رسائی کے لنکس

امریکی اخبار نیویارک ٹائمزکے لیے ' ڈائری آف سرجری' کے عنوان سے شائع ہونے والے انجلینا جولی کے ذاتی کالم میں انھوں نے رحم کے سرطان کے خوف سے بیضہ دانی اورفیلوپئین ٹیوب نکلوانے کے اہم ترین فیصلےکی تفصیلات بیان کی ہیں۔

انجلینا جولی نے کہا کہ انھوں نے رحم کے کینسر سے بچنے کے لیے احتیاطی تدبیر کے طور پر اپنی بیضہ دانی اور بیض کی نالیاں نکلوا دی ہے۔ اپنی نجی زندگی کے اس مشکل فیصلے کے بارے میں انھوں نے لکھا ہے کہ یہ جان لیوا مرض پہلے ہی ان سے ان کی ماں چھین چکا ہے۔

ہالی وڈ کی نامور اداکارہ انجلینا دو سال پہلے کینسر کو روکنے کی حفاظتی تدبیر کے طور پر چھاتی کے دہرے آپریشن سےگزر چکی ہیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے لیے ' ڈائری آف سرجری' کے عنوان سے شائع ہونے والے انجلینا جولی کے ذاتی کالم میں انھوں نے رحم کے سرطان کے خوف سے اپنی بیضہ دانی اور فیلوپئین ٹیوب نکلوانے کے اہم ترین فیصلے کی تفصیلات بیان کی ہیں ۔

انجلینا جولی نے لکھا تھا کہ خون کے ایک ٹیسٹ سے ان میں پیدائشی طور پر ماں سے وراثت میں ملنے والی ناقص جین 'بی آر سی اے ون' کی تشخیص ہوئی تھی جس سے ان میں چھاتی کے سرطان کے 87 فیصد اور رحم کے سرطان کے خطرے کے 50 فیصد امکانات تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان میں یہ موذی مرض اب تک ان کی ماں، نانی اور ایک عزیزہ کی جان لے چکا ہے۔

ہالی وڈ کا مشہور جوڑا انجلینا اور بریڈ پٹ اگست 2014 میں نو سالہ رومانوی تعلقات میں رکھنے کے بعد رشتہ ازدواج میں منسلک ہوا تھا۔ وہ چھ بچوں میڈوکس، پیکس بیٹیاں، زاہیرے، ویویانے اور جڑواں بچوں شیلوہ اور ناکس کی والدہ ہیں۔

انجلینا جولی نےاپنے تازہ کالم میں انکشاف کیا کہ ''وہ پہلے سے اس احتیاطی سرجری سے گزرنے کی منصوبہ بندی کر رہی تھیں لیکن خیال کرتی تھیں کہ ابھی ان کے پاس ایسا کرنے کے لیے کافی وقت بچا ہے ۔'

انجلینا کے مطابق ''دو ہفتے پہلے مجھے میرے ڈاکٹر کی فون کال موصول ہوئی تھی انھیں خون کے ٹیسٹ کے نتائج میں سوزش کی علامات نظر آئی تھیں جس پر انھوں نے کینسر کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے اسے کینسر کی ابتدائی علامت بتایا تھا۔"

انجلینا لکھتی ہیں کہ انھوں نے اس خبر پر خود کو پرسکون رہنے اور مضبوط رہنے کے لیے کہا کیونکہ ان کے پاس ایسا کوئی جواز نہیں تھا یہ سوچنے کے لیے کہ وہ اپنے بچوں کو بڑے ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکیں گی اور "اپنے بچوں کے بچوں کو دیکھنا میری قسمت میں نہیں ہوگا۔''

