رسائی کے لنکس

ہمیں ایکٹنگ اکیڈمیز میں پاکستانی ڈرامے پڑھائے جاتے تھے۔ بھارتی آرٹسٹس ہمیشہ سے چاہتے تھے کہ پاکستانی ڈرامے بھارت میں دکھائے جائیں اور بالآخر طویل عرصے کی کوششوں کے بعد ا ب پاکستانی ڈرامے بھارتی ناظرین تک پہنچ گئے۔۔

بالی وڈ کے منجھے ہوئے اداکار انوپم کھیر کے پرستاروں کی پاکستان میں کمی نہیں۔۔۔لیکن اسٹیج کے کئی ہٹ کھیل اور سلور اسکرین کی متعدد بلاک بسٹر فلمیں اپنے کریڈٹ پر رکھنے والے انوپم کھیر جس چیز کے فین ہیں وہ ہے پاکستانی ڈرامے، ان میں دکھائی جانے والی کہانیاں اور ان میں استعمال ہونے والی شستہ اردو زبان۔۔

انوپم کھیر جو فلم میں اپنے کردار کے مطابق مختلف زبانوں کو بہترین انداز میں بولنے کے حوالے سے بھی شہرت رکھتے ہیں، پاکستانی ڈراموں میں بولی جانے والی زبان کو بہترین قرار دیتے ہیں۔ بقول انوپم کھیر، ’پاکستانی ڈراموں کی اردو، اداکاروں کی ڈائیلاگ ڈلیوری اور روانی سب کمال کا ہے۔ میں پاکستانی ڈراموں سے بہت متاثر ہوں۔ پاکستانی ڈرامے بھارت میں ویسے ہی پسند کئے جاتے ہیں جیسے بالی وڈ فلمیں پاکستان میں۔۔‘

انوپم کھیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ، ’ہمیں ایکٹنگ اکیڈمیز میں پاکستانی ڈرامے پڑھائے جاتے تھے۔ بھارتی آرٹسٹس ہمیشہ سے چاہتے تھے کہ پاکستانی ڈرامے بھارت میں دکھائے جائیں اور بالآخر طویل عرصے کی کوششوں کے بعد اب پاکستانی ڈرامے بھارتی ناظرین تک پہنچ گئے۔۔پاکستانی اور بھارتی فنکار مشترکہ پروجیکٹس کریں تو دونوں ملکوں کے آڈینز کو معیاری فلمیں اور ڈرامے دیکھنے کو ملیں گے۔‘

فلموں میں ہر طرح کا کردار ادا کرنے سے لے کر ٹی وی شو ’دی انوپم کھیر شو۔۔کچھ بھی ہوسکتا ہے‘ کی میزبانی تک، شوبز کے طویل اور کامیاب سفر کے بعد اب کیا ایکٹنگ سے الگ ہوکر فلم میکنگ کریں گے، اس بارے میں بھارتی اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق انوپم کھیر کا کہنا تھا کہ وہ ابھی بیک سیٹ سنبھالنے کے لئے تیار نہیں، کیونکہ ابھی تو وہ اپنے ایکٹنگ کیرئیر کے ’انٹرویل‘ تک بھی نہیں پہنچے۔ انوپم کھیر کے بقول، وہ آئندہ 30برس تک کام کرسکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG