رسائی کے لنکس

بدھ کو مختلف مقامات پر ایک درجن سے زائد دھماکوں میں کم از کم سات افراد ہلاک اور پچاس سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔

چین کے گوانشی صوبے میں جمعرات کو ایک اور دھماکا ہوا جہاں ایک روز قبل بھی مختلف مقامات پر ایک درجن سے زائد دھماکوں میں کم از کم سات افراد ہلاک اور پچاس سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔

سرکاری خبررساں ادارے شنخوا نے کہا ہے کہ تازہ ترین دھماکا لوئی زاؤ شہر میں ایک چھ منزلہ عمارت میں واقع ایک رہائش گاہ میں ہوا۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ اس میں کوئی جانی نقصان ہوا یا نہیں۔

سرکاری ذرائع ابلاغ نے لوئی زاؤ شہر کے حکام کے حوالے سے بتایا کہ ایک 33 سالہ شخص پر جس کا خاندانی نام وائی ہے یہ دھماکے کرانے کا شبہ ہے۔ کچھ خبروں میں کہا گیا ہے کہ مشتبہ شخص ایک جھگڑے کے نتیجے میں انتقامی کارروائی کر رہا ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے مگر حکام نے ابھی اس کے محرکات کی تصدیق نہیں کی۔

مقامی امن عامہ کے دفتر نے تصدیق کی 13 مختلف مقامات پر دھماکے ہوئے جن میں ایک شاپنگ مال، جیل، سپر مارکیٹ، ریلوے اسٹیشن، ایک اسپتال اور ایک بازار شامل ہیں۔ سرکاری خبررساں ادارے شنخوا نے کہا ہے کہ دھماکے ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والے پارسل بموں کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر ایک تصویر میں ایک عمارت کو جزوی طور پر تباہ، دوسری میں سڑکوں پر کاروں کو الٹے پڑے اور ایک اور تصویر میں بظاہر ایک دکان کے سامنے والے حصے کو دھماکے سے اڑا دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک اور تصویر میں ایک شخص کو ایک الٹی ہوئی کار کے نزدیک گرے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ اردگرد ملبہ پھیلا ہوا ہے۔

ایک اور تصویر میں دھویں کا ایک بادل ہوا میں سینکڑوں میٹر اوپر اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایک تصویر میں ایک سرکاری عمارت کی کھڑکیاں ٹوٹی دکھائی دے رہی تھیں۔

آن لائن خبروں کے مطابق یہ دھماکے ایک کے بعد ایک مختصر وقفے سے ہوئے۔

چین میں دیرینہ تنازعات میں پرتشدد واقعات عام ہیں مگر ایک ہی واقعے میں متعدد دھماکے شاذ و نادر ہی ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG