رسائی کے لنکس

کراچی: سخت سکیورٹی میں انسداد پولیو مہم جاری


اگر سکیورٹی کی صورت حال کو یقینی بنایا جائے تو ہم اپنا کام ٹھیک طریقے سے انجام دے سکتے ہیں: پولیو رضاکار کی گفتگو

اتوار کے روز صوبہٴسندھ کے دارالحکومت، کراچی کے مختلف علاقوں میں پولیو مہم جاری رہی۔

بتایا گیا ہے کہ کراچی کی 14 یونین کونسلوں میں پولیو مہم چلائی گئی، جس میں ہزاروں بچوں کو بیماری سے بچاوٴ کے قطرے پلائے گئے۔ پولیو مہم کے دوران اِن علاقوں میں صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک، موٹر سائیکل چلانے پر پابندی عائد رہی۔

کراچی شہر کی صدر یونین کونسل کے علاقے، ہجرت کالونی کی ٹاوٴن ہیلتھ آفسر نے ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں بتایا کہ ’حکومت کی جانب سے اچھی سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے، جسمیں رینجرز اور پولیس شامل ہیں، جبکہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی اچھی حمایت حاصل ہو رہی ہے‘۔

انھوں نے مزید بتایا کہ 'پولیو کی ٹیمیں اپنی ڈیوٹی آسانی سے دے رہی ہیں۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز کو اب ایسا کوئی خوف نہیں، کیونکہ حکومت کی جانب سے اس بار بہترین سکیورٹی کے انتظامات کئے گئے ہیں'۔

ہجرت کالونی کے علاقے میں پولیو کے قطرے پلانےوالی ایک رضاکار نے بتایا کہ آج ایسا کوئی خوف طاری نہیں ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگر سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے، تو ہم اپنا کام ٹھیک طریقے سے انجام دے سکتے ہیں۔

رضاکاروں کی مہم کے دوران، اجرت کے حوالے سے، ان کا کہنا تھا کہ ایک روز کی 250 روپے معاوضہ کم ہے، اور حکومت کو چاہئیے کہ اس میں اضافہ کیا جائے۔

پولیو کے قطرے پلوانے والے ایک بچے کے والد کا کہنا تھا کہ ’ہمارے گھر جب بھی پولیو ٹیم آتی ہے، ہم بچوں کو قطرے پلواتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ حکومت ایک سہولت فراہم کر رہی ہے، اور گھر گھر قطرے پلانے کے کام کو عوام کی جانب سے بھی پذیرائی ملنی چاہئیے تا کہ بچے معذوری سے بچ سکیں۔

گو کہ کراچی شہر کے ہجرت کالونی میں بھی تین سال پہلے پولیو وائرس سے متاثرہ ایک کیس سامنے آیا تھا، جس لحاظ سے پولیو وائرس کے حوالے سے اس علاقے کو حساس قرار دیا گیا تھا۔

کراچی شہر کی 14 یونین کونسلوں میں پولیو بچاوٴ کے قطرے پلائے گئے جن میں صدر یونین کونسل، سائٹ، گلبرگ، اورنگی ٹاوٴن، گلشن اقبال، بلدیہ ٹاون، اور گڈاپ ٹاوٴن میں قطرے پلائے گئے ہیں، جبکہ باقی یونین کونسلوں میں پیر کے روز پولیو مہم چلائی جائے گی۔

کراچی کے پولیس سربراہ، شاہد حیات نے نجی چینلز سے گفتگو میں بتایا ہے کہ، سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے، اور شہر کے کسی علاقے سے کسی ناخوشگوار واقعے کی کوئی رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔

انتظامات کے حوالے سے، شاہد حیات کا کہنا تھا کہ اِن پر سکریٹری ہیلتھ اور عملے نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ اتوار کے روز کراچی کی 19 یونین کونسلوں میں پولیو سے بچاوٴ کے قطرے پلائے گئے جبکہ حکمت عملی کے تحت سچل اور قائدآباد کی 5یونین کونسلز میں پولیو کے قطرے کل پلائے جائیں گے۔

واضح رہے کہ جنوری میں، پولیو ٹیم کو نشانہ بنائے جانے کے بعد، حکومتِ سندھ کی جانب سے رینجرز اور پولیس کی مدد سے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

پاکستان میں پولیو وائرس کے کیسز بدستور سامنے آ رہے ہیں، اور رواں سال کے پہلے دو ماہ میں، ان کیسز کی تعداد 21 ہوچکی ہے۔
XS
SM
MD
LG