رسائی کے لنکس

امنگ دی بلیورز: پاکستان میں مروج تعلیمی نظاموں پر دستاویزی فلم

  • سارہ زمان

فائل

فائل

فلم میں دکھایا گیا ہے کہ پاکستان کا نظام تعلیم اس وقت وہ میدان ہے جس میں دائیں اور بائیں بازو کے تصورات کی جنگ زور و شور سے لڑی جا رہی ہے

یہ فلم پاکستان میں ساتھ ساتھ چلنے والے ان دو تعلیمی نظاموں کی عکاسی ہے جو فلم کے تخلیق کاروں کے بقول ملک کے مستقبل کو دو مختلف سمتوں میں لے جا رہے ہیں۔

'امنگ دی بلیورز' یا "اہلِ ایمان کے درمیان" نامی یہ دستاویزی فلم پاکستان میں انتہائی دائیں بازو اور سیکولر سوچ رکھنے والوں کے درمیان اس کشمکش کی کہانی ہے جس نے قوم کو ایک طرح سے دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔

یہ فلم ایک بھارتی خاتون فلم ساز ہیمل تریویدی اور پاکستانی فلم ساز محمد علی نقوی کی مشترکہ پیشکش ہے۔

فلم میں دکھایا گیا ہے کہ پاکستان کا نظام تعلیم اس وقت وہ میدان ہے جس میں دائیں اور بائیں بازو کے تصورات کی جنگ زور و شور سے لڑی جا رہی ہے اور اس کے نتیجے میں نئی نسل کا مستقبل کس طرح متاثر ہو رہا ہے۔

'امنگ دی بلیورز' پہلی دستاویزی فلم ہے جس میں لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کو بہت قریب سے دکھایا گیا ہے اور فلم کیمروں کو لال مسجد اور اس سے منسلک مدارس کے اندر کی دنیا تک رسائی ملی ہے۔

فلم میں مولانا عبدالعزیز کے علاوہ ناظرین کی ملاقات طارق نامی ایک عام شہری سے بھی ہوتی ہے جو پڑھا لکھا تو نہیں، لیکن اس کے باوجود اس نے اسلام آباد کے ایک نواحی گاؤں میں اپنے ذاتی وسائل کو بروئے کار لا کر ایک نجی اسکول کھولا۔

فلم کی اصل روح وہ معصوم بچے اور بچیاں ہیں جن کی زندگیاں صرف اس لیے ایک مخصوص راستے پر چلنے لگتی ہیں کیونکہ ان کے والدین ان کا بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے۔

ان بچوں کے معصوم ذہنوں کو دینی مدارس اور روایتی اسکول کن راستوں پر ڈالنے میں مصروف ہیں؟ اور یہ راستے پاکستان کو بطور ایک ملک کس سمت لے جائیں گے؟ ایسے بہت سے سوالات اٹھاتی اس دستاویزی فلم کو ان دونوں امریکہ میں بہت پزیرائی مل رہی ہے۔

'امنگ دی بلیورز' کے تخلیق کاروں کو اسے بنانے کا خیال کہاں سے آیا اور اس کی تیاری کے عمل نے فلم سازوں کو کس طرح متاثر کیا، یہ جاننے کے لیے سنیے 'وائس آف امریکہ' کے ساتھ ان کی خصوصی گفتگو:

XS
SM
MD
LG