رسائی کے لنکس

بلدیاتی نظام 1979ء کی بحالی پر متحدہ قومی موومنٹ حکومت سے ناراض ہوکر علیحدہ ہوئی، جب کہ عوامی نیشنل پارٹی نظام کی بحالی کے معاملے پر خوش ہے

سندھ کے بلدیاتی نظام پر سیاسی جماعتوں کا حکمراں جماعت سے’روٹھنے‘ اور’منانے‘ کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک جماعت روٹھ کر الگ ہوتی ہے تو دوسری جماعت اتحاد میں دوبارہ شامل ہوجاتی ہے۔

گزشتہ ہفتے بلدیاتی نظام 1979ء کی بحالی پر متحدہ قومی موومنٹ حکومت سے ناراض ہوکر علیحدہ ہوئی تو عوامی نیشنل پارٹی نے بدھ کے روز اسی نظام کی بحالی پر خوش ہوتے ہوئے دوبارہ سے حکومت میں شامل ہونے کا اعلان کردیا۔

یہی نہیں بلکہ اے این پی نے اپنی جماعت سے تعلق رکھنے والے وزیرامیر نواب کو وزارت کا چارج دوبارہ سنبھالنے کی بھی ہدایت کر دی ہے۔

بدھ کو وزیراعلیٰ ہاوس سندھ میں عوامی نیشنل پارٹی اور پی پی رہنماوٴں کے اجلاس کے بعد اے این پی نے سندھ حکومت میں شامل ہونے کا باضابطہ اعلان کیا۔ اجلاس میں اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ امیر نواب جلد وزیرمحنت کا عہدہ دوبارہ سنبھال لیں گے۔

اس مو قع پر امیر نواب کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کی جانب سے متنازع بلدیاتی آرڈیننس بل واپس لینے کا فیصلہ اچھا اقدام ہے جس کے بعدہی اے این پی نے سندھ حکومت میں دوبارہ شمولیت کا فیصلہ کیا۔

گزشتہ سال کے آخری مہینوں میں اے این پی نے پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2012ء پرگورنر کے دستخط کئے جانے کے بعد اس کی شدید مخالفت کرتے ہوئے احتجاجاٌ حکومت سے علیحدگی کا اعلان کردیا تھا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ عشرت العباد آج بھی گورنر سندھ کے عہدے پر فائز ہیں لیکن لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 1979 پر دستخط قائمقام گورنر سندھ نثار کھوڑو نے کئے ہیں۔
XS
SM
MD
LG