رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: فلسطینی مملکت کی نئی حیثیت


فلسطینی غیر رکن کا درجہ حاصل ہونے کی خوشی منارہے ہیں

فلسطینی غیر رکن کا درجہ حاصل ہونے کی خوشی منارہے ہیں

رائے شماری سے قبل امریکی محکمہ خارجہ نے کہہ دیاتھا کہ قطع نظر اس کے کہ اقوام متحدہ میں کیا فیصلہ ہوتا ہے، امریکہ امن کے عمل کے لیے برابر مسٹر عباس کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔

نیویارک ٹائمز

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کا درجہ مبصر سے بڑھا کر غیر رکن ملک کرنے کا جو فیصلہ 130 سے زیادہ ملکوں کی حمایت سے کیا ہے ، اسے نیویارک ٹائمز نے امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایک بھاری شکست سے تعبیر کیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ اخبار نے اسے فلسطین انتظامیہ کے صدر محمود عباس کے وقار میں اضافہ قرار دیاہے، جن کی حیثیت غزہ کی حالیہ لڑائی کی وجہ سے کمزور پڑ گئی تھی۔

اخبار کہتا ہے کہ ملک کے مرتبے میں اس نئے اضافے کی بدولت فلسطینیوں کے لیے بین الاقوامی قانونی اداروں میں اسرائیل پر دباؤ ڈالنا آسان ہوجائے گا۔ لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ دومملکتی والے اس حل پر کیا اثر پڑے گا جس کا حصول دونوں فریقوں نے اپنا مقصد بنا لیا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ اقوام متحدہ میں جس بھاری تعداد میں رکن ممالک کی طرف سے فلسطینیوں کو حمایت حاصل ہوئی ہے، وہ غیر معمولی ہے اور اس کی ان کے نصب العین کے لیے زبردست علامتی اہمیت ہے۔ جس کو اس حقیقت نے اور بھی اہم بنا دیا ہے کہ یہ فیصلہ جنرل اسمبلی کی اس رائے شماری کی 65 ویں سالگرہ پر آیا ہے جس کی رو سے فلسطین کے سابقہ برطانوی تولیتی علاقے کو دومملکتوں میں بانٹ دیا گیاتھا۔ ایک تو یہودی مملکت اور دوسری فلسطینی مملکت۔ اس رائے شماری کو اسرائیل اپنی تخلیق کے لیے بین الاقوامی مہر کی نظر سے دیکھتا ہے۔

وال سٹریٹ جرنل

وال سٹریٹ جرنل کہتا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ نے محمود عباس پر بڑا دباؤ ڈالا تھا کہ اقوام متحدہ کی اس رائے شماری کو ملتوی کریں، لیکن حالیہ دنوں میں ان کی تنقید کا لہجہ نرم ہوگیا، جب انہیں اندازہ ہوگیا کہ اقوام متحدہ میں اس کی حمایت اب ناگزیر ہے۔

رائے شماری سے قبل امریکی محکمہ خارجہ نے کہہ دیاتھا کہ قطع نظر اس کے کہ اقوام متحدہ میں کیا فیصلہ ہوتا ہے، امریکہ امن کے عمل کے لیے برابر مسٹر عباس کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔

لیکن اخبار کے بقول امریکی کانگریس مسٹر عباس اور ان کی فلسطینی انتظامیہ کے خلاف اب بھی قدم اٹھا سکتی ہے، بلکہ دونوں پارٹیوں پر مشتمل حمایت سے وہاں ایک قرارداد پیش کی گئی ہے جس میں دھمکی دی گئی ہے کہ اگر بین الاقوامی فوجداری عدالت میں اسرائیل کے خلاف مقدمے دائر کردیے گئے تو فلسطینی انتظامیہ کے لیے امریکی امداد بند کردی جائے گی۔

اخبار نے اقوام متحدہ میں سفارت کاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ غزہ میں آٹھ روزہ جنگ کے بعد فلسطینی انتظامیہ کے مقابلے میں حریف حماس تنظیم کا پلہ بھاری ہونے کے بعد، اس کی انتظامیہ کے لیے بین الاقوامی سطح پر ہمدردی میں اضافہ ہوگیا ہے اور اقوام متحدہ کی قرارداد کے بعد اس کا وقار بڑھ گیا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ اقوام متحدہ کی رائے شماری کے بعد محمود عباس نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا کہ آیا اب وہ اسلامی ملکوں کی تنظیم یا کسی اور ادارے میں شامل ہوں گے، لیکن انہوں نے اسرائیل کو یہ واضح انتباہ کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت جس ڈھٹائی سے جن جارحانہ پالیسیوں پر عمل کرتی آئی ہے، اور جس قسم کے جنگی جرائم کا ارتکاب کرتی آئی ہے، اس وجہ سے کہ وہ اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھتی تھی، اور احتساب اور نتائج بھگتنے سے اپنے آپ کو مبرا سمجھتی آئی ہے، لیکن انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جب دنیا اس سے کہے گی اور جارحیت ، یہودی بستیوں کی تعمیر اور زبردستی قبضے کا وقت ختم ہوگیا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ

واشنگٹن پوسٹ ایک اداریے میں لکھتا ہے کہ صدر محمود عباس نے رائے شماری سے قبل دو متضاد راستوں کا اشارہ دیا تھا۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ نیا رتبہ حاصل کرنے کے بعد وہ فوری طورپر اسرائیل کے ساتھ براہ راست امن مذاکرات کریں گے، جن سے انہوں نے پچھلے چار سال کے دوران اجتناب کررکھا ہے۔

ان کے ایک ترجمان نے کہاہے کہ اقوام متحدہ کی رائے شماری کے بعد براہ راست مذاکرات کے لیے راہ ہموار ہوجائے گی۔

لیکن اخبار کے بقول مسٹرعباس کے مشیروں نے ایک اور حکمت عملی کی بھی بات کی ہے، جس کے مطابق اقوام متحدہ میں نیا درجہ مل جانے سے فلسطین کو یہ حق مل جاتا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت اور دوسرے بین الاقوامی فورمز میں مقدمے لے کر جائیں۔ جن میں مغربی کنارے کے بعض علاقوں پر اسرائیل کے جاری قبضےکو بین الاقوامی جارحیت کے فعل سے تعبیر کیا جائے گا۔

اخبار کہتا ہے کہ اس سے اسرائیل کے بہت سے مخالفین کی تو تسلی ہوجائے گی لیکن اس کے نتیجے میں یورپی ملکوں ، اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے جوابی کارروائی ہوسکتی ہے۔ جس میں تنگ دست فلسطینی انتظامیہ کی مالی امداد کی بندش شامل ہے۔ چنانچہ اوباما انتظامیہ کو اب بلاشبہ اس ذمہ داری سے نمٹا ہوگا کہ کس طرح اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تشدد کی آگ نہ بھڑکنے پائے اور فلسطینی انتظامیہ ناکام نہ ہو۔
XS
SM
MD
LG