رسائی کے لنکس

جرمنی: ریاستی انتخابات میں تارکین وطن کا معاملہ اہم موضوع


اے ایف ڈی پارٹی کی سربراہ فروک پیٹری (فائل فوٹو)

اے ایف ڈی پارٹی کی سربراہ فروک پیٹری (فائل فوٹو)

خیال کیا جارہا ہے کہ الٹرنیٹیو فوئر ڈوئچے لینڈ (اے ایف ڈ) کو وہ لوگ ووٹ دے سکتے ہیں جو مرخیل کی تارکین وطن کو جرمنی میں آباد کرنے کی پالیسی کے خلاف ہیں۔

جرمنی کی تارکین وطن مخالف جماعت کو اتوار کو ہونے والے علاقائی ریاست کے انتخابات میں ماضی کی نسبت زیادہ ووٹ ملنے کی توقع کی جارہی ہے۔

میکلن برگ ویسٹ پوم رانییا جو چانسلر آنگیلا مرخیل کا حلقہ انتخاب بھی ہے، میں تقریباً تیرہ لاکھ افراد ووٹ دینے کے اہل ہیں۔

خیال کیا جارہا ہے کہ الٹرنیٹیو فوئر ڈوئچے لینڈ (اے ایف ڈ) کو وہ لوگ ووٹ دے سکتے ہیں جو مرخیل کی تارکین وطن کو جرمنی میں آباد کرنے کی پالیسی کے خلاف ہیں۔

جرمنی نے تارکین وطن سے متعلق اپنے پروگرام کو وسعت دیتے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں شامی اور دیگر پناہ گزینوں کو اپنے ملک آنے کی اجازت دی تھی جو جنگ اور غربت کا شکار اپنے ملکوں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے۔

میڈیا میں سامنے آنے والی رپوٹس کے مطابق اے ایف ڈی نے مرخیل کے تارکین وطن سے متعلق پروگرام کے خلاف سخت مہم چلائی اور توقع کی جارہی ہے کہ اسی بنا پر اس انتخاب میں اسے زیادہ حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔

عوامی جائزوں کے مطابق مرخیل کی کرسچین ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) جماعت کو 22 فیصد ووٹ اور اے ایف ڈی کو ٹھوڑی سے برتری کے ساتھ 23 فیصد ووٹ ملنے کی توقع ہے جبکہ سوشل ڈیموکریٹس جماعت (ایس ڈی پی) کو 28 فیصد ووٹ ملنے کی توقع کی جارہی ہے۔

مرخیل جو چوتھی بار جرمنی کی چانسلر بننے کی کوشش کرنے پر غور کر رہی ہیں، نے 'اے ایف ڈی' کے تارکین وطن مخالف بیانات پر ووٹروں کو متنبہ کرتے ہوئے ووٹروں پر زور دیا کہ وہ مہم میں تقسیم کرنے والے بیانات کو نظر انداز کرتے ہوئے مستقبل کی طرف دیکھیں۔

انہوں نے جرمن نشریاتی ادارے ' این ڈی آر' کو بتایا کہ اگر ایک بڑی تعداد میں لوگ اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے تو اس صورت میں ان جماعتوں کے ووٹوں کی شرح کم ہو جائے گی جن کے پاس ان کے خیال میں "مسائل کا کوئی حل نہیں اور جو صرف احتجاج کر رہے ہیں ۔۔ اکثر جو نفرت پر (مبنی) ہے"۔

مرخیل نے مزید کہا کہ "ہر ووٹ کی اہمیت ہے۔ یہ انتخاب اس ریاست کے مستقبل کے بارے میں ہے"۔

میکلن برگ جرمنی کے شمال مشرق میں واقع ہے اور معاشی طور پر ایک کمزور ریاست ہے جہاں بے روزگاری کی شرح ملکی سطح کی نسبت زیادہ ہے۔ جرمنی میں یہ واحد علاقہ ہے جہاں انتہائی بائیں بازو کی جماعت نینشل ڈیموکریٹک جماعت کو ریاستی اسمبلی میں نمائندگی حاصل ہے۔ اگرچہ عوامی جائزوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اے ایف ڈی کی حمایت میں اضافے کی وجہ سے اس کی سیٹوں کی تعداد میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

جرمنی کی کم آبادی کی اس ریاست میں غیر ملکیوں کی تعداد نسبتاً کم ہے تاہم تارکین وطن کا معاملہ یہاں کی انتخابی مہم میں نمایاں رہا۔ اسی بنا پر 'اے ایف ڈی' حکمران جماعتوں پر تنقید کرتی رہی ہے۔

رواں سال جرمنی آنے والے تارکین وطن کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ عمومی طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ 2015 میں تقریباً 11 لاکھ تارکین وطن جرمنی میں داخل ہوئے۔

مرخیل کا اصرار ہے کہ "تارکین وطن کے بحران پر " ہم قابو پا لیں گے" تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ اس بارے میں " متنازع رائے موجود ہے"۔

XS
SM
MD
LG