رسائی کے لنکس

12 لاکھ سے زائد افغان اندرون ملک بے گھر ہوئے: ایمنسٹی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

کابل کیمپ میں ایک دہائی سے زائد عرصے سے مقیم فرزانہ کا کہنا تھا کہ "جب آپ اپنے بچوں کے سامنے کھانا نہ رکھ سکیں تو یہ گولی لگنے سے بھی بدتر ہے۔"

افغانستان میں گزشتہ تین سالوں کے دوران تشدد کے واقعات کے باعث 12 لاکھ سے زائد افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

یہ بات انسانی حقوق کی ایک موقر بین الاقوامی تنظیم "ایمنسٹی انٹرنیشنل" نے منگل کو اپنی ایک رپورٹ میں بتاتے ہوئے کابل حکومت اور بین الاقوامی برادری سے جنگ کے باعث اندرون ملک بے گھر ہونے والے افراد کے مسئلے کو حل کرنے پر زور دیا۔

کابل میں جاری کی گئی رپورٹ میں تنظیم کا کہنا تھا کہ جیسے لڑائی میں اضافہ ہو رہا ہے ویسے ہی بے گھر افراد کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے اور یہ لوگ "ہولناک حالات میں اپنی بقا کے دہانے پر کھڑے ہیں۔"

2001ء میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اس ملک میں جنگ کی صورتحال ہے جب کہ حالیہ مہینوں میں ایک بار پھر طالبان نے اپنی پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق صرف 2015ء میں افغانستان میں 11002 شہری ہلاک و زخمی ہوئے اور ان کی اکثریت شدت پسندوں کی کارروائیوں میں نشانہ بنی۔

افغانستان میں انسانی حقوق کی ایک غیر سرکاری تنظیم "افغانستان ہیومن رائٹس آرگنائزیشن" کے عہدیدار لعل گل لعل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ تنازع میں شدت سے لوگوں کے لیے حالات مزید ابتر ہو سکتے ہیں۔

"آپ کو پتا ہے کہ گرمیوں کا موسم جو ہے اس میں لڑائی بڑھ جاتی ہے، تو اس سے لوگوں کے لیے مشکلات بڑھیں گی۔۔۔جب تک امن نہیں ہو گا تو پھر انسانی حقوق کی بچوں کے حقوق کے اور قوانین کی خلاف ورزی تو ہوتی رہے گی۔"

ایمنسٹی نے اپنی رپورٹ میں کابل کے ایک کیمپ میں ایک دہائی سے زائد عرصے سے مقیم فرزانہ کا حوالہ دیا۔ یہ خاتون سات بچوں کی ماں ہیں جو صوبہ پروان سے اپنا گھر بار چھوڑ کر یہاں منتقل ہوئیں۔

فرزانہ کے شوہر نے چند سال پہلے انھیں چھوڑ دیا تھا جس کے بعد سے وہ اکیلے ہی اپنے کنبے کا پیٹ پال رہی ہیں۔

فرزانہ کا کہنا تھا کہ "جب آپ اپنے بچوں کے سامنے کھانا نہ رکھ سکتے ہوں تو یہ گولی لگنے سے بھی بدتر ہے۔"

تنظیم نے الزام عائد کیا کہ ایسے علاقوں میں جہاں بین الاقوامی برادری بھی مدد فراہم کر رہی ہے افغان حکومت اس مسئلے سے نمٹنے میں ناکام رہی ہے۔

افغان تجزیہ کار ہارون میر نے وی او اے سے گفتگو میں کہا کہ نقل مکانی کرنے والے افراد کی اتنی بڑی تعداد افغان حکومت کے لیے ایک چیلنج ہے۔

"یہ ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ افغان حکومت کے وسائل کم ہیں اور وہ بین الاقوامی برادری پر انحصار کرتی ہے اور یہ حکومت کے لیے بہت بڑا مسئلہ ہے کیونکہ ان لوگوں کا اضطراب حکومت پر مزید دباؤ بڑھاتا ہے اور اتحادی حکومت جو کہ پہلے ہی سیاسی و اقتصادی مسائل کا شکار ہے اس کے لیے یہ ایک اضافی دباؤ اور مسئلہ ہے۔"

لیکن افغان پناہ گزینوں کی وزارت کے ترجمان حافظ احمد میاں خیل نے ایمنسٹی کے فراہم کردہ اعدادوشمار سے اتفاق نہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تعداد دس لاکھ کے لگ بھگ ہے اور ان میں بہت سے لوگ صرف جنگ ہی سے نہیں بلکہ سیلابوں اور زلزلے جیسی قدرتی آفات سے متاثر ہوئے۔

XS
SM
MD
LG