رسائی کے لنکس

افغان جوڑے کو کوڑوں کی سزا 'قابل نفرت' ہے: ایمنسٹی انٹرنیشنل


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اس سزا پر عملدرآمد کی وڈیو ٹی وی نشر ہونے کے بعد اس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے تنقید کرتے ہوئے افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس "غیر انسانی" سزا کا نوٹس لیا جائے۔

انسانی حقوق کی ایک موقر بین الاقوامی تنظیم 'ایمنسٹی انٹرنیشنل' نے افغانستان میں غیر قانونی جنسی تعلقات کے الزام میں ایک جوڑے کو سرعام کوڑے مارنے کی سزا کو "قابل نفرت" عمل قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ایک بیان میں تنظیم کا کہنا تھا کہ صوبہ غور میں اس جوڑے کو ایک سو کوڑوں کی سزا سنائی گئی تھی جس پر 30 اگست کو عملدرآمد کیا گیا۔

ایمنسٹی کے مطابق کوڑے مارے جانے کے عمل میں مبینہ طور پر عدالت کا ایک جج بھی شریک ہوا جس نے پولیس اور دیگر حکام کی موجودگی میں اس جوڑے کو کوڑے مارے۔

اس سزا پر عملدرآمد کی وڈیو ٹی وی نشر ہونے کے بعد اس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے تنقید کرتے ہوئے افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس "غیر انسانی" سزا کا نوٹس لیا جائے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی افغانستان کے لیے محقق حوریہ مقدس کا کہنا تھا کہ " اس معاملے میں جسمانی سزا، غیر انسانی، وحشیانہ اور ہتک آمیز ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں رائج قبائلی نظام انصاف کے تحت یہ سزائیں اب بھی لوگوں کو دی جاتی ہیں جو کہ غیر قانونی ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ طالبان اور بعض دیگر شدت پسند تنظیمیں بھی ایسی سزاؤں کو اسلامی قوانین کے مطابق قرار دیتے ہوئے مجرموں کو سناتی رہی ہیں اور ان پر عملدرآمد بھی کیا جاتا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG