رسائی کے لنکس

2014 کروڑوں لوگوں کے لیے "تباہ کن" سال رہا: ایمنسٹی انٹرنیشنل


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ایمنسٹی نے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان پر ایسے معاملات پر اپنے ویٹو کے حق کو استعمال نہ کرنے پر زور دیا جہاں نسل کشی اور بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا ارتکاب کیا جا رہا ہو۔

انسانی حقوق کی ایک عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ حکومتیں عام شہریوں کو ریاستی اور مسلح گروہوں کی طرف سے روا رکھے جانے والے تشدد سے بچانے میں ناکام رہی ہیں اس کے (سدباب کے) لیے عالمی ردعمل "شرمناک اور غیر موثر" رہا ہے۔

بدھ کو جاری ہونے والی اپنی سالانہ رپورٹ میں انسانی حقوق کی عالمی تنطیم نے 2014ء کو دنیا بھر کے کروڑوں لوگوں کے لیے ایک "تباہ کن" سال قرار دیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکرٹری جنرل سلیل شیٹی نے ایک بیان میں کہا کہ "جب لوگوں کو بڑھتے ہوئے وحشیانہ حملوں، تشدد اور طاقت کے استعمال کا سامنا رہا تو بین الاقوامی برادری نے اس کے خلاف کوئی مناسب اقدام نہ اٹھایا"۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار گزشتہ سال شام سے لے کر یوکرین، غزہ سے نائیجریا تک بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں جب کہ اس دوران دنیا بھر میں بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد پانچ کروڑ سے تجاوز کر گئی۔

رپورٹ میں شام سے بے گھر ہونے والے 40 لاکھ پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے یورپی یونین کے کردار پر بھی تنقید کی۔ 2014ء کے اواخر تک صرف 150,000 شامی پناہ گزین یورپی یونین کے ملکوں میں مقیم تھے جب کہ 3,400 پناہ گزین یورپ جانے کی کوشش کے دوران بحیرہ روم میں موت کا شکار ہو گئے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل پر بھی اس حوالے سے تنقید کی کہ وہ عام شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں "بری طرح ناکام" رہی ہے۔

شیٹی نے کہا کہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان برطانیہ، چین، امریکہ، روس اور امریکہ نے اپنے سیاسی اور جغرافیائی مقاصد کے فروغ کے لیے اپنے ویٹو کے حق کا '’مسلسل غلط" استعمال کیا۔

رپورٹ میں روس کی طرف سے ویٹو کے دھمکی کی طرف اشار ہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس کی وجہ سے سلامتی کونسل کے لیے یہ ناممکن ہو گیا کہ وہ یوکرین میں پیش آنے والے واقعات کے بار ے میں کوئی عملی اقدام کر سکے۔

ایمنسٹی نے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان پر ایسے معاملات پر اپنے ویٹو کے حق کو استعمال نہ کرنے پر زور دیا جہاں نسل کشی اور بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا ارتکاب کیا جا رہا ہو۔

رپورٹ کے مطابق جن 160 ممالک کے بارے میں سروے کیا گیا ہے ان میں سے مسلح گروہوں نے 2014ء کے دوران کم ازکم 35 ممالک میں زیادتیاں کی ہیں اور اس کے لیے شدت پسند گروہ ’داعش‘ کا منطر عام آنے کا خاص طور پر ذکر کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ داعش نے اقلیتی برادری کے افراد کو فوری قتل اور ان کے اغوا سمیت بڑے پیمانے پر جنگی جرائم کا ارتکاب کیا۔

جب کہ رپوٹ میں مزید کہا گیا کہ عسکریت پسندوں نے سنی برادری کے ان افراد کو بھی قتل کیا جن پر انہیں شک تھا کہ وہ ان کے مخالف ہیں جبکہ ہزاروں خواتین اور لڑکیوں کو بھی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

اس رپورٹ کے مطابق 2014ء میں عراق، اسرائیل، روس، جنوبی سوڈان اور شام کو بھاری مقدار میں اسلحہ فراہم کیا گیا اس خدشے کے باوجود کہ یہ اسلحہ عام شہریوں کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں اس چیز کو بھی واضح کیا گیا ہے کہ کینیا اور پاکستان سمیت کئی حکومتوں نے 2014ء کے دوران سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے 'سخت گیر اور جابرانہ" اقدامات کا استعمال کیا۔

تاہم پاکستان کی طرف سے تاحال اس بارے میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

شیٹی نے کہا کہ مناسب سیاسی اور مالیاتی ذرائع کو استعمال میں لا کر یہ عالمی رہنماؤں کے " اختیار میں ہے کہ وہ کروڑوں افراد کی مشکلات کم کر سکتے ہیں"۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ انسانی حقوق سے متعلق عالمی منطر نامہ روشن نہیں ہے تاہم اس کے لیے حل موجود ہیں۔ رپورٹ میں عالمی رہنماؤں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ عالمی بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدام کریں۔

XS
SM
MD
LG