رسائی کے لنکس

’فریڈم ہاؤس‘ کی نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سات میں سے ایک شخص دنیا کے اُن ممالک میں مقیم ہے جہاں سیاسی خبریں حقیقت پر مبنی ہیں، جہاں صحافیوں کے تحفظ کی ضمانت ہے، ذرائع ابلاغ کے امور میں سرکار کی جانب سے کم سے کم عمل دخل ہے اور ’’میڈیا پر قانونی یا معاشی دباؤ نہیں ڈالا جا رہا‘‘

آزادی صحافت پر نگاہ رکھنے والے واشنگٹن کے ایک ادارے کے مطابق، گذشتہ برس دنیا بھر میں پریس کی آزادی ایک عشرے سےزائد عرصے کے دوران اپنی سب سے نچلی سطح پر رہی۔

’فریڈم ہاؤس‘ دنیا بھر میں آزادی اور جمہوریت کے فروغ کی وکالت کرتا ہے۔ ادارے نے اپنی ایک نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ سات میں سے ایک شخص دنیا کے اُن ممالک میں مقیم ہے جہاں سیاسی خبریں حقیقت پر مبنی ہیں، جہاں صحافیوں کے تحفظ کی ضمانت ہے، ذرائع ابلاغ کے امور میں سرکار کی جانب سے کم سے کم عمل دخل ہے اور ’’میڈیا پر قانونی یا معاشی دباؤ نہیں ڈالا جا رہا‘‘۔

رپورٹ کی سربراہ جنیفر دُنہام ہیں۔ اُنھوں نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ مطلق العنان حاکم اور دہشت گرد گروپ دنیا بھر میں صحافیوں کی آزادانہ رپورٹنگ پر ڈورے ڈال رہے ہیں، اُنھیں قید کیا جاتا ہے، اخباری نمائندوں کو بُرا بھلا کہنا اور نامہ نگاروں کا قتل کیا جاتا عام ہے، وہ جو سرکاری ضابطوں اور ہدایت کی انحرافی کرتے ہوئے بدعنوانی سے پردہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہوئے کچھ تحریر کرتے ہیں یا ٹیلی ویژن پر نشر کرتے ہیں۔

دیگر ممالک، مثلاً چین، کچھ انٹرنیٹ سائٹس تک رسائی محدود کرتا ہے جو سرکاری اختیارات کے بارے میں کھل کر بیان کرتے ہیں۔

اُنھوں نے عالمی آزادی صحافت کی بگڑتی ہوئی صورت حال کو ’’صحافیوں کے خلاف شدید طرز کی پُرتشدد کارروائی‘‘ اور دنیا بھر کے میڈیا اداروں میں فروغ پاتی ہوئی بے جا طرف داری اور محاذ آرائی قرار دیا ہے، جہاں حکومت اور باغی گروہ متعدد صحافیوں کو مجبور کردتے ہیں کہ وہ مسلح جھڑپوں کے حوالے سے سرکاری لحاظ سے طرف داری سے کام لیں، یا پھر طاقت ور میڈیا گروپ محض اپنے کاروباری مفادات کو آگے بڑھانے کی کاوش میں مشغول ہیں۔

عرب اسپرنگ کے بعد

دُنہام نے اِس بات کی وضاحت کی کہ امریکہ میں قدامت پسند اور لبرل میڈیا کے درمیان شگاف کا عنصر واضح ہے، جو طرف داری کی ایک ’’عام سی مثال‘‘ ہے۔ تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ مصر میں، صدر عبدالفتح السیسی ’’صحافیوں پر بہت زیادہ دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ حکومت کے حق میں اور اخوان المسلمون کے خلاف لکھیں، یہاں تک کہ عملی طور پر حکومت نے اختلافی آوازوں کو سیاسی طور پر دبا دیا ہے؛ اور سرکاری اور نجی میڈیا میں آپ کو صرف و صرف السیسی کی مدح سرائی نظر آئے گی‘‘۔

اُنھوں نے بتایا کہ شام میں، جہاں گذشتہ سال کم از کم 14 صحافی قتل ہوئے، اور عراق میں ’’ہم دیکھتے ہیں کہ کسی قسم کی بھی خبردینے پر اخباری نمائندوں کو سر کی بازی دینی پڑتی ہے‘‘۔

