رسائی کے لنکس

اسرائیل فلسطینی سرگرم کارکن کے خلاف مقدمہ واپس لے، ایمنسٹی


عیسیٰ امرو (فائل فوٹو)

عیسیٰ امرو (فائل فوٹو)

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مشرق وسطیٰ کے ڈائریکٹر میگڈالینا مغرابی نے کہا کہ "عیسیٰ امرو کے خلاف عائد متعدد الزامات کسی بھی چھان بین میں ثابت نہیں ہو سکے ہیں۔"

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی سرگرم کارکن کے خلاف عائد الزامات واپس لے۔

تنطیم کی طرف سے یہ مطالبہ مغربی کنارے میں ایک فوجی عدالت میں فلسطینی کارکن کے خلاف قائم مقدمے کی منگل کو ہونے والی سماعت کے موقع پر سامنے آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مشرق وسطیٰ کے ڈائریکٹر میگڈالینا مغرابی نے کہا کہ "عیسیٰ عمرو کے خلاف عائد متعدد الزامات کسی بھی چھان بین میں ثابت نہیں ہو سکے ہیں۔"

مغرابی نے کہا کہ"ان کو خاموش کروانے اور انسانی حقوق کے لیے ان کے کام میں رکاوٹ ڈالنے ۔۔۔ان کے خلاف ایک بند مقدمے کی فائل کو دوبارہ کھول لیا ہے۔"

"وہ لوگ جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں ان کے کام کو سامنے لانا چاہیئے نا کہ ان پر حملہ کیا جائے اور انہیں ہراساں کیا جائے۔"

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ عیسیٰ نے ایک ایسا گروپ قائم کیا ہوا ہے جو مغربی کنارے کے الخلیل شہر میں ان کے بقول غیر قانونی طور پر تعمیر کی جانے والی یہودی بستیوں اور فلسطینیوں کے خلاف مبینہ طور پر روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کے خلاف احتجاج کو منظم کرتے ہیں۔

عیسیٰ کو کئی طرح کے الزامات کا سامنا ہے جن میں اسرائیلی فوجی کی توہین کرنا، حملہ کرنے کے علاوہ بغیر اجازت نامے کے احتجاج کرنے کا الزام بھی شامل ہے جس کے بارے میں ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جرم نہیں ہے۔

ایمنسٹی نے اسرائیلی حکام کے ان الزامات کی چھان بین کا مطالبہ کیا ہے کہ پولیس کی حراست کے دوران اسے مارپیٹ کا نشانہ بنایا۔

اسرائیلی حکام کی طرف سے ایمنسٹی انٹرنینشل نے عیسیٰ کے خلاف تمام الزامات کو واپس لینے کے مطالبہ پر اسرائیلی حکام کی طرف سے تاحال کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG