رسائی کے لنکس

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ایک شادی شدہ جوڑے کو مبینہ طور 'غیرت کے نام پر فائرنگ کر کے قتل' کر دیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ منگل کو پیش آیا اور قتل ہونے والے مرد اور عورت کا تعلق صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع چارسدہ سے تھا۔

پولیس کے مطابق دو سال قبل انہوں نے اپنے خاندان کی مرضی کے بغیر شادی کی تھی جس کے بعد وہ اپنی زندگی کو لاحق خطرات کی وجہ سے لاہور منتقل ہو گئے ۔

عورت کا نام کائنات بی بی اور مرد کا نام زر بادشاہ بتایا جاتا ہے۔ پولیس کے مطابق لڑکی کے بھائی شہر یار نے دو روز قبل لاہور کے علاقے نشتر کالونی میں واقعہ ایک گھر میں گولیاں مار کر کائنات اور زر بادشاہ کو قتل کر دیا۔

پولیس نے مقتول زر بادشاہ کے بھائی طارق عزیز کی درخواست پر مقدمہ درج کر کے اس کی تفتیس شروع کر دی ہے۔ نشتر کالونی کے پولیس اسٹیسن کے سب انسپکٹر محمد صدیق نے جمعرات کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کو تاحال گرفتار نہیں کیا جا سکا تاہم انہوں نے کہا کہ اس کی گرفتاری کے لیے کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ بظاہر نام نہاد غیر ت کے نام پر قتل کا واقعہ معلوم ہوتا ہے تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ وہ تمام پہلوں سے اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔

پاکستان میں ہر سال سینکڑوں کی تعداد میں خواتین اور بعض واقعات میں مرد اپنی پسند کے شادی کرنے یا رسم و رواج کے خلاف طرزعمل اختیار کرنے پر قتل کر دیئے جاتے ہیں

حکومت نے ایسے واقعات میں ملوث افراد کو سخت سزا دینے کے لیے نا صرف موثر قانون سازی کی ہے بلکہ پولیس اور انتظامیہ کو بھی ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدمات کی ہدایت دے رکھی ہے۔

صوبہ پنجاب کے کمیشن برائے حقوق نسواں کی چیئر پرسن فوزیہ وقار نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اگرچہ حکومتایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قوانین کو سخت سے سخت کر رہی ہے تاہم ان کے بقول اب بھیایسے واقعات کو روکنا ایک سماجی چیلنج ہے۔

" قانون میں یہ وضاحت ہے کہ غیرت کے نام پر جو قتل ہے اس میں صلح یا مفاہمت جائز نہیں ہے اور عدالت ان (مجرموں) کو سزا دے گی اگر وہ مفاہمت کی کوشش کریں گے۔۔۔ قانون مضبوط سے مضبوط ہوتا چلا جا رہا ہے مگر میں یہ کہوں گی کہ معاشرے میں یہ رویہ بھی نظر آتا ہے کہ (بعض) لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے سکتے ہیں۔"

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق رواں سال صوبہ پنجاب میں نام نہاد غیرت کے نام پر 49 افراد کو قتل کیا جا چکا ہے جن میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG