رسائی کے لنکس

انٹارکٹکا:بچائے گئے مسافروں کی ساحل کی طرف روانگی


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

ارورا آسٹریلس نے واپسی کا سفر اس وقت شروع کیا جب وہاں برف میں پھنسی چینی ’سنو ڈریگن‘ نامی کشتی کے عملہ نے کہا کہ انہیں فی الوقت معاونت کی ضرورت نہیں۔

براعظم انٹارکٹکا میں پھنسی روس کی تحقیقاتی کشتی کے 52 مسافروں کو لے کر آسٹریلوی کشتی ہفتہ کو ساحل کی جانب روانہ ہوگئی ہے۔ اس سے قبل یہاں امدادی کام کے لیے آنے والی چینی کشتی کے برف میں پھنس جانے پر آسٹریلوی کشتی کو یہاں موجود رہنے کا کہا گیا تھا۔

ارورا آسٹریلس نے واپسی کا سفر اس وقت شروع کیا جب چینی کشتی ’سنو ڈریگن‘ کے عملے نے کہا کہ انہیں فی الوقت معاونت کی ضرورت نہیں اور ان کے پاس متعدد ہفتوں کی رسد موجود ہے۔


جمعرات کو ایک ہیلی کوپٹر نے چینی کشتی سے تمام 52 مسافروں کو ارورا آسٹریلس پر منتقل کیا گیا تھا۔

ایم وی اکیڈیمک شوکالسکیے نامی تحقیقاتی کشتی ایک ہفتہ قبل برف میں پھنس گئی تھی جس پر عملے کے 22 افراد سمیت کل 74 افراد سوار تھے۔ کشتی کے ڈوبنے کا کوئی خطرہ نہیں تھا اور اس پر کئی ہفتوں کی رسد بھی موجود تھی۔

شدید موسمی حالات کے باعث امدادی کارروائیوں کی کوششیں متاثر ہوتی آئی ہیں۔ چین، آسٹریلیا اور فرانس سے برف ہٹانے کے لیے لائی جانے والی مشینیں بھی روس کی پھنسی ہوئی تحقیقاتی کشتی تک نہیں پہنچ سکی تھیں۔

روسی کشتی 28 نومبر کو نیوزی لینڈ سے روانہ ہوئی تھی۔
XS
SM
MD
LG