رسائی کے لنکس

عراقی آثار قدیمہ کے ماہر، سرمد الوان نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ نمرود کو اس طرح سے مسمار کر دیا گیا ہے کہ ’’یہ سوچنا محال ہے کہ اسے بحال کیا جا سکتا ہے‘‘

اس ہفتے کے آغاز پر جب امریکی قیادت والی عراقی افواج نے داعش کے شدت پسند گروپ کو نمرود سے باہر دھکیل دیا، اُنھیں پتا چلا کہ قدیم دور کے شام کا یہ آثار قدیمہ کا شہر کھنڈر بن چکا ہے۔

عراقی پیش قدمی سے کچھ ماہ قبل، داعش نے تمام مجسموں کو مسمار اور تاریخی مقامات کو تباہ کر دیا، جو 3000ء سال پرانہ ورثہ تھا، اور ’زغورت‘ کی باقیات میں سے زیادہ تر کو ملیا میٹ کر دیا گیا ہے، جنھیں نویں عیسوی میں کھڑا کیا گیا تھا، کبھی وہ بلند ترین عمارتیں ہوا کرتی تھیں۔

عراقی آثار قدیمہ کے ماہر، سرمد الوان نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ نمرود کو اس طرح سے مسمار کر دیا گیا ہے کہ ’’یہ سوچنا محال ہے کہ اسے بحال کیا جا سکتا ہے‘‘۔
یہ آثار قدیمہ موصل کے جنوب مشرق میں تقریباً 19 میل کے فاصلے پر واقع ہیں۔

نمرود کا نام الہامی کتابوں میں آیا ہے، جب کہ جدید دور میں اس مقام کو کلھو کہا جاتا ہے،جو 610ء سے 1350 ء کے دوران شام کی سلطنت کا دارالحکومت رہ چکا ہے۔

یہ تقریباً 3000 سال پرانا شہر ہے، جو کئی صدیوں تک مٹی تلے دبا رہا، جب اسے 1849ء میں آثار قدیمہ کے ماہرین نے ڈھونڈ نکالا تھا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG