رسائی کے لنکس

ڈاکٹر اے کیو خان نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ: ’اگر آپ اپنے بچوں کو معذور ہونے سے بچانا چاہتے ہیں تو انہیں فوری پولیو کے قطرے پلایئے۔ ہم نے بھی یہ قطرے پیئے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی پلائے ہیں۔ پھر، آپ کیوں ایسا نہیں کرتے‘

پاکستان پولیو کے خلاف بہت تندہی سے جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس جنگ میں ہر روز بڑے بڑے نام شامل ہو رہے ہیں۔

انہی بڑے ناموں میں سے ایک نام پاکستان کے نامور سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا ہے، جنہوں نے کراچی کے ضلع وسطی میں عوام کے لئے عوامی سطح پر چلائی جانے والی انسداد پولیو مہم کا افتتاح اپنے ہاتھوں کیا۔

ڈاکٹر اے کیو خان نے اس موقع پر ہر پاکستانی کے لئے مختصر مگر انتہائی جامع پیغام دیا۔ بقول اُن کے: ’اگر آپ اپنے بچوں کو معذور ہونے سے بچانا چاہتے ہیں تو انہیں فوری پولیو کے قطرے پلایئے۔ ہم نے بھی یہ قطرے پیئے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی پلائے ہیں پھر آپ کیوں ایسا نہیں کرتے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ملک سے پولیو کا جتنی جلد خاتمہ ہوگا قوم اتنی ہی جلد بیماریوں سے محفوظ رہ سکے گی۔ اپنے اور اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ بنانے کے لئے دو قطرے پلان الازمی ہیں۔‘

انہوں نے اپنے قول کی عملی تصویر پیش کرتے ہوئے کئی بچوں کو اپنے ہاتھوں سے پولیو کے قطر ے پلائے۔

ڈسٹرکٹ سنیٹرل کراچی کے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمٰن بھی اس موقع پر موجو د تھے جنہوں نے میڈیا سے بات میں کہا کہ ’اب جبکہ ڈاکٹر قدیر خان جیسی بڑی شخصیت اس مہم میں شامل ہوگئی ہے تو اب کوئی وجہ نہیں رہ جاتی کہ لوگ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے نہ پلوائیں۔‘

وائس آف امریکہ کے ایک سوال پر ڈاکٹر سیف الرحمٰن کا کہنا تھا: ’کراچی کا ڈسٹرکٹ سینٹرل گنجان آبادی، بڑے پیمانے پر پھیلی کارباری و صنعتی سرگرمیوں کے لحاظ سے بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے ۔۔۔اور چونکہ میں ایک ڈاکٹر بھی ہوں لہذا اخلاقی طور پرمیری دوہری ذمے داری بنتی ہے کہ پولیو کے خلاف جاری جنگ میں حکومت کے ہاتھ مزید مضبوط کروں۔ پاکستان کو دہشت گردی سے جنگ کے ساتھ ساتھ پولیو کے خلاف جاری جنگ میں بھی فتح حاصل کرنا ہوگی۔۔کیوں کہ دوسرا کوئی آپشن ہمارے پاس موجود نہیں۔‘

ایک سوال پر، انھوں نے کہا کہ، ’ضلع وسطی میں تین لاکھ 43ہزار چار سو تین بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کاہدف مقررہے۔اس ہدف کو آسان بنانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے گئے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک کا ایک بھی بچہ پولیو کے قطرے پینے سے محروم نہ رہ جائے ۔ اس کے لئے 49 یونین کونسل میڈیکل آفیسرزاور276 ایریاانچارجز سمیت ایک ہزار 173ٹیمیں بنائی گئی ہیں جبکہ ہر یونین کونسل میں فکس سائٹس کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔‘

اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اگرچہ منزل کچھ دور سہی لیکن فتح بلاخر ہماری ہی ہوگی۔ قطرے پلانے والے رضاکار خود چل کر عوام کے گھروں پر پہنچ رہے ہیں، میرا اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کا ہر شخص کو یہی پیغام ہے کہ رضاکاروں کا تہہ دل سے خیر مقدم کریں اور اپنے بچوں کویہ قطرے ضرور ۔۔۔ضرور پلوائیں۔‘

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG