رسائی کے لنکس

ٹرین کے کرائے سستے کرنے کا مقصد عوامی سہولت ہے۔۔ لیکن، زمینی حقائق یہ افسوسناک پہلو اجاگر کرتے نظر آتے ہیں کہ کرائے میں کمی کے اعلان کے بعد، ریلوے ٹریکس پر دھماکوں میں اضافہ ہوگیا ہے

پاکستان میں ٹرین ’عوامی سواری‘ کا درجہ رکھتی ہے۔ کم خرچ پر آرام دہ سفر اور بہت سی سہولیات۔۔ اس کی سب سے بڑی دلکشی ہیں۔ لیکن، گزشتہ ادوار میں ٹرینوں میں کئی کئی گھنٹوں کی تاخیر، انجن کے بار بار فیل ہوجانے اور دیگر کئی ایسے مسائل تھے جو اس کی نیک نامی کو داغدار بنا رہے تھے۔

اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ عوام ٹرین کے سفر سے دور بھاگنے لگی یہاں تک کہ محکمہ ریلوے لاکھوں اور کروڑوں روپے کے خسارے میں چلا گیا۔ لیکن، اس کے مقابلے میں پرائیوئٹ ٹرانسپورٹرز کا کاروبار چمکا اور چمکتا ہی چلا گیا۔ مسافروں کی بھرمار سے فائدہ اٹھانے کے لئے ٹرانسپورٹ مافیا نے کرایوں میں سال میں کئی کئی مرتبہ من مانا اضافہ کردیا اور جواز ٹھہرایا گیا ایندھن کی قیمتوں اور مہنگائی کو۔

ریلوے کی اس زبوں حالی کو دور کرنے کے لئے موجودہ وزیر خواجہ سعد رفیق نے بہت سے حوصلہ افزا اقدامات کئے جن میں ایک اقدام کرائے میں کمی بھی ہے۔ ظاہر ہے اس اقدام کا مقصد زیادہ سے زیادہ مسافروں کو ٹرین کے سفر پر آمادہ کرنا تھا۔ لیکن، زمینی حقائق یہ افسوسناک پہلو اجاگر کرتے نظر آتے ہیں کہ کرائے میں کمی کے اعلان کے بعد ریلوے ٹریکس پر دھماکوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔

بعض آزاد خیال مبصرین اور تجزیہ نگاروں کاخدشہ ہے کہ ان دھماکوں کے پیچھے ’ٹرانسپورٹ مافیا‘ کا ہاتھ بھی ہوسکتا ہے۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کے دوران اس خیال کے جواز میں وہ بہت سے دلائل بھی پیش کرتے ہیں جن کا ذیل میں جائزہ لیا گیا ہے۔

کراچی کے علاقے گلشن اقبال کے رہائشی محسن شاہ کہتے ہیں: ’نئی حکومت کے وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے 27جولائی2013ء کو پہلی مرتبہ یہ خوشخبری عوام کو دی کہ ریلوے کے کرائے میں 57فیصد کمی کردی گئی ہے۔ اتنی بڑی شرح کے حساب سے کرایوں میں کمی یقیناً بہت بڑا اقدام تھا۔ کیوں کہ، ایسا پہلی بار ہوا تھا۔ اس اعلان سے مسافر ٹرینوں میں دوبارہ سے جان سی پڑنے لگی۔ تاہم، بعض نجی ٹرانسپورٹرز خسارے میں آگئے۔ میرا ذاتی نظریہ یہ ہے کہ ریلوے ٹریکس پر دھماکوں کا مقصد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لوگ ٹرنیوں کے سفر سے ایک مرتبہ پھر دور ہوجائیں اور ان کے پاس پھر سے پیسے کی ریل پیل ہوجائے۔‘

کرایوں میں کمی کا سب سے بڑا فائدہ عوام نے گزشتہ سال عیدالفطر کے موقع پر اگست میں اٹھایا۔ اندرون ملک جانے والے مسافروں کی اکثریت نے نجی گاڑیوں کے بجائے ریلوے سے سفر کیا۔ جو ریلوے اسٹیشن مسافروں کو ترسنے سے لگے تھے اب وہاں دوبارہ رونقیں بحال ہوتی نظر آئیں۔

پاکستان ریلوے کے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ سید منور شاہ کے بقول، ’ریکارڈ پر یہ بات بھی محفوظ ہے کہ اس موقع پر مسافروں کی بڑھی ہوئی تعداد کو کھپانے کے لئے ناصرف راولپنڈی سے لاہور، کراچی، کوئٹہ اور ملتان کے لئے اضافی ٹرینیں چلائی گئیں۔ بلکہ، تین نئی کوچز بھی بڑھانا پڑیں۔ ان میں ایک اے سی اور دو سلیپر کوچز شامل ہیں۔‘