"میں نے اسی روز اپنے شوہر بریڈ پٹ کو فون کیا جو اس وقت فرانس میں تھے اور اس کے بعد ہم دونوں سرجن سےجا کر ملے جنھوں نے میری ماں کی تشخیص اور علاج کیا تھا۔ میں ان سے آخری بار تب ملی تھی جس دن میری ماں فوت ہوئی تھی وہ مجھے دیکھ کر رو پڑی اور کہا کہ تم بالکل اپنی ماں جیسی لگ رہی ہو اور اس پر میرے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے اور میں بھی رو پڑی۔''

انجلینا نے لکھا کہ ڈاکٹر نے انھیں اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ رحم کے سرطان کو روکنے کے لیے انھیں احتیاطی سرجری ایک عشرہ پہلے ہی کروا لینی چاہیئے تھی۔

وہ لکھتی ہیں کہ میری والدہ میں اس مرض کی تشخیص49 سال میں ہوئی تھی اور میری عمر 39 سال ہے۔

"الٹرا ساونڈ اور دیگر تشخیص سے کینسر کا خطرہ ظاہر نہیں ہوا مجھے کچھ اطمینان محسوس ہوا کہ اگر یہ واقعی سرطان ہے تو ابھی اس کے ابتدائی مرحلے میں ہونے کا امکان ہو سکتا ہے اگرچہ سی ٹی اسکین کے نتائج بھی واضح طور پر شفاف رہے لیکن پھر بھی ابتدائی رحم کا خطرہ موجود تھا میرے پاس ابھی وقت تھا رحم کے آپریشن سے بچنے کے لیے لیکن میں نے اس مشکل مرحلے سے گزرنے کا فیصلہ کیا ۔''

انجلینا جولی اپنے کالم میں لکھ چکی ہیں کہ وہ اپنی نجی زندگی کے تجربات کو اس لیے لوگوں کے ساتھ شئیر کرنا چاہتی ہیں تاکہ جو کینسر کا شکار ہیں یا جن کے خاندان میں سرطان کی ہسٹری ہے وہ اس موذی مرض کے تدارک کی ہرممکن کوشش کریں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ سرجری سے گزرنے کا فیصلہ کرنے سے پہلے لوگوں کو ہر قسم کے عوامل پر غور کرنا چاہیئے۔

"میں اب ہارمونز کی تبدیلی کی دواوں پر ہوں، میرے بچے پیدا نہیں ہو سکتے ہیں اور کچھ جسمانی تبدیلیوں کی بھی توقع ہے لیکن، اس فیصلے سے میں پرسکون محسوس کر رہی ہوں اس لیے نہیں کیونکہ میں بہادر تھی بلکہ اس لیے کہ یہ زندگی کا حصہ ہے جس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے اور میں جانتی ہوں کہ میرے بچوں کو کبھی یہ نہیں کہنا پڑے گا کہ ان کی ماں رحم کے کینسر سے مر گئی تھی۔"

وہ لکھتی ہیں کہ ان کے رحم میں رسولی موجود تھی لیکن اس کے ٹشوز میں کینسر کی علامات نہیں تھیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ سرطان کے تمام خطرے کو دور کیا جاسکے اور حقیقت یہ ہے کہ وہ کینسر کے خلاف زیادہ کمزور ہوں لیکن اب وہ قدرتی طریقوں سے کینسر کے خلاف مدافعت بڑھانے کی کوشش کریں گی۔

انھوں نے لکھا تھا کہ وہ نسوانیت کو اسی طرح محسوس کرتی ہیں اور انھوں نے یہ فیصلہ اپنے لیے اور اپنے بچوں کے حق میں کیا ہے۔

رحم کے کینسر کی ابتدائی تشخیص اور علاج بہت کم کامیاب ہے کیونکہ یہ سرطان بیضہ کی نالیوں اور بیضہ دانی کی سطح پر پھیل جاتا ہے اور پیٹ کی اوپری سطح کی چربی اومینٹم تک پہنچ جاتا ہے اس کا علاج اکثر مشکل اور جان لیوا بن جاتا ہے خواتین میں رحم کا سرطان پانچواں بڑا کینسر ہے۔

XS
SM
MD
LG