رسائی کے لنکس

جرمنی نے پیر کو کہا کہ اس نے پناہ گزینوں کو جرمن آبادی میں ضم کرنے کے لیے سرکاری خزانے سے مزید 6.6 ارب ڈالر مختص کیے ہیں۔

پیر کی دوپہر آسٹریا کے راستے 2,500 پناہ گزینوں کی جرمنی آمد متوقع ہے۔

جرمنی کے علاقے بیویریا کے ایک عہدیدار نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر لگ بھگ 20,000 پناہ گزین جرمنی پہنچے تھے۔

اپر بیویریا کے عہدیدار کرسٹوفر ہلنبرانڈ نے کہا کہ آسٹریا کہ شہر سالزبرگ سے 2,100 پناہ گزینوں کو لانے والی تین ریل گاڑیوں کی ڈھائی بجے جرمنی آمد متوقع ہے۔ مزید 400 ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپیسٹ سے صبح پہنچیں گے۔

یہ واضح نہیں کہ سالزبرگ سے آنے والے مسافر میونخ ٹھہریں گے یا ریل گاڑی سے دیگر جرمن ریاستوں تک کا سفر جاری رکھیں گے۔ کرسٹوفر نے کہا کہ اس بات کی تفصیلات معلوم کی جا رہی ہیں۔

یورپ کے سب سے متمول ملک جرمنی نے پیر کو کہا کہ اس نے پناہ گزینوں کو جرمن آبادی میں ضم کرنے کے لیے سرکاری خزانے سے مزید 6.6 ارب ڈالر مختص کیے ہیں۔ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ پناہ کی آٹھ لاکھ درخواستوں پر غور کے لیے تیار ہے۔

ادھر ہنگری کے راستے یورپ داخل ہونے میں آسانی کی خبر سن کر مزید پناہ گزینوں کی یورپ آمد متوقع ہے۔

اتوار کو ہنگری کی طرف سے ہزاروں پناہ گزینوں کو سرحد تک جانے کی اجازت ملنے کے بعد سینکڑوں پناہ گزین ہنگری سے ریل گاڑیوں میں بیٹھ کر آسٹریا کے دارالحکومت ویانا پہنچے۔

آسٹریا میں پناہ گزینوں کی آمد پر پلیٹ فارم پر موجود عام لوگوں نے تالیاں بجا کر اور نعرے لگا کر ان کا استقبال کیا۔

مگر ہنگری میں ان کا تجربہ مختلف تھا۔ وہاں پولیس نے ان کو آسٹریا پہنچنے سے روکنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

بوڈاپیسٹ کے کیلیٹی اسٹیشن پر ہزاروں پناہ گزین جمع تھے مگر اتوار کی صبح تک اکثر پناہ گزین وہاں سے جا چکے تھے۔

ویانا میں امدادی کارکنوں اور دیگر رضاکاروں نے مہاجرین کو چائے، سیگریٹ، ٹافیاں، کھانا، کپٹرے اور کمبل وغیرہ فراہم کیے۔

شام سے فرار ہونے والے ایک میڈیکل طالب علم عبدالمالک الخالد نے کہا کہ جب وہ ریل گاڑی سے اترے تو جیسے ان کا پرجوش استقبال کیا گیا انہیں اس کا یقین ہی نہیں آ رہا۔

وہ جرمنی جانے کی تیاری کر رہے ہیں جہاں وہ جرمن حکومت کی مدد سے اپنی تعلیم مکمل کرنا چاہتے ہیں۔’’اگر میں نے اپنی تعلیم مکمل نہ کرنا ہوتی تو میں یہیں رہ جاتا۔ مگر تعلیم کے لیے جرمنی بہتر جگہ ہو سکتی ہے اس لیے میں وہاں جا رہا ہوں۔ مگر میرے خیال میں یہ زیادہ بہتر جگہ ہے۔ یہاں ہر کسی کا استقبال کیا جا رہا ہے۔‘‘

کچھ یورپی ممالک کی طرف سے اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ مسلمان مہاجرین کی یورپ آمد سے براعظم کی آبادی میں ڈرامائی تبدیلی واقع ہو سکتی ہے۔ یورپ میں کم شرح پیدائش کی وجہ سے آبادی انحطاط کا شکار ہے۔

ہنگری کے رہنماؤں نے ان خدشات کا اظہار کیا ہے کہ آسان راہداری کی خبر سن کر مزید پناہ گزین ہنگری کا رخ کریں گے۔ اس لیے ہنگری نے سرحد پر لگی باڑھ کو مضبوط کرنا شروع کر دیا ہے جہاں سے اکثر تارکین وطن غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہوتے ہیں۔ اتوار کو بھی سربیا سے سینکڑوں تارکین وطن ہنگری میں داخل ہوئے۔

XS
SM
MD
LG