سید منور شاہ کے مطابق کرایوں میں کمی کے اعلان کے بعد ہر روز 1500افراد نے راولپنڈی سے لاہور کا سفر کیا جس سے ریلوے کو لاہور جانے والی صرف چار ٹرینوں سے ایک یوم میں 46لاکھ روپے کی اضافی آمدنی ہوئی۔ اسی طرح، کراچی آنے والی تین ٹرینوں میں یومیہ 1400مسافروں نے ریلوے سے سفر طے کیا، جس سے ساڑھے چودہ لاکھ روپے سے زیادہ کی آمدنی ہوئی۔ مزید برآں پنڈی سے کوئٹہ تک یومیہ 350 اور ملتان تک یومیہ 600مسافروں نے سفر کرکے ریلوے کو مجموعی طور پر 34لاکھ روپے کا ریونیو فراہم کیا۔

مسافروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ جو اسٹیشن ویران ہوگئے تھے، وہاں مسافروں کے رش کا عالم یہ ہوا کہ انتظامیہ کو ٹکٹ کاوٴنٹرز کی تعداد 2سے بڑھا کر 6کرنا پڑی۔

کرایوں میں کمی سے مسافروں کی تعداد بڑھانے کا فارمولا کامیاب ہوا تو وزارت ریلوے نے 6 اکتوبر 2013ء کو عید الاضحی کے موقع پر ایک مرتبہ پھر کرایوں میں 25فیصد کمی کا اعلان کیا۔ وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے اعلان کیا کہ لاہور سے کراچی آنے والی ائیر کنڈیشنڈ بزنس ٹرینوں کا کرایہ چار ہزار روپے سے کم کرکے 3ہزار کیا جارہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے سلیپرز کے کرایوں میں بھی حیران کن کمی کا اعلان کیا۔

تجزیہ نگاروں کی رائے کا مشاہدہ کرنے کے لئے نمائندے نے سہراب گوٹھ، ایم اے جناح روڈ ، پرانی سبزی منڈی اور دیگر علاقوں میں واقع نجی بسوں اور ڈائیوو سروس کے دفاتر کا دورہ کیا تو معلوم ہوا ہے کہ ٹرین کے مقابلے میں نجی بسوں کے کرایوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ڈائیوو بس سروس کا کراچی پنڈی کرایہ4350، پشاور 4400، لاہور3800 اور ملتان 2850روپے ہے جبکہ ٹرین کا کرایہ اس کے مقابلے میں کئی گناہ کم ہے۔ ریلوے کے سستے کرائے، سفر محفوظ اور متعدد دیگر سہولیات کے مقابلے میں بھلا مہنگے داموں والی بسوں میں کون بیٹھے گا؟ ماسوائے ایسی صورت میں جب ٹرینیں غیر محفوظ بنادی جائیں۔

ادھر، تصویر کا رخ دیکھیں تو جولائی اور اگست کے دوران کرایوں میں کمی کے اعلان کے ساتھ ہی ریلوے ٹریکس پر دھماکے ہونے لگے۔ جولائی 2013سے فروری 2014ء تک کی آٹھ ماہ کی مدت کے دوران بارہ مرتبہ دھماکے ہوئے۔ یہ دھماکے بالترتیب 28جولائی ، 6، 16اور 21اگست ، 8ستمبر ، 21اکتوبر ، 5نومبر2013ء ، 12جنوری ، 4، 16اور 20فروری 2014ء کو صوبہ سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے مختلف شہروں میں ہوئے۔

مبصرین اور حالات کا گہرائی سے تجزیہ کرنے والوں کے مطابق، اگرچہ تمام دھماکوں کو کرایوں میں کمی سے جوڑا نہیں جاسکتا کیوں کہ ملک میں ٹرین پر حملوں کی تاریخ عشروں پرانی ہے۔ لیکن، اس بات میں کوئی دورائے نہیں کہ دھماکوں میں اچانک اضافے کی وجہ پاکستان ریلوے پر عوام کا بڑھتا ہوا اعتماد اور نجی ذرائع نقل و حمل پر رش کی کمی بھی ہے۔ ٹرانسپورٹ مافیا اپنی آمدنی کو کم ہوتا نہیں دیکھ سکتی۔ لہذا، اس بات کا امکان رد نہیں کیا جاسکتا کہ دھماکوں میں ٹرانسپورٹ مافیا بھی ملوث ہوسکتی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ہم محض نشاندہی کرسکتے ہیں اب سچائی پر سے مکمل پردہ اٹھانے کی ذمے داری سیکورٹی اداروں اور متعلقہ محکموں کی ہے۔ کچھ مہینوں بعد اسکولوں کی گرمی کی چھٹیاں ہوں گی، یہ وہ موسم ہے جبکہ لوگوں کی اکثریت ایک شہر سے دوسرے شہر کا سفر کرتی ہے اور ٹرینوں میں تل دھرنے تک کو جگہ نہیں ہوتی۔ ایسے میں ریلوے پولیس، انتظامیہ اور حکومت سمیت سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس پہلو پر نظر ضرور رکھے کہ کہیں سستے کرائے ٹرین پر حملوں اور دھماکوں کا سبب تو نہیں؟
XS
SM
MD
LG