رسائی کے لنکس

منافع میں کمی کیوں؟ ایپل کے سربراہ کی تنخواہ میں کٹوتی


ایپل کے سربراہ ٹم کک (دائیں) پے پال کے پیٹر تھیل، نیویارک میں ٹیکنالوجی کے ایک اجلاس میں مسٹر ٹرمپ کے ہمراہ، 14 دسمبر 2016

ایپل کے چیف ایکزیکٹو ٹم کک کو 2016 میں 87 لاکھ 50 ہزار ڈالر ملے جب کہ اس سے پچھلے سال کمپنی نے انہیں ایک کروڑ ڈالر سے زیادہ ادا کیے تھے۔

الیکٹرانکس کی دنیا کی معروف کمپنی اپیل کے چیف ایکزیکٹو آفیسر ٹم کک 2016 کے لیے اپنی تنخواہ کی تمام مراعات حاصل نہیں کر سکے، کیونکہ کمپنی کی مصنوعات کی فروخت مقررہ اہداف سے کم رہی۔

آمدنی اور منافع میں کمی کے باعث 2016 کے لیے انہیں 89.5 فی صد مالی مراعات دی گئیں، جب کہ 2015 میں انہیں100 فی صد فوائد ملے تھے۔

خبروں کے مطابق چیف ایکزیکٹو ٹم کک کو 2016 میں 87 لاکھ 50 ہزار ڈالر ملے جب کہ اس سے پچھلے سال کمپنی نے انہیں ایک کروڑ ڈالر سے زیادہ ادا کیے تھے۔

ذرائع کے مطابق ٹم کی بنیادی تنخواہ 30 لاکھ ڈالر ہے جو اس سے پچھلے سال کے مقابلے میں 20 لاکھ ڈالر زیادہ ہے۔ انہیں اپنی بنیادی تنخواہ کے علاوہ 57 لاکھ 70 ہزار ڈالر کی مالی مراعات بھی ملیں جب کہ 2015 میں اس مد میں انہیں 80 لاکھ ڈالر ادا کیے گئے تھے۔ ایپل نے انہیں دیگر مراعات کے سلسلے میں مزید تین لاکھ 77 ہزار ڈالر سے زیادہ رقم بھی فراہم۔

سن 2016 میں ایپل کو اپنی مصنوعات کی فروخت سے دو کھرب 16 ارب اور 60 کروڑ ڈالر کی آمدنی ہوئی جو مقررہ ہدف دو کھرب 23 ارب اور 60 کروڑ ڈالر سے 3.7 فی صد کم ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ہدف حاصل کرنے میں کمی کا سبب آئی فون کی فروخت میں کمی اور مارکیٹ کی سست روی ہے۔

آپ کی رائے

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG