رسائی کے لنکس

پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے انتخابی نتائج اور اپنی ہار کو تسلیم کرلیا ہے۔ یوسف رضا گیلانی اور گورنر پنجاب نے ذمے داری قبول کرلی

پاکستانی اقتدار پر پچھلے پانچ برسوں تک راج کرنے والی دو بڑی سیاسی جماعتوں، پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے انتخابی نتائج اور اپنی ہار کو تسلیم کرلیا ہے ۔ پیپلز پارٹی کے دو اہم رہنماوٴں، یوسف رضا گیلانی اور گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود نے اس کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے اپنے اپنے عہدوں سے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔

اے این پی کے رہنما اسفند یار ولی نے انتخابی نتائج تسلیم کر تے ہوئے کہا کہ اکثریت حاصل کرنے والی جماعتوں کے مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہیئے۔

اس حوالے سے پارٹی کا پیر کو ایک اہم اجلاس بھی ہوا جس میں انتخابی عمل اور نتائج کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور کہا گیا کہ اکثریت حاصل کرنے والی سیاسی جماعتوں کے مینڈیٹ کا احترام کیا جاناچاہیئے۔

گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود کا کہنا ہے کہ انتخابی نتائج کے بعد وہ اخلاقی طور پر اس عہدے پر کام کرنے کے اہل نہیں رہے، جبکہ یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ انتخابات میں عوام نے ہمیں مسترد کر دیا جسے وہ قبول کرتے ہیں۔

مخدوم احمد محمود پی پی کی ہار کے ساتھ ہی سیاست سے بھی دستبردار ہوگئے ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ گورنر پنجاب کا عہدہ سنبھالتے وقت ان کی خواہش تھی کہ وہ مسلم لیگ فنکشنل کے ساتھ ہی اپنی سیاسی وابستگی برقرار رکھیں۔ لیکن، پارٹی قیادت نے خود انہیں جماعت سے نکالا کیونکہ ان کے قائد، سابق پیر پگارا پیر مردان شاہ مرحوم تھے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ پارلیمانی سیاست سے الگ ہو رہے ہیں۔ لیکن، ملک کی ترقی اور پیپلز پارٹی کے لئے کام کرتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے مستعفی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ صدر آصف زرداری بھی عہدہ چھوڑ دیں، ان کے اور صدر مملکت کے منصب میں فرق ہے۔ آصف زرداری آئینی طریقہ کار کے تحت منتخب ہوئے ہیں، جبکہ وہ صدر مملکت کے مقرر کردہ نمائندے تھے۔

اے این پی کی بدترین شکست کے بعد، بیگم خان عبدالوالی خان کی بیوہ اور بزرگ سیاستدان بیگم نسیم ولی خان نے سیاست میں واپسی کا اعلان کردیا ہے۔

پاکستان کے نجی ٹی وی چینل ’ایکسپریس نیوز‘ کے مطابق بیگم نسیم ولی خان نے ناراض کارکنان کے تحفظات دور کرنے اور پارٹی میں ایک بار پھر نئی روح پھونکنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہیلی کاپٹر اور بلٹ پروف گاڑیوں کے عادی سیاستدان قوم کی خدمت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ولی باغ کے دروازے پارٹی کے کارکنان کے لئے ہمیشہ کھلے ہیں۔

بیگم نسیم ولی خان کو 2003 ءمیں پارٹی کا صدر منتخب ہونے پر پارٹی کے موجودہ سربراہ اسفند یار ولی خان کی جانب سے کافی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعدازاں، ان سے یہ عہدہ واپس لے لیا گیا تھا جس کے بعد بیگم نسیم ولی خان نے 10 سال کا طویل عرصہ سیاست اور پارٹی کی سرگرمیوں سے علیحدہ گزارا اور وہ محض ولی خان یا باچا خان کی برسی میں ہی شریک ہوتی تھیں۔

خیبر پختونخوا کی سیاست میں بیگم نسیم ولی خان کو ’آئرن لیڈی‘ کے نام سے جانا تھا اور پارٹی میں نظم و ضبط قائم رکھنے کے حوالے سے بھی وہ کافی مشہور تھیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG