رسائی کے لنکس

سزائے موت دینے والے ملکوں میں چین سر فہرست: ایمنسٹی


چین، بیلاروس اور ویتنام کے بعد، سنہ 2016 میں سزائے موت پر عمل درآمد کرنے والی فہرست میں ایران دوسرے نمبر پر تھا، جہاں کم از کم 567 افراد کو موت کی سزا دی گئی؛ 154 کے عدد کے ساتھ سعودی عرب تیسرے نمبر پر، جب کہ 88 اور 87 کے اعداد کے ساتھ عراق اور پاکستان، بالترتیب، چوتھے اور پانچویں نمبر پر ہیں

حقوقِ انسانی کے ادارے، ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ کا کہنا ہے کہ لوگوں کو سزائے موت دینے کے معاملے پر چین دنیا میں سب سے آگے ہے، جب کہ 2016ء میں دیگر ممالک میں موت کی سزا میں ایک تہائی سے زائد کی کمی واقع ہوئی ہے۔

’ایمنسٹی‘ کسی طور پر بھی سزائے موت کے حق میں نہیں۔ اُس نے چین، بیلاروس اور ویتنام کی حکومتوں کو اس فہرست میں شامل کیا ہے، جو پھانسوں کا ریکارڈ ظاہر نہیں کرتیں، یہ کہتے ہوئے کہ یہ اعداد ریاستی صیغہٴ راز کا معاملہ ہے۔

تاہم، ایمنسٹی کے تحقیق کار، ولی منی نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ گروپ نے ذرائع ابلاغ کی اطلاعات، سرکاری دستاویزات اور چین میں لوگوں سے کی گئی بات چیت کی بنیاد پر صورت حال کا تخمینہ لگایا ہے۔

نی نے کہا ہے کہ ’’چینی معاشرے میں کئی قابلِ بھروسہ پروفیسر موجود تھے جنھوں نے کہا ہے کہ گذشتہ 10 برس کے دوران، جب چین سزائے موت کے نظام میں اصلاحات کی کوششیں کر رہا ہے، کہ یہ پانچ کے ہندسے سے ہٹ کر، یعنی اعداد 10000 سے کم ہو کر چار کے ہندسے کے اندر چلا گیا، یعنی یہ تعداد ہزاروں میں ہے۔ اس لیے، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اندازہ درست ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا ہے کہ ایمنسٹی نے چین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’’صفائی پیش کرے‘‘، اور دنیا کو بتائے کہ وہ ہر سال کتنے افراد کو پھانسیوں اور موت کی سزائیں دیتا ہے۔

سال 2016کے دوران، ایمنسٹی کے اعداد میں چین کے علاوہ 23 دیگر ملکوں کے نام شامل کئے گئے ہیں۔

ایران، سعودی عرب

سنہ 2016 میں سزائے موت پر عمل درآمد کرنے والی فہرست میں ایران دوسرے نمبر پر ہے، جہاں کم از کم 567 افراد کو موت کی سزا دی گئی؛ 154 کے عدد کے ساتھ سعودی عرب تیسرے نمبر پر، جب کہ 88 اور 87 کے اعداد کے ساتھ عراق اور پاکستان، بالترتیب، چوتھے اور پانچویں نمبر پر ہیں۔

ایمنسٹی نے بتایا ہے کہ دنیا بھر میں موت کی سزا کم ہو کر 1،032 پر آگئی ہے، جو گذشتہ 10 سالہ اوسط کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

جن جرائم پر موت کی سزا سنائی جاتی ہے اُن میں جاسوسی، اغوا، زنا بالجبر، توہینِ مذہب، غداری اور مخبری شامل ہیں۔ ایمنسٹی کے مطابق، موت کی سزاؤں میں سرقلم کرنا، پھانسی دینا، زہریلہ انجیکشن لگانا اور گولی مارنا شامل ہے۔

پچھلے برس امریکہ میں موت کی صرف 20 سزائیں دی گئیں، اور یوں 1991ء سے اب تک یہ اس سزا کی کم ترین سطح ہے۔ گذشتہ سال، ایک دہائی میں پہلی بار امریکہ اُن چوٹی کے پانچ ملکوں میں شمار نہیں ہوتا جہاں موت کی سزا پر عمل درآمد کیا گیا۔

تاہم، ایمنسٹی نے متنبہ کیا ہے کہ امریکہ میں سزائے موت میں کمی آنے کا سبب کسی حد تک یہ ہے کہ زہریلے انجیکشن دیے جانے کے معاملے پر قانونی چیلنج درپیش ہیں، اور جب قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ آتا ہے تو سزا پر عمل درآمد میں تیزی آسکتی ہے۔


ایمنسٹی کے سکریٹری جنرل، سلیل شیٹی کے بقول، ’’مباحثے کا انداز بدل رہا ہے۔ سیاستدانوں کی جانب سے جرائم کا سختی سے قلع قمع کرنے کے بیانئے میں کمی کرنی ہوگی، جس کے نتیجے میں 1980 اور 1990ء کی دہائیوں میں سزائے موت پر عمل درآمد کے زمرے میں اضافہ دیکھا گیا۔ سزائے موت پر عمل درآمد سے کسی کو زیادہ تحفظ نہیں ملتا‘‘۔


بینن اور نارو دو ایسے ملک ہیں جنھوں نے 2016ء کے دوران سزائے موت پر بندش عائد کرنے کا اعلان کیا، جس بات کو ایمنسٹی ایک مثبت اقدام قرار دے رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG