل کیس کی تحقیقات کے دوران رینجرز حکام نے مقتول کے گھر کی سی سی ٹی وی کیمروں کی ویڈیو فوٹیج تحویل میں لے لی ہے، جبکہ پولیس نے ایک ملزم کا خاکہ بھی جاری کیا۔

XS
SM
MD
LG