رسائی کے لنکس

عالمی انسانی حقوق کی سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے، وزیر خارجہ جان کیری نے جمعرات کو بتایا کہ متعدد حکومتیں سیاسی بنیاد پر قائم کیے گئے مقدمات کا طریقہ اپنائے ہوئے ہیں، اور اختلاف رائے پر کنٹرول کی غرض سے نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کررہی ہیں

امریکہ نے الزام لگایا ہے کہ دنیا کی متعدد حکومتوں نے اظہار رائے پر سخت ضابطے لاگو کر رکھے ہیں، اور جابرانہ قوانین کے استعمال سے، ’شہریوں کو آفاقی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے‘۔

عالمی انسانی حقوق کے بارے میں سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے، وزیر خارجہ جان کیری نے جمعرات کو بتایا کہ متعدد حکومتیں سیاسی بنیاد پر قائم کیے گئے مقدمات کا طریقہ اپنا رہی ہیں، اور اختلاف رائے پر کنٹرول کی غرض سے نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کررہی ہیں،
چاہے اِن آلات کو عام چوراہوں پر نصب کیا جاتا ہو، یا پھر ٹیکنالوجی کے دیگر طریقوں کے ذریعے۔

کیری نے کئی ایک حکومتوں کا نام لیتے ہوئے کہا، جو، بقول اُن کے، اپنے ہم وطنوں کے انسانی حقوق غصب کر رہی ہیں، جن میں شام، روس، چین، کیوبا، مصر، بنگلہ دیش اور حالیہ دِٕنوں کے دوران معزول ہونے والی یوکرین کی حکومت شامل ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ دنیا بھر کی 80حکومتوں نے ہم جنس پرستوں کے خلاف امتیازی سلوک پر مبنی قوانین وضع کیے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے حوالے سے امریکہ کا ریکارڈ، جہاں 1800ء تک غلامی جائز تھی، مثالی نوعیت کا تو نہیں، لیکن یہاں انسانی حرمت کو س بلند رکھنے کے لیے اولین ترجیح کا درجہ دیا جاتا ہے۔

امریکہ کی چوٹی کے سفارت کار نے کہا کہ وہ ممالک جہاں حقوق انسانی کو پامال کیا جاتا ہے اور اہل کاروں کو ایسے جرائم کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاتا، وہ دراصل اپنےذاتی مفادات کے ساتھ ساتھ امریکہ کے مفادات کے بھی خلاف کام کر رہے ہیں۔

کیری نے کہا کہ تشدد پر مبنی انتہا پسندی اور جرائم ایسے ممالک میں پروان چڑھتے ہیں جہاں انسانی حقوق کی پاسداری نہیں کی جاتی، جس کے باعث عدم استحکام، عدم سلامتی اور معاشی محرومی پیدا ہوتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بشار الاسد کی حکومت اذیت کے ہتھکنڈوں کے باضابطہ اور کھلے عام استعمال میں ملوث پائی گئی ہے، جس نے قتل عام کیا اور مشرق وسطیٰ کے اس ملک میں تقریباً تین برس سے جاری لڑائی کے دوران اپنے ہی لوگوں کو بے گھر کیا اور فاقہ کشی سے ہمکنار کیا۔

امریکی محکمہٴخارجہ کا کہنا ہے کہ روس میں اختلاف رائے کو دبانے کے ہتھکنڈے جاری رکھے گئے ہیں، جس میں اُس وقت تیزی آئی جب ولادیمیر پیوٹن صدارت کے عہدے پر دوبارہ براجمان ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماسکو نے ہم جنس پرستی کے خلاف قوانین بنائے اور شدت پسندی کے قوانین کو مذہبی اقلیتوں کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال کیا۔

حقوق انسانی کے بارے میں اس رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ چین میں شہری اور سیاسی حقوق کے لیے کمربستہ تنظیموں کو نشانہ بنانا عام سی بات ہے، اور یہ کہ سرکاری اہل کار وں نے انسانی حقوق کی آواز بلند کرنے والوں کے رشتہ داروں اور ساتھیوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کیوبا نے سفر کی پابندیاں نرم کی ہیں،جو اِس جزیرہ نما ملک سے باہر جانے والوں پر لگائی جایا کرتی تھیں۔

لیکن، رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کیوبا نے کچھ حزب مخالف کی شخصیات کی طرف سے پاسپورٹ کے اجرا کی درخواستوں کو مسترد کیا اور کیوبا لوٹنے پر اُنھیں ہراساں کیا جاتا ہے۔

محکمہٴخارجہ نے بتایا ہے کہ مصر کے معزول ہونے والے اسلام پسند صدر ٕمحمد مرصی اور عبوری فوجی حکومت نےحقوق انسانی کی خلاف ورزیاں جاری رکھی ہیں۔
XS
SM
MD
LG