رسائی کے لنکس

قطر میں مزدوروں کو 'جبری مشقت اور استحصال' کا سامنا: ایمنسٹی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

رپورٹ کے مطابق ان مزدوروں سے مبینہ طور پر زبردستی کام لینے کے لیے ان کے کفیل پاسپورٹ ضبط کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے یہ لوگ ملک چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔

انسانی حقوق کی ایک بین الاقوامی تنظیم "ایمنسٹی انٹرنیشنل" نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ قطر میں 2022ء میں منعقد ہونے والے فٹبال عالمی کپ کے سلسلے میں جاری تعمیراتی کام میں مزدوروں سے مبینہ طور پر "جبری مشقت" لی جا رہی ہے اور ان کا استحصال کیا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق اور ذرائع ابلاغ کی تنظیمیں پہلے بھی قطر میں روزگار سے متعلق شدید تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔

جمعرات کو ایمنسٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ان تارکین وطن مزدوروں کو کئی ماہ تک تنخواہیں روکے جانے اور رہائش کے لیے انتہائی گندی اور تنگ جنگ پر رہنے جیسے حالات کا سامنا ہے۔

تنظیم نے بنگلہ دیش، بھارت اور نیپال سے تعلق رکھنے والے دو سو سے زائد مزدوروں سے گزشتہ سال فروری سے مئی کے درمیان انٹرویوز کیے جن کی بنیاد پر 52 صفحات کی رپورٹ جاری کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق ان مزدوروں سے مبینہ طور پر زبردستی کام لینے کے لیے ان کے کفیل پاسپورٹ ضبط کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے یہ لوگ ملک چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔

علاوہ ازیں بعض واقعات میں انھیں یہاں روزگار دلانے والے ان کے ویزوں میں توسیع اور دیگر ضروری کاغذی کارروائی مکمل نہیں کرتے جس بنا پر ان تارکین وطن کو بھاری جرمانوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تنظیم نے ایک مزدور کے حوالے سے کہا کہ اس نے مستقل تاخیر سے تنخواہ ملنے کی وجہ سے واپس اپنے ملک جانا چاہا تو اس کے مالک نے مبینہ طور پر دھمکی دی کہ وہ اس کی تنخواہ روک لے گا اور اس نے کہا کہ "کام کرو ورنہ تم کبھی بھی نہیں جا سکو گے۔"

ایمنسٹی کے خلیج میں تارکین وطن سے متعلق محقق مصطفیٰ قادری اعتراف کرتے ہیں کہ قطر کی حکومت نے مزدوروں کے لیے حالات بہتر بنانے کے لیے کچھ اقدام کیے، لیکن ان کے بقول اسے مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔

قطر نے ملازموں کے لیے نظام "کفالہ" میں تبدیلی کا اعلان کیا تھا اور امیر تمیم بن حماد الثانی نے گزشتہ اکتوبر میں ایک قانون پر دستخط کے تھے جس کے تحت یہاں ملازمت کے لیے آنے والے اپنی نوکری تبدیل یا چھوڑ سکیں گے۔

XS
SM
MD
LG