رسائی کے لنکس

ملالہ کے لیے ’ضمیر کی سفیر‘ کا ایوارڈ


ملالہ یوسفزئی

ملالہ یوسفزئی

’’ضمیر کا سفیر‘‘ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اعلیٰ ترین ایوارڈ ہے جو ان شخصیات کو دیا جاتا ہے جو انسانی حقوق کے لیے عملی طور پر اپنی زندگی میں مثالیں قائم کرتے ہیں۔

انسانی حقوق کی ایک موقر بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بچیوں کی تعلیم کے لیے آواز بلند کرنے والی پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی کے لیے ’’ضمیر کی سفیر‘‘ ایوارڈ کا اعلان کیا ہے۔

سولہ سالہ ملالہ یوسفزئی کو گزشتہ سال سوات میں طالبان شدت پسندوں نے فائرنگ کرکے شدید زخمی کر دیا تھا اور بعد ازاں علاج کے لیے برطانیہ منتقل ہونے والی یہ طالبہ صحتیابی کے بعد یہیں مقیم ہیں۔

ملالہ کو یہ ایوارڈ منگل کو آئرلینڈ کے شہر ڈبلن میں ہونے والی ایک تقریب میں دیا جا رہا ہے۔ ان کے ساتھ 2013ء کا سفیر برائے ضمیر ایوارڈ امریکی گلوکار و انسانی حقوق اور سماجی انصاف کے سرگرم کارکن ہیری بلافونٹے کو بھی دیا جا رہا ہے۔

’’ضمیر کا سفیر‘‘ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اعلیٰ ترین ایوارڈ ہے جو ان شخصیات کو دیا جاتا ہے جو انسانی حقوق کے لیے عملی طور پر اپنی زندگی میں مثالیں قائم کرتے ہیں۔

تنظیم کے سیکرٹری جنرل سلیل شیٹھی نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ہمارے نئے ضمیر کے سفراء کئی حوالوں سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں لیکن یہ دونوں ایک مشترکہ عزم لیے ہوئے ہیں جو کہ انسانی حقوق کے لیے ہر جگہ اور ہر کسی کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔‘‘

اس ایوارڈ کے اعلان پر ملالہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ یہ ان کے لیے ایک اعزاز ہے۔ ’’میں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سب کو یہ یاد دلانا چاہتی ہوں کہ میری طرح پوری دنیا میں لاکھوں بچے ہیں جو ہر روز تعلیم کے حصول کے اپنے حق کے لیے لڑ رہے ہیں۔‘‘

انھوں نے امید ظاہر کی کہ مشترکہ کوششوں سے دنیا کے ہر کونے میں بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کا حق دلانے میں کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔

یہ ایوارڈ اس سے پہلے جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن منڈیلا اور برما کی جمہوریت پسند رہنما آنگ سان سوچی کو بھی دیا جا چکا ہے۔
XS
SM
MD
LG