دُنہام نے کہا کہ مطلق العنان حکومتوں کا تختہ الٹے جانے کا خوف لاحق ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں، آزادی صحافت پر قدغنیں لگائی جاتی ہیں۔

دُنہام نے عرب اسپرنگ کے دوران بھڑک اٹھنے والے احتجاج کی مثال پیش کی جن کا آغاز سنہ 2010 میں ہوا، جن کے نتیجے میں تیونس، مصر اور بالآخر لیبیا میں بُرج الٹے گئے، جو آزادی صحافت اور پریس کی پہنچ کے اثرات دوررس قسم کے ہیں۔
میکسیکو اور وسطی امریکہ کے بارے میں، دُنہام نے بتایا کہ منشیات کے اسمگلروں کے بارے میں تحریروں پر صحافیوں کو مشکل نتائج بھگتنے پڑتے ہیں۔ اِن ’کارٹیلز‘ کی سرپرستی جرائم میں ملوث بدنام ’سنڈیکیٹ‘ کرتے ہیں، جنھیں مقامی پولیس کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے۔

بقول اُن کے، ’’اِن علاقوں میں، صحافیوں کے خلاف ہونے والے حملوں کی چھان بین کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ اس لیے، آپ کے اس کوئی اور راستہ موجود نہیں ماسوائے اس کے کہ آپ خبر شائع کرنے سے باز رہیں یا پھر رپورٹ چھاپیں اور اپنی زندگی سے ہاتھ دھونے پر تیار رہیں‘‘۔

بدنام ترین 10 ملک

اِس سلسلے میں دنیا بھر کے 199 ممالک میں سے 50 کو بدترین قرار دیا جاتا ہے، جہاں ’’اخباری آزادی‘‘ نام کی شے موجود نہیں ہے۔ اِن میں سے 10 کو بدترین ملک کہا جاتا ہے جن کے نام ہیں: شمالی کوریا، ترکمانستان، ازبکستان، کرائیمیا، اریٹریا، کیوبا، بلاروس، اکواٹوریل گِنی اور ایران۔

دُنہام نے شمالی کوریا اور ترکمانستان کو ’’ایران اور کیوبا سے بھی گئے گزرے‘‘ قرار دیا ہے جہاں گفت و شنید کا رواج تک نہیں۔ شمالی کوریا یا ترکمانستان ایسے ملک ہیں جہاں عوام کو انٹرنیٹ تک کوئی رسائی نہیں، اُن پر سرکاری پروپیگنڈا مکمل طور پر حاوی ہے، جہاں حکمران کی ثناخوانی کے علاوہ کوئی دوسرا تاثر پنپنے نہیں دیا جاتا۔ وہاں کے عوام کو دنیا کی خبروں سے کوئی لینا دینا نہیں، وہاں سرے سے، آزادی صحافت جیسی کوئی چیز موجود نہیں‘‘۔

فریڈم ہاؤس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ سال بحرالکاہل کے جزیرہ نما ملک، ’نارو‘ میں پریس کی آزادی کے حوالے سے بدترین زوال دیکھا گیا، چونکہ وہ صحافی جو ملک میں داخل ہونا چاہتے تھے اُنھیں ہزاروں ڈالر کی فی دینا پڑتی تھی؛ یا پھر اُن کے داخلے پر مکمل پابندی تھی، جس کا مقصد ایک ہی تھا کہ اُن مہاجرین کے حق میں کوئی تحریر نہ آسکے جنھیں وہاں قید رکھا گیا، تاکہ وہ پناہ کے حصول کے لیے آسٹریلیا نہ جا پائیں۔

تاہم، دُنہام نے بتایا کہ چند مثبت اطلاعات ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے کچھ ملکوں میں آزادی صحافت کو فروغ دیا جا رہا ہے، لیکن، اِس ضمن میں صرف دو ملکوں، سری لنکا اور برکینا فاسو کے نام کا حوالہ دیا گیا، جہاں صحافیوں کے خلاف پابندیوں میں نرمی برتی جارہی ہے۔

XS
SM
MD
LG