رسائی کے لنکس

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان حکومت کو 24 اپریل تک کی مہلت دیتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ اس کے بعد وہ حکومت کے خلاف اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

پاکستان میں حزب مخالف کی جماعتوں نے پاناما پیپرز میں کیے گئے انکشافات کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک کمیشن کی تشکیل پر اتفاق کیا ہے۔

حزب مخالف کی جماعتوں نے وزیراعظم نواز شریف سے کہا ہے کہ وہ کمیشن بنانے کے لیے عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کو خط لکھیں۔

وزیراعظم نواز شریف جو کہ منگل کی شب ہی اپنے علاج کے بعد برطانیہ سے وطن واپس لوٹے تھے اُن پر اس معاملے میں حزب مخالف کی طرف سے دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

حکومت اور حزب مخالف اب تک تحقیقات کے لیے کسی طریقہ کار پر متفق نہیں ہو سکے ہیں۔

حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کے خلاف احتجاج کو وسعت دینے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس کے لیے اس نے حزب مخالف کی دیگر جماعتوں سے رابطے بھی شروع کر رکھے ہیں۔

دیگر جماعتوں کی طرف سے وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ تو سامنے نہیں آیا لیکن یہ سب نواز شریف کی طرف سے سپریم کورٹ کے ایک سابق جج کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن بنانے کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان حکومت کو 24 اپریل تک کی مہلت دیتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ اس کے بعد وہ حکومت کے خلاف اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پاناما لیکس میں وزیراعظم نہیں بلکہ ان کے بچوں کے نام آئے ہیں اور اس معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے حکومت پرعزم ہے۔

پاناما لیکس میں انکشاف سے پاکستان میں سیاسی کشمکش تو جاری ہے لیکن اسی دوران لاہور ہائی کورٹ کے اس ایک جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں درخواست دائر کی گئی ہے جن کا نام بھی پاناما لیکس میں آیا تھا۔

عدالت عالیہ کے موجود جج جسٹس فرخ عرفان خان کے خلاف دائر کی گئی درخواست میں ان کے خلاف غیر قانونی طریقے سے رقم کی منتقلی میں ملوث ہونے، اپنے عہدے کے غلط استعمال اور غیر قانونی اثاثے رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔

شائع شدہ اطلاعات کے مطابق یہ درخواست ایک سابق بیوروکریٹ نذر چوہان کی طرف سے بیریسٹر سید جاوید اقبال جعفری نے دائر کی ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ باوجود اس کے کہ وہ لاہور ہائی کورٹ کے موجود جج ہیں وہ لاہور اور دبئی میں اپنی لا فرم چلا رہے ہیں۔

اس بارے میں مذکورہ جج یا لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

XS
SM
MD
LG