رسائی کے لنکس

’انسداد دہشت گردی، پاکستانی کوششیں قابل ستائش‘


امریکی انٹیلی جینس رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ ’پاکستانی فوج قبائیلی علاقے اور صوبہٴ خیبر پختون خواہ میں بدستور تعینات ہے‘؛ اور یہ کہ، ’نارتھ وزیرستان میں جاری زمینی کارروائی کے ذریعے ریاست مخالف مسلح جنگجووٴں کا ان کےمحفوظ ٹھکانوں میں صفایا کیا گیا ہے‘

امریکی میرین کور کے ایک اہل کار نے کہا ہے کہ پاک افغان سرحد پر دہشت گردی کے خلاف پاکستان ’موٴثر کارروائی کر رہا ہے‘۔

یہ بات ڈائریکٹر جنرل ڈیفنس انٹلی جنس ایجنسی، لیفٹنٹ جنرل وینسنٹ اسٹوارڈ نے کانگریس کی ’آرمڈ فورسز کمیٹی‘ کی سماعت میں پیش کردہ رپورٹ میں کہی، جس کا اجلاس بدھ کو ہوا۔

اُنھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ’پاکستانی فوج قبائیلی علاقے اور صوبہ خیبر پختون خواہ میں بدستور تعینات ہے‘؛ اور یہ کہ، ’نارتھ وزیرستان میں جاری بری کارروائی کے ذریعے ریاست مخالف مسلح جنگجووٴں کا ان کےمحفوظ ٹھکانوں میں صفایا کیا گیا ہے‘۔

اُنھوں نے اِس توقع کا اظہار کیا ہے کہ ’پاکستان فوج سال 2015ء میں بھی اِن مسلح جنگجووٴں کو اُن کے گڑھ میں نشانہ بناتی رہے گی‘۔

تحریک طالبان پاکستان نے دسمبر میں پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملہ کرکے 144 افراد کو ہلاک کیا تھا، جن میں سے اکثر بچے تھے۔ اس واقعہ نے ریاست مخالف مسلح افراد اور ان کی قیادت کے خلاف فضائی کارروائی سمیت فوج کے عزم کو نیا حوصلہ دیا۔

حکومت اور پاکستان فوج مل کر دہشت گردی کے خلاف ایک ’قومی ایکشن پلان‘ پر عملدرآمد کے لئے کوشاں ہیں، جس میں خصوصی فوجی عدالتوں کا قیام بھی شامل ہے۔

بقول جنرل وینسنٹ اسٹوارڈ، جاری آپریشن کے ساتھ ساتھ پاکستان کو مستقبل میں مسلح گروہوں، فرقہ واریت اور علیحدگی پسندوں کے خطرات کا سامنا رہے گا؛ جب کہ اسے ’آئی ایس آئی ایل‘ اور جنوبی ایشیاٴ کے پروپیگنڈے پر بھی تشویش رہے گی۔

XS
SM
MD
